اس کی ماں اسے آواز دیتی رہی مگر وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی

ماں اور ایک بیٹی تھی ماں نے بیٹی سے کہا کہ آج گھر پر مہمان آنے والے ہیں افطاری تیار کرنی ہے اس لئے تم بھی میری مدد کرو اور کام میں لگو اور افطاری تیار کراﺅ۔بیٹی نے صاف جواب دیا کہ اماں اس وقت ٹی وی پر ایک خاص پروگرام آرہا ہے میں اس کو دیکھنا چاہتی ہوں اس سے فارغ ہوکر کچھ کروں گی۔

چونکہ وقت کم تھا اس لئے ماں نے کہا کہ تم اس کو چھوڑ دو پہلے کام کراﺅ مگر بیٹی نے ماں کی بات سنی اَن سنی کردی، اور پھر اس خیال سے اوپر کی منزل میں ٹی وی لے کر چلی گئی کہ اگر میں یہاں نیچے بیٹھی رہی تو ماں مجھے منع کرے گی اور کام کے لئے بلائے گی۔ چنانچہ اوپر کمرے میں اندر جاکر اندر سے ک۔نڈی لگائی اور پروگرام دیکھنے میں مشغ۔ول ہوگئی، لیکن اس نے کچھ پرواہ نہ کی۔ پھر ماں نے افطاری کے لئے جو تیاری ہوسکی کرلی اتنے میں مہمان بھی آگئے اور سب لوگ افطاری کے لئے بیٹھ گئے ماں نے پھر بیٹی کو آواز دی تاکہ وہ بھی آکر روزہ افطار کرلے۔ لیکن بیٹی نے کوئی جواب نہیں دیا تو ماں کو فکر ہوئی، چنانچہ وہ اوپر گئی اور دروازے پر جاکر دستک دی اور اس کو آواز دی لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

چنانچہ ماں نے اس کے بھائیوں اور اس کے باپ کو اوپر بلایا، انہوں نے آواز دی اور دستک دی مگر جب اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو بالآخر دروازہ ت۔وڑا گیا جب دروازہ ت۔وڑ کر اندر گئے ۔تو دیکھا کہ ٹی وی کے سامنے م ری ہوئی اون۔دھے منہ زمین پر پ۔ڑی ہے اور ان ت ق ال ہوچکا ہے۔اب سب گھر والے پ۔ریشان ہوگئے۔ اس کے بعد جب اس کی ل۔اش اٹھانے کی کوشش کی تو اس کی ل۔اش نہ اٹھی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ کئی ٹن وزنی ہوگئی ہے۔اب سب لوگ پ۔ریشان ہوگئے۔ کہ اس کی ل۔اش کیوں نہیں اٹھ رہی ہے۔اسی پ۔ریشانی کے عالم میں ایک صاحب نے جو ٹی وی اٹھایا تو اس کی ل۔اش بھی اٹھ گئی۔ اب صورت حال یہ ہوگئی۔ کہ اگر ٹی وی اٹھائیں ۔تو اس کی ل۔اش ہلکی ہوجائے۔ اور اگر ٹی وی رکھ دیں ۔تو اس کی ل۔اش بھ۔اری ہوجائے۔ لہٰذا اس ٹی وی کو اٹھ۔اک۔ر اس کی ل۔اش کونیچ۔ے لایا گ۔یا اور اس کو غس۔ل اورک۔فن دیا گ۔یا۔

۔جب لوگ اس کا جن۔ازہ اٹھانے لگے تو پھر اس کی چار پائی ایسی ہوگئی۔ جیسے کسی نے اس کے اوپر پہاڑ رکھ دیا ہو۔ لیکن جب ٹی وی کو اٹھایا۔ تو آسانی سے چار پائی بھی اٹھ گئی۔ تمام اہل خانہ ش۔رمن۔دگی اور مصی۔بت میں پ۔ڑ گئے۔ بالآخر جب ٹی وی جن۔ازہ کے ساتھ چلا تب اس کا جن۔ازہ گھر سے باہر نکلا۔ اب اسی حالت میں ٹی وی کے ساتھ اس پر نماز جن۔ازہ پڑھی گئی۔ اور قب۔رستان لے جانے لگے۔آگے ٹی وی۔ پیچھے جن۔ازہ چلا۔ پھر قب۔رستان میں لے جانے کے بعد جب م۔ی۔ت کو قب۔ر میں اتارا اور قب۔ر کو بند کرکے اس کو ٹھیک کرکے جب لوگ واپس جانے لگے تو اس لڑکی کی ل۔اش قب۔ر سے باہر آگئی۔

کتنی عب۔رت کی بات ہے۔ ”فَاعتَبِرُوا یَا اُولِی الاَبصَارِ“ (اے عقل مندو! عب۔رت حاصل کرو) لوگوں نے جلدی سے ٹی وی کو وہیں رکھا اور دوبارہ اس ل۔اش کو قب۔ر کے اندر دف۔ن کرکے بند کردی اور دوبارہ ٹی وی اٹھاکر چلے تو دوبارہ اس لڑکی کی ل۔اش قب۔ر سے باہر آگئی، اب لوگوں نے کہا کہ یہ تو ٹی وی کے ساتھ ہی دف۔ن ہوگئی ۔اس کے علاوہ کوئی اور صورت نظ۔ر نہیں آتی۔آخرکار اس کی ل۔اش قب۔ر میں تیسری بار رکھی اور ٹی وی کو بھی اس کے س۔رہانے رکھ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس کو دف۔ن کردینا پ۔ڑا۔ العی۔اذ باللہ۔اب ذرا سوچئے کہ اس لڑکی کا کیا ح۔ش۔ر ہوا ہوگا؟ اور کیا انج۔ام ہوا ہوگا؟ ہماری عب۔رت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دکھا دیا۔ اب بھی اگر ہم عب۔رت نہ پک۔ڑیں تو ہماری ہی نالائقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *