بہن یا بیوی

عروج جاؤ جا کر برتن دھو لو۔ کبھی خود سے بھی کوئی کام کر لیا کرو۔ عروج سر جھکائے ٹھیک ہے۔ چاچی دھو دیتی ہوں برتن ۔ عروج بیڈ سے اٹھی کتاب سائیڈ پر رکھی۔ سوچنے لگی میری امی زندہ ہوتی تو خود سارے کام کر لیتی ۔ مجھے کوئی کام نہ کرنے دیتی ۔ ایک چاچی ہے جان بوجھ کر مجھے ستاتی ہے۔ عروج کے امی ابووفات پاچکے تھے۔ چاچا چاچی نے پالا تھا۔ لیکن چاچی کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اور چاچی گھر کا سارا کام عروج سے کرواتی تھی عر وج اس گھر میں صرف ایک نوکرانی تھی۔لیکن ماں باپ وہ رشتہ ہے جو ہماری غلطیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔

چاچا دیکھتا تو تھا عروج کے ساتھ اس کی چاچی کتنا برا سلو ک کرتی ہے۔ لیکن چاچا خاموش رہتے ہیں۔ چاچا نے ایک احسان ضرور کیا تھا عروج کو پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ چاچی نے بہت کوشش کی تھی عروج کا کالج بند کروا دوں لیکن ناکام رہی ۔ عروج ایف اے کر رہی تھی۔ عروج کو کبھی یاد نہ تھا چاچی نے کبھی کوئی عید یا کسی موقع پر نئے کپڑے لے کر دیئے ہوں۔ اس پورے گھر میں ایک انسان تھا جو عروج کا ہمدرد تھا وہ تھا چاچا کا بیٹا اسفند وہ عروج کا اچھا دوست تھا۔

اس دن سردی بہت تھی چاچی نے کہا عروج کپڑے دھونے والےپڑے ہیں جاؤ جا کر سب کے کپڑے دھو لو۔ عروج بو لی چاچی میرے امتحانات چل رہے ہیں۔ آپ ارم کو کہیں کہ وہ دھو دے۔ ارم چچی کی بیٹی تھی اور غصے سے بولی ار م کے سر میں درد ہے ۔ شام کاوقت تھا ۔ عروج اٹھی کپڑوں کاڈھیر لگا ہوا تھا۔ غصے سے خود سے باتیں کرنے لگی ۔ نوکرانی مل گئی ہوں ان کوچاچی نے آج مٹن پکایا تھا اپنے بچوں کو کہنے لگی آجاؤ کھانا کھا لو دونوں بیٹیاں اور دو بیٹے ساتھ چاچا اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانے لگے اسفند گھر نہیں تھا وہ لیٹ آتا تھا۔ چچی نے بولا کہ تم جا کر پہلے کپڑے دھو کر پھر کھالینا کھانا۔ چاچاجی نے آنکھیں جھکا لیں۔عروج مشین سے جا کر کپڑے نکالنے لگی۔

چاچی اللہ سے بھی نہیں ڈرتی۔ ظالم چاچا ادھر چاچی سے کہنے لگے کیوں اس بیچاری کے ساتھ ایسا سلو ک کرتی ہو۔ اس نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔ چاچی غصے سے بولی تم کو بڑی فکر ہے اس کی اپنی بیٹیوں کے بارے میں بھی کبھی سو چ لیا کرو۔ چاچا روٹی چھوڑتے ہوئے بولا اللہ سے ڈرو سلطانہ۔ تمہار ی بھی بیٹی ہے کیسی عورت ہو تم چاچاروٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ سب بچوں کو کہنے لگی بوٹیا ں کھاؤ بوٹیاں ۔ جو گ۔وشت بچ گیا نکال کر ایک برتن میں رکھ لیا عروج کےلیے تھوڑ ا سا چھوڑ دیا ۔ اسفند آیا اور کہا کہ اتنی سردی میں تم کپڑے دھو رہی ہو ، اورم کو ساتھ لگالیتی دو نوں مل کر دھو لیتے ۔ عروج خامو ش رہی ۔۔ اسفند نہ اتنی فکر کیا کرو۔ جاؤ چینج کرو اور کھانا کھا لو ۔

اسفند پولیس میں تھا۔ سب ہال میں ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ ماں نے دیکھا اور کہا میں تیرے لیے کھانا لاتی ہوں۔ اسفند کھانا کھاتے ہوئے بولا، امی اس بیچاری کو اس ٹائم کیوں لگا یا ہوا ہے کپڑے دھونے کے لیے۔ ارم آپی کو ساتھ ملا کر لگاتی دونوں مل کر دھو لیتی ۔ ماں سکر پکڑ کر بولی اسفند کیا قیامت آگئی ہے۔ اگر وہ کپڑے دھو رہی ہے۔ اتنے میں عروج آئی چچی میرے لیے کھانا نہیں رکھا۔ چاچی نے دیکھا اور بولی رکھا تھا وہ پڑوسن لے گئی۔ تم ایسا کرو انڈے بنالو اپنے لیے۔

اسفند بو لا امی بس میں باہر سے کھانا کھا کر آیا تھا میرا کھانا کچن مین رکھ دیں میں تھوڑی دیر بعد کھالوں گا۔ ۔۔ اا بج رہے تھے سب سو چکے تھے ۔ عروج بھی تھکی ہوئی تھی سوگئی تھی۔ اسفند اٹھا کچن میں گیا جلد ی سے کھانا گرم کیا دو انڈے ابالے دودھ گر م کیا۔ عروج کے دروازے پردستک دی ۔ دروازہ کھولا سامنے اسفند تھا۔ اسفند تم یہاں اس وقت سوئے نہیں۔ اسفند مسکرایا جا پاگل مجھے نیند ہی نہیں آ رہی تھی۔ جلد ی جلدی سے کھانا کھا لو۔ عروج نے کہا کہ میری بھوک نہیں ہے۔ اسفند نے عروج کی طرف دیکھا اور بولا امی کی باتوں کا غصہ نہ کیا کرو ، وہ بڑی ہیں ۔ چلو شاباش کھانا کھا لو ۔

عروج نے جلدی سے کھانا کھانے لگی اسفند نے کہا اپنا خیا ل رکھا کرو اور بتاؤ امتحان کیسے ہورہے ہیں۔ بولی بہت کم ٹائم ملتا ہے پڑھائی کرنے کو ۔بس امید ہے پاس ہوجاؤ ں گی۔ اسفند کھانے کی ٹرے لیے کمرے سے باہر آیا کچن میں جارہا تھا کہ ابا نے دیکھ لیا۔ ابا مسکرانے لگے واہ میرے اللہ ایک اس کی ماں ہے۔ اس بیچاری کی دشمن ہے اور بیٹا اتنا فکر کرتا ہے۔ امتحانات ختم ہوئے اب کالج نہیں جاتی تھی اب سارا دن گھر میں رہتی لیکن چچی موت بن کر سرپر منڈلاتی رہتی ۔ عروج یہ کر لو وہ کر لو۔ سب بچے اپنی نانی کے گھر جارہے تھے سب نے شاپنگ کی نئے کپڑے لے کرآئے ۔ لیکن عروج کےلیے کچھ نہ لائے۔ عروج خاموشی سے دیکھ رہی تھی یہ ارم کے سوٹ بیس ہزار کا ایک یہ جوتے یہ چوڑیاں سب نے شاپنگ کی اس بیچاری بخت ماری کوکون پوچھنے والا تھا ہاتھ میں جھاڑو لیے گھر کی صفائی کررہی تھی۔

سوچ میں گم تھی کہ کھانا جل گیا ۔اتنے میں چچی کچن میں آئی یہ بدبو کیسی ہے دیکھا ہانڈی جل گئی تھی ارے منحوس کس یار کے خیالوں میں گم تھی۔ سارا کھانا خراب کردیا۔ دل کرتا ہے تم کو گھر سے نکال دوں۔ عروج بولی چاچا آپ پر بوجھ ہوں نامیں ۔ چاچا اداسی میں کہنے لگے پتر توں میرے بھائی کی نشانی ہے ۔ بہت لاڈلی ہے مجھے لیکن کیا کروں تیری چاچی نے مجھے بہت مجبور کر رکھا ہے۔ کچھ بولوں تو مرتا ہوں نہ بولوں تو مرتا ہوں خیر زیادہ پریشان نہ ہو ا کر۔ شادی سے واپسی آئے اسفند سب سے پہلے عروج سے ملا۔ تم اتنی اداس کیوں ہو۔ عروج خاموش تھی کچھ نہیں اسفند ۔

اسفند مسکرایا میں جانتا ہوں۔ اچھا عروج سنو میں تمہارے لیے موبائل لے کر آیا ہوں۔ تمہارا فیورٹ عروج چونگ گئی اسفند پاگل ہو اتنا مہنگا میں نے کیا کرنا ہے۔ اور اگر چچی کو پتا چلا تو جان نکال لیں گی۔ اسفند بولا ہاں تو پہلے ہی مجھے ڈرا لیا کر مجھے۔ جا اپنے کمرے میں جا کر اوپن کرو۔ عروج آج بہت خوش تھی لیکن ارم نے اسفند کو دیکھ لیا تھا عروج کو موبائل دیتے ہوئے۔ ارم نے ماں کو بتایا بھائی نے لاکھ روپے والا موبائل لا کر دیا ہے اس چڑی۔ل کو ۔ مان سن کر آ گ بگ۔ولہ ہوگئی۔ غصے سے چلاتے ہوئے عروج کے کمرے میں گئی ۔ کہاں ہے موبائل دکھاؤ ۔

ادھر ادھر ڈھونڈنے لگی تکیہ اٹھایا نیچے موبائل تھا۔ اسفند کو چلاتے ہوئے بلانے لگی اسفند اپنے کمرے سے باہر آیا کیا ہوا امی۔ اسفند یہ کیا ہے کیوں دیا موبائل اسے ۔ اسفند بولا امی کیا قیامت آگئی ہے۔ اگر موبائل دے دیا تو۔ تم نے کبھی ہم کو کچھ نہیں لا کر دیا۔ اسفند غصے میں بولا امی پلیز بات کو نہ بڑھائیں موبائل ہی تو دیا ہے ۔ وہ بھی اس گھر کی بیٹی ہے ۔ ماں چلانے لگی ۔ چاچا سر ہلاتے ہوئے بولا اللہ بچائے اس عورت سے عروج اپنے کمرے میں بیٹھ کر رو رہی تھی۔ بہت تنگ تھی ۔ عروج کیا کرتی کہا ں جاتی دل چاہ رہا تھا گھر چھوڑ جائے ۔ چچی کہنے لگی کر تی ہوں اس کا علاج ۔

چاچا سے بولی میں چاہتی ہوں عروج کی شادی کروا دیں۔ چاچا پہلے خاموش رہے پھر بولے کیوں اس کی دشمن بنی ہوئی ہو۔ دیکھو میرے بھائی کا بیٹا ہے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی بس میں چاہتی ہوں اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دیں چاچا بولے سلطانہ کیا قصور ہے بیچاری عروج کا تمہارے بھائی کا بیٹا شرابی ہے۔ میں جانتا ہوں اسے پہلی بیوی کو دو بار قتل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ میں اس لیے رشتے سے راضی نہیں ہوں۔ چاچی غصے سے بولی تم سے پوچھ کو ن رہا ہے۔بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے بس میں کل ہی بلوا رہی ہوں بھائی کو جلد سے جلد نکاح کروادیں گے ۔ جب عروج کو پتا چلا تو رو رو کر پاگل ہورہی تھی۔ وہ جانتی تھی اس لڑکے کو شرابی تھا اپنی پہلی بیوی کو بہت مارتا تھا۔ دن بھر روتی رہی رات کو اسفند گھر آیا۔ عروج کہاں ہے ۔ ارم نے بتایا اپنے کمرے میں ۔

عروج کے کمرے میں گیا یہ کیا ہو ا تم کو۔ آنکھیں کیوں سرخ ہیں۔ عروج روتے ہوئے بولی اسفند مجھے کسی دارلا مان چھوڑ آؤ پلیز۔چاچی جان میری اس شرابی ندیم سے شادی کروانا چاہتی ہیں۔۔ اسفند چونک کر بولا یہ کیا کہہ رہی ہو وہ شرابی۔ اسفند پیار سے سمجھانے لگا عروج تم خود کو پریشان نہ کرو میں ہوں نا نہیں کرنے دوں گا شادی۔ عروج رو رہی تھی اسفند پلیز مجھے نہیں کرنی شادی۔اسفند نے ماں سے کہا امی پلیز اس بات کو یہی پر ختم کریں۔ میں اب تماشا مزید برداشت نہیں کروں گا۔ ماں غصے سے بولی میں کروں گا شادی عروج کی۔ تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے ۔ اسفند غصے سے بولا امی پلیز اللہ کا واسطہ ہے تماشہ نہ بنائیں یہ کہہ کر اسفند گاڑی اسٹارٹ کی گھر سے باہر چلا گیا۔دوسرے دن ماموں ممانی اور ان کابیٹا ندیم آئے تھے۔ عروج کو چچی کہنے لگی تیار ہو جا۔

عروج روتے ہوئے بولی چچی مجھے نہیں کرنی شادی۔ چچی چلا کر بولی نہیں کرنی تو میرے گھر سے نکلو۔ اتنے میں اسفند آیا۔ ماموں اور ممانی کو دیکھ دماغ گھومنے لگا۔ اسفند ماں کو بولا امی آپ کو اللہ کا واسطہ ہے چھوڑ دیں ضد۔ ماں نے اسفند کو کہا میں سب جانتی ہوں ۔ اتنے میں ماموں اورممانی بھی آگئے۔ ممانی بولی اسفند تم کو کیوں اتنی تکلیف ہورہی ہے۔ چچی بولی اسفند آج ہی نکاح ہوگا ندیم اور عروج کا۔ چاچا جان غصے سے آئے چچی کے منہ پر تھپڑ مارا بکواس بند کر سلطانہ بس کر بس۔ جاننا چاہتی ہو اسفند کی کیا لگتی ہے عروج بیوی ہے اس کی۔ دونوں میاں بیوی ہیں سب حیران تھے یہ کیا کہہ رہے ہیں چاچا بولے میں جانتا تھا تم اس بیچاری کے ساتھ ایساکروگی۔ مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے جب تم بھانجے کی شادی پر گئی تھی میں نے ان دونوں کا نکاح کروا دیا تھا۔ عروج اسفند کے سینے سے لگ گئی۔

اسفند نے ماتھے پر بوسہ کیا۔۔ بس میری جان اب رونا بند کرو۔ پھر ماں کی طرف دیکھ کر بولا امی آپ اگر عروج کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی تو میں عروج کو لیکر کل چلا جاؤں گا۔ عروج کا ہاتھ تھامے اسفند کمرے میں چلا گیا ۔ اسفند پیار سے بولا عروج کل تمہارا رزلٹ آجائے گا ۔ کیا پڑھنا چاہتی ہو داخلہ لے لینا۔ ماموں اور ممانی چلے گئے ۔ ماں سمجھ گئی تھی اس کی ضد ہنستا بستا گھر اجاڑ دے گی۔ سب سے معافی مانگنے لگے ۔ چاچا بولے سلطانہ معافی اس سے مانگو جس پر ظ۔لم کرتی رہی ہو۔۔ ۔عروج نے مسکر ا کر کہا چچی پلیز آپ مجھے معاف کردیں۔ چچی نے پیار سے سرپر ہاتھ رکھا چچی نہیں ماں کرو مجھے۔ میری بچی اسفند نے ثابت کیا تھا ہمسفر جس حال میں بھی ہو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا ۔

اپنی ہمسفر کےلیے لڑتا ہے طلاق دے کر رسوا نہیں کرتا۔ جہاں ماں کا حقوق ہے وہاں بیو ی کا بھی ہے اے میرے معاشرے کے مرد ساتھ نبھانا سیکھو نہ کے رشتوں کو توڑنا۔ اپنی ہمسفر کا ہاتھ تھام کر جہاں وہ سچی ہے اس کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *