پانی میں یہ 3دانے ڈال کر پی لیں آپکا رنگ گورا ہوگا موٹاپا ختم ہوگا

انسان کے موٹے ہونے یا ان کے وزن بڑھنے کے حوالے سے کئی تحقیقات کی جا چکی ہیں اور ہر بار اس حوالے سے کوئی نہ کوئی نیا سبب سامنے آیا ہے۔زیادہ تر سمجھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ انسان ہی موٹا ہوتا ہے جو زیادہ غذائیں کھانے سمیت ہر وقت بیٹھے رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

بعض افراد کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی نوکری اس طرح کی ہے وہ زیادہ تر کرسی پر بیٹھے رہتے ہیں اور گاڑی میں سفر کرتے ہیں، کوئی ورزش نہیں کرتے، اپنے کام کی ٹیبل پر کھانا کھاتے ہیں۔

جس وجہ سے ان کا وزن بڑھ گیا ہے۔موٹاپا بڑھنے کی وجہ سے یقینا دنیا بھر میں کئی طرح کے مسائل بھی ہوئے ہیں اور ترقی پذیر ممالک سمیت ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے مرنے کا ایک سبب موٹاپا بھی ہے۔پانی میں تین دانے ڈال کر پی لیں آپ کو تین فوائد فوری ملیں گے آپ کا رنگ گورا ہوجائیگا موٹاپا ختم ہوگا اور جسم میں خون کی کمی پوری ہوجائیگی

یہ ایک نسخہ مگر اس کو ہر کوئی استعمال کرسکتے ہیں یہ استعمال کرنے سے آپکی سکن پر بے پناہ نکھار آئیگا رنگ میں سرخی پیدا ہوگی ۔کیونکہ اس نسخہ سے آپکے جسم میں نیا اور تازہ خون تیزی سے بنے گا اس کے علاوہ یہ نسخہ آپکے بے ٹول جسم کو ایک مناسب شکل میں ڈھال دیگا ۔سب سے پہلے آپ نے ایک گلاس نیم گرم پانی لینا ہے پھر آپ اس میں تین دانے خشک خبانی کے ڈالنے ہیں

جس سے آپ کے جسم میں خون کی فراوانی پیدا ہوگی ۔ چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا رنگ میں نکھار آئیگا ۔ یہ کسی پنسار کی دکان سے مل جائیگا۔ اب آپ اس میں تین دانے خشک آلو بخارے کے ڈالنے ہیں ۔یہ خشک آلو بخارے کے دانے ایک ہی ٹائم میں موٹاپا بھی کم کریں گے اور خون کی کمی بھی پوری کریں گے پھر اس گلاس کو پوری رات کیلئے ڈھانپ کر رکھ دیں یعنی یہ اجزاء پوری رات پانی میں بھیگا رہنے دیں۔

اگر گرمی کا موسم ہوتا گرمی میں رکھ دیں ۔پوری رات بھیگے رہنے کے بعد خشک خوبانی آلو بخاراپھول گئے ہیں ان کے تمام خواص اس پانی میں شامل ہوگئے ہیں۔ آپ نے ایک گلاس پانی آپ تھوڑا تھوڑا کرکے پی لیں ۔تھوڑا سا ان کو مسل لیں چمک کی مدد سے مکس کریں پھر یہ پانی لیں اورخوبانی آلوبخارا کھالیں ۔اس نسخہ کو آپ ہفتے میں تین سے چار بار استعمال کریں حاملہ خواتین یہ نسخہ استعمال نہ کریں ۔ ہائی بلیڈ پریشر کے مریض ہفتہ میں ایک بار استعمال کریں آپکو اچھا رزلٹ ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *