وہ سڑک کے کنارے بیٹھی تھی میں نے اس کو پہچان لیا تھا

ایک روز اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا بھوک سے برا حال تھا گھر میں بیف بنا ہوا تھا لیکن میں بیف پسند نہیں کر تا تھا خیال آیا ریسٹورینٹ جاتا ہوں کچھ اسپیشل کھا کر آ تا ہوں ہیٹر بند کیا باہر بہت دھند تھی سردی بہت زیادہ تھی جیکٹ پہنی کار میں بیٹھا کار میں بیٹھتے ہی میں نے ہیٹر آن کر لیا اونچی آواز میں میوزک لگا لیا ہاتھ میں آئی فون تھا میں اپنی دنیا میں مگن ڈرائیو کر رہا تھا ریسٹورینٹ کے سامنے پہنچا بھوک سے برا حال تھا

ریسٹورنٹ کے دروازے کے پاس پہنچا ایک لڑکی کے ساتھ ٹکر ایا میں جلدی میں تھا اس سے پہلے کے میں کچھ کہتا اس لڑکی نے میرے منہ پہ تھپڑ مار دیا میرا غصہ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا دل چا ہا اس لڑکی کے منہ پہ واپس تھپڑ ماروں ہاتھ اٹھا یا تھا۔

کہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر میرا ہاتھ رک گیا وہ رو رہی تھی بنا کچھ کہے وہ چلی گئی میں ریسٹورنٹ میں چلا گیا کھا نا آرڈر کیا لیکن کھانے کا دل نہیں تھا میرے منہ پہ تھپڑ کا نشان ابھی بھی تھا بھوک بھی تھی خیر کھا نا کھا یا لیکن اس لڑکی پہ غصہ تھا بھلا کیسے کوئی کسی کو تھپڑ مار سکتا ہے کچھ لوگوں نے میری طرف دیکھا بھی تھا میں شرمندہ تو ہوا تھا لیکن اس لڑکی کے آنسو دیکھ کر میں چپ ہو گیا تھا خیر کھانا کھانے کے بعد ہوٹل سے باہر آیا جو کھا نا بچ گیا تھا۔ میں نے پارسل کر وا لیا ہوٹل سے باہر اپنی کار کے پاس آیا گاڑی میں بیٹھا پارکنگ سے کار نکالی ابھی تھوڑا سا دور گیا تھا کہ وہ لڑکی پارکنگ کے باہر بیٹھی ہوئی تھی بانہوں پہ سر رکھے ہوئے ہاتھ میں ٹشو تھا بار بار آنسو صاف کر رہی تھی میں رک گیا کچھ لمحات دیکھا رہا وہ جیسے کسی درد سے گزر رہی ہو دل چا ہا اس سے پو چھوں جا کر آخر میں یہ آنسو کیسے پھر کچھ انا تھی بھاڑ میں جائے۔

ایسی بد تمیز عورت لیکن دل نے آواز دی فارس شاید اسے ضرورت ہو تمہاری میں پا س گیا لڑ کی کو سلام کیا وہ میری طرف دیکھنے لگی میں ہلکا سا مسکر ایا جیسے وہ انجان تھی مجھ سے میں پاس بیٹھا جا کر کیسی ہیں میڈم وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگی میں چہرے پہ اتھ رکھ کر بو لا میڈم میں وہی ہوں جس کو آپ نے تھوڑی دیر پہلے ایک زور دار تھپڑ ما را تھا و ہ لڑکی بہت سخت لہجے میں بو لی تو آپ مجھے تھپڑ ما ر لیں حساب برابر ہو جائے گا اس نے چہرہ میری طرف کیا میں مسکرانے لگا ارے نہیں نہیں میں ایسا کچھ نہیں کر نے آ یا میں نے چا کلیٹ پاکٹ سے نکالی اس کی طرف بڑھائی اور بو لا میری ما ما کہتی ہیں چاکلیٹ شیئر کر کے کھانی چاہیے غصہ اور ناراضگی ختم ہو تی ہے وہ لڑ کی میری طرف دیکھ کر بو لی سر ایم سو سوری میں بس اپنی پریشانی میں ہوں غصہ خود پہ تھا آپ کو تھپڑ مار دیا پلیز معاف کر دیں۔

اور اب جائیں آپ یہاں سے میں سمجھ گیا تھا اس کی روح ایک بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں میں پیار سے بولا اچھا میرا نام فارس ہے اپنا تعارف کر وا یا میری باتوں پہ جیسے اسے کچھ یقین ہو نے لگا میں نے رونے کی وجہ پو چھی تو اس کی ہچکی سی بند ھ گئی فارس ۔۔۔۔ میں نے بہت غلط کیا ہے میں حیران تھا ایسا بھی کیا کر دیا فارس اپنے شوہر کو دھو کا دے رہی تھی وہ مجھ پہ بہت یقین کر تے تھے مجھے دنیا کی ہر چیز دی تھی انہوں نے لیکن پھر بھی میں بے وفا ہو گئی میں نے ان سے چھپ کر ایک بوائے فرینڈ بنا یا ہوا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *