انوکھابیج ایک سبق آموز کہانی

ایک تاجر اپنی محنت سے کامیاب ہوا اور ایک بہت بڑے ادارے کا مالک بن گیا۔ جب وہ بوڑھا ہوگیا تو اس نے ادارے کے ڈائر یکٹروں میں سے کسی کو اپنا کام سونے کی دلچسپ ترکیب نکالی۔ اس نے ادارے کے تمام ڈائر یکٹروں کا اجلاس طلب کیا اور کہا میری محبت مجھے زیادہ دیر تک اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی اجازت نہیں دیتی اسلئے میں آپ میں سے ایک کو اپنی ذمہ داریاں سونپنا چاہتا ہوں۔

میں آپ سب کو ایک ایک نے دوں گا۔ اسے ہونے کے ایک سال بعد آپ اس کی صورت حال سے مطلع کریں گے۔ جس کی بنیاد پر میں اپنی ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کروں گا کچھ عرصہ بعدسب ڈائر یکٹر اپنے وجہ سے اگنے والے پودوں کی تعریفیں کرنے لگے سوائے زید کے جو پریشان تھا۔

وہ خاموش رہتا اور اپنی خفت کو مٹانے کیلئے مزیدخت سے دفتر کا کام کرتا رہا۔ دراصل زید نے نیا گملا خرید کر اس میں نئی مٹی ڈال کر بہترین کھاد ڈالی تھی اور روزانہ پانی بھی دیتا رہا تھا۔ مگر اس کے چھ میں سے پردانه کلا ایک سال بعد ادارے کے سربراہ نے پھر سب ڈائریکٹرز کا اجلاس بلایا اور کہا کہ سب دو گلے لے کر آئیں جن میں انہوں نے بیج بویا تھا۔

سب خوبصورت پودوں والے گملوں کے ساتھ اجلاس میں پنوگرزید جس کا کام نہیں تھا وہ خالی ہاتھ ہی اجلاس میں شامل ہوا اور ادارے کے سربراہ سے ڈور والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اجلاس شروع ہوا تو سب نے اپنے حج اور پودے کے ساتھ کی گئی محنت کا حال سنایا اس امید سے کہ اسے ای سر براہ بنایا جائے سب کی تقاریر سننے کے بعد سر براہ نے کہا ایک آدی کم لگ رہا ہے۔ اس پر یہ جو ایک اور ڈائریکٹر کے پیچھے ان کا بیٹا تھا کھڑا ہوکر سر جھکائے بولا جناب مجھ سے جو بھی ہو گا میں نے کی اگر میرے والا تی ہیں۔

کا اس پر کچھ ساتھی بنے اور پھر نے زید کے ساتھ ہمدردی کا اظہارکیا چائے کے بعد ادارے کے سربراہ نے اعلان کیا کہ اس کے بعد زید ادارے کا سربراہ ہوگا۔ اس پر کی حاضرین پلس کی حیرانی سے چیخ نکل گئی ادارے کے سربراہ نے کہا اس ادارے کو میں نے بہت محنت اور دیانتداری سے اس مقام پر پہنچایا ہے۔

اور میرے بعد بھی ایسای آوی ہونا چاہئے اور وہ زید ہے محنتی ہونے کے ساتھ دیانتداری ہے۔ میں نے آپ سب کو ا لے ہوئے ٹیک دیئے تھے جو انہیں سکتے سوائے زید کے آپ سب نے جو تبدیل کر دینے اے بندے مت بھول کہ جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا تو پیدا کرنے والا دیکھ رہا ہوتا اس لئے دیانت کا دامن نہ چھوڑ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *