شناختی کارڈ

کافی رات ہو گئی تھی لیکن رازی ابھی تک جاگ رہا تھا وہ تصویر مکمل کیے بغیر سونا نہیں چاہتا تھا اس تھوڑی دیر پہلے ہی ماما کمرے میں آئی تھیں اور پوچھا تھا کہ تمہارے کمرے کی لائیٹ کیوں چل رہی ہے ابھی تک سوئے کیوں نہیں ،رازی نے ماما کو بتایا کہ سکول میں مصوری کا

مقابلہ ہے جس کی پینٹنگ سب سے اچھی ہو گی اس کو انعام ملے گا اور پینٹنگ شہر میں ہونے والی ایک بڑی نمائش میں رکھی جائے گی ۔ ماما اسے شب خیر کہہ کر اور جلد سونے کی تاکید کرکے چلی گئی تھیں اب رازی برش،رنگ وغیرہ لے کر بیٹھا تھا کہ کوئی بہت زبردست شاہکار قسم کی تصویر بناؤں لیکن جو آئیڈیا بھی اس کے ذہن میں آتا تھا رازی اس کے بارے میں یہی سوچتا کہ نہیں کوئی اور اس سے بھی اچھا،اب رات گہری ہو گئی رازی نے سوچا کہ وہ تصویر بنانا شروع کر تاہے آئیڈیاز ساتھ ساتھ آتے جائیں گے ۔ اچانک ہی اسے یاد آیا کہ آج شام کو پارک سے آتے ہوئے اسے سڑک پر گرا ہوا ایک شناختی کارڈ ملا تھا اس نے اپنے دوستوں کو دکھایا کہ کہیں ان کے بابا کا تو نہیں ہے لیکن سب نے کہا کہ نہیں ان کے والد کا نہیں ہے ایک دوست نے کہا کہ اس شناختی کارڈ پر جس انکل کی تصویر ہے وہ غیر ملکی لگ رہے ہیں ایک دوست نے کہا کہ ان انکل کا ہیر اسٹائل بہت پیارا ہے رازی کو آئیڈیاز آیا کہ شناختی کارڈ پر جس انکل کی تصویر ہے وہی بنا لیتا ہوں اس نے شناختی کارڈ پر دیکھ دیکھ کر بہت زبردست پینٹنگ تیار کرلی رنگوں کا استعمال بہت اچھا کیا اور انکل کے ہیر اسٹائل کو بہت اچھا پینٹ کیا اور تصویر پر کیپشن دیا نا معلوم دوست۔ دوسرے دن سکول کے بڑے ہال میں مقابلہ تھا مشہور مصور آئے ہوئے تھے جو مقابلے کے جج تھے بہت سی اچھی تصاویر مقابلے میں پیش کی گئیں ۔پہلا انعام رازی کی تصویر کو ملا اور اس کی تصویر شہر کی ایک بڑی آرٹ گیلری کی نمائش میں شامل کرنے کے لئے منتخب ہو گئی ۔ جس دن آرٹ گیلری میں تصاویر کی نمائش تھی رازی اپنے ماما پاپا کے ساتھ وہاں موجود تھا وہ سب لوگوں کے تبصرے سن رہا تھاجو اس کی تصویر پر کررہے تھے ،سب لوگ اس کی

بنائی ہوئی تصویر کی تعریف کررہے تھے ۔بچے نے یونانی نقش ونگار والے شخص کو کتنی اچھی طرح سے پینٹ کیا ہے بالوں پر کتنی محنت کی ہے ۔ رازی اور اس کے ماما پاپا یہ تبصرے سن کر خوش ہو رہے تھے ۔مڑ کر دیکھا تو وہی تصویر والے انکل کھڑے تھے بالکل ویسے ہی تھے جیسے تصویر میں تھے اور وہ بڑی حیرت سے کبھی اپنی پینٹنگ کو اور کبھی رازی کو دیکھ رہے تھے پھر انہوں نے بڑی نرمی سے پوچھا کہ بیٹا آپ نے مجھے کہاں دیکھا تھا؟رازی نے بتایا کہ مجھے ایک گرا ہوا شناختی کارڈ ملا تھا جس پر آپ کی تصویر تھی ،اوہ اچھا انکل بولے مجھے تو کئی دنوں سے شناختی کارڈ گم ہونے کی پریشانی تھی ،کیا وہ آپ کے پاس ہے؟جی میں نے سنبھال کر رکھا ہے ،رازی نے کہا،شکر ہے انکل نے سکون کا سانس لیا،پھر انکل رازی کے ماما پاپا سے ملے انہوں نے انکل کو اپنے گھر انوائیٹ کیا،اگلے دن انکل رازی کے لئے ڈھیروں تحفے لے کر آئے ۔ پاپا نے ان کے لئے شاندار دعوت کا انتظام کیا تھا۔ انکل ملک یونان سے سیاحت کی غرض سے آئے ہوئے تھے ۔وہ اپنے ملک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور اپنا شناختی کارڈ کے کھو جانے پر پریشان تھے جو انہیں بڑے عجیب انداز میں واپس مل گیا تھا اب وہ رازی فیملی کے پکے دوست بن گئے تھے انہوں نے رازی کو اپنی فیملی سے ملوایا ان کا ایک بیٹا رازی کا ہم عمر تھا اسے بھی

مصوری کا شوق تھا وہ بھی رازی کا دوست بن گیا۔ رازی کے پاپا نے سیاحت کی کئی ایسی جگہوں کا انہیں بتایا جنہیں وہ نہیں جانتے تھے وہ کہتے تھے پاکستان بہت خوب صورت ملک ہے جب انکل اور اس کی فیملی کا یونان واپس جانے کا وقت آیا تو رازی بہت اُداس ہوا۔ لیکن انکل نے کچھ عرصہ بعد ہی ان سب کو یونان کی سیاحت کے لئے بلوایا۔ رازی اور اس کے ماما پاپا کو یونان بہت پسند آیا۔اب رازی اور انکل فیملی کی دوستی بہت پرانی ہو گئی تھی ۔اس بات کو کافی عرصہ گزر گیا تھا۔رازی ڈاکٹر بن چکا تھا اور اس کی شادی انکل کی بیٹی مریانہ سے ہو چکی تھی وہ دونوں بہت خوش تھے ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے لیکن کبھی کبھی ان میں ہلکی پھلکی لڑائی ہو جاتی تھی اور ان دونوں کو غصے میں یہ کہنا نہ بھولتا تھا کہ کاش مجھے سڑک پر پڑا ہوا شناختی کارڈ نہ ملتایا پھر مریانہ کہتی کاش آپ کومیرے پاپا کا شناختی کارڈ نہ ملتا،اس پر دونوں کو ہنسی آجاتی اور لڑائی ختم ہو جاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *