چاروں مرد ایک ہی لڑکی کو بے دردی سے پیٹ رہے تھے ان میں محرم اور نامحرم

چاروں مرد ایک ہی لڑکی کو بے دردی سے پیٹ رہے تھے ان میں محرم اور نامحرم دونوں شامل تھے ان کے پاس ایک ہی جواز تھا کہ یہ ایک لڑکے سے ملنے جاتی ہے ۔ اس لڑکی کی چیخیں آسمان کو چھو رہی تھیں اور وہ ٹوٹے الفاظ میں پانی مانگ رہی تھی اس کی معذور بہن جس کی ایک ٹانگ بیدی کی وجہ سے انتہائی کمزور تھی وہ نہایت مشکل سے چل کر اس کے لئے پانی لاتی لیکن پانی پٹنے والی لڑکی پر ہی پھینک دیا جاتا اور اس کی

معذور ر بہن کو دھکا دے دیا جاتا وہ پھر نئے عزم کے ساتھ اٹھتی اور دوبارہ پانی لاتی پھر دوبلہ وہی حال ہوتا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ، دس منٹ تک ایسا ہی ہوتا رہا اب کی بار وہ پانی لائی تو وہ چاروں ایک طرف کو تین اپنے بازو سہلا رہے تھے ساکت پڑی ہوئی تھی وہ سمجھی بے ہوش ہے اس نے اپنی بہن کے چہرے پر پانی ڈالا لیکن کوئی حرکت نہ ہوئی اس کے بعد لڑکی کا باپ اندر داخل ہوا اور پیٹنے

والی لڑکی کے سر پر پوری قوت کے ساتھ کلہاڑا مار دیا کلہاڑا سر کے اندر تک سرایت کر گیا لیکن لڑکی کے ساکت جسم میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی شاید وہ پہلے ہی مر چکی تھی یہ منظر دیکھ کر معذور بہن چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی ۔ صبح پورے علاقے میں خبر پھیل چکی تھی ، جنڈے میں آنے والوں کو اس کا جسم دیکھ کر اس پر ہوۓ ظلم کا اندازہ ہو رہا تھا ہاں ایک مہربانی کی گئی تھی اس کے سر کو چادر سے ڈھانپ دیا گیا

تھا ورنہ کئی کمزور لوگوں کے دل پھٹ جاتے لیکن باپ سمیت وہ چاروں مرد سینہ تان کے بیٹھے تھے بقول ان کے وہ ایک بادچلن لڑکی کو عبرت کا نشان بنا چکے تھے لیکن لوگوں کی زبان پر ایک ہی لفظ تھا اے اس لڑکے کے ساتھ نکاح کر دیتے نہ کبھی اس کی شکل دیکھتے اور نہ دکھاتے ۔ ٹھیک گیارہ سال بعد ایک دن وہی باپ انتہائی غصے میں گھر داخل ہوا اور چھوٹے بیٹے کے سر چلانے لگا مجھے خبر ملی ہے کہ تیرا کسی لڑکی سے چکر

چل رہا ہے تو اس سے ملتا بھی رہتا ہے تجھے پتا بھی ہے تیرا نکاح کسی اور جگہ ہو چکا ہے پھر بھی دوسری جگہ منہ ملتے ہوۓ تمہیں شرم نہیں آتی ۔ غیرت مند مرد ایسے نہیں ہوتے جواب میں اس کے بھائی نے کہا ٹھیک ہے ایا دوبارہ شکایت نہیں ملے گی اور اس بات ختم ہو گئی تھی معذور بہن کا دماغ ماؤف ہونے لگا آج قانون بدل گیا آج کیوں نہیں چار مردوں کو پیٹے کے لیے بلایا گیا آج کیوں نہیں کلہاڑا ڈھونڈا گیا کیا بد چلن صرف عورت ہی ہوتی ہے اس نے روتے ہوئے اپنی ماں سے سوال کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *