زاہد گھر آتا تو اس کی بیوی پریشان ہوتی تھی آج گھر آیا تو بیوی سو چکی تھی

کیا کروں میرے بچوں کو تباہ کرنے والی میری بیوی ہی تو ہے کیا کروں میں وہ میری دشمن ہے وکیل صاحب بس میں طلاق دینا چاہتا ہوں اسے زاہد غصے سے بات کر رہا تھا وکیل نے پانی کا گلاس سامنے کیا یہ پانی پیو ز اہد صاحب آپ پریشان نہ ہوں آپ کی جان چھڑالیں فکر کیوں کرتے ہو زاہد بو لا بہت گندی عورت ہے

وہ اپنے بھا ئیوں کی بات مانتی ہے بس ویسا ہی کرتی ہے جیسا س کی ماں کہتی ہے وکیل بو لا بتا و اصل مسئلہ ہے کیا وکیل صاحب میری شادی کو پندرہ سال گز ر گئے ہیں پہلے چھ سال تو ٹھیک گزر گئے علیشہ ہمیشہ میری ماں سے جھگڑتی تھی ماں بھی دنیا سے چل بسی ہم تین بھائی ہیں ماں کے گزرنے کے بعدبھائی ہیں ماں کے گزرنے کے بعد سب الگ الگ ہو گئے ہیں لینٹر ڈالنے والے کے ساتھ مزدوری کیا کر تا تھا۔ علیشہ پڑھی لکھی ہے اور میں بالکل ان پڑھ اس نے مجھے کہا گھر میرے نام کروا دو میں علیشہ سے بہت پیار کر تا تھا میں نے مسکرا کر کر اسے کہا میری بہن بھلا میرا سب کچھ آپ کا ہی تو ہے میری جان بھی مانگو تو حاضر ہے پھر یہ چند مرلے کے گھر کی کیا اوقات ہے خیر گھر اس کے نام کر دیا میں نے اللہ نے بیٹی عطا کی زندگی اچھی گزر رہی تھی اس کی ہر فرمائش پوری کر تا میں پھر آہستہ آہستہ وہ بیزار سی رہنے لگی مجھ سے میں دبئی چلا گیا وہاں جا کر محنت مزدوری کرنے لگا اللہ نے رحمت کی وہاں اچھا سٹیل ہو گیا بیوی کو ہر مہینے لاکھ روپیہ بھیجنے لگا جتنے پیسے بھیجتا وہ اپنے بھا ئیوں کو دے دیتی ہوں دوسال میں چودہ لاکھ روپے اس نے اپنے بھا ئیوں کو دے دئیے علیشہ کے بھا ئیوں نے میرے پیسوں پہ ہوٹل بنا لیا میں جو پیسے بھیجتا وہ سب بھا ئیوں کو دے دیتی میں جانتا تھا علیشہ ایسا کر رہی ہے۔

لیکن جب میں نے ایک دن پو چھا تو کہنے لگی بھائی کہہ رہے ہیں یہ ہوٹل پار ٹنر شپ پہ ہے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا اللہ نےعطا کیا میں بہت خوش تھا لیکن علیشہ مجھے پریشان کرنے لگی اس نے مجھے میرے بھا ئیوں سے جدا کیا میری بہنوں کو منع کر دیا کہ ہمارے گھر نہ آ ئیں بہنیں رو کر چپ ہو گئی بھا بھی نے منع کیا ہے اس لیے ہم اب بھائی کے گھر نہیں آسکتیں میں چپ رہا صرف بچوں کی خاطر میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ معصوم رل جا ئیں گے علیشہ کو بس پرواہ تھی تو اپنی بہن کی اپنے بھا ئیوں کی اپنی ماں سے ہر بات کر تی ہر وقت بہن ماں سے باتیں کرتی رہی فون پہ میں نے کافی بار منع کیا لیکن وہ میری بات نہیں مانتی پاکستان آیا دبئی سے دو مہینے کے لیے ایک رات سو یا ہوا تھا۔

کہ اچانک مجھے کچھ گندی سی بدبو آ نے لگی میں اٹھا دیکھا علیشہ بیڈ پہ نہیں ہے میں آہستہ سے اٹھا دیکھا کمرے میں بیٹھی ہوئی میری تصویر پہ کچھ مر چیں جلا کر پو چھ پڑھ رہی تھی میں سمجھ گیا۔ مجھ پہ تعویذ کر رہی ہے میں کافی جھگڑا کیا اس سے میں ساعی رات جا گتا رہا علیشہ کے سامنے ہاتھ جوڑے علیشہ ایسا کیوں کر رہی ہو تم چاہتی یو میں تمہارے قدموں میں رہوں تو ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا یہ سب کام چھوڑ دو ایسا نہ کیا کرو علیشہ رات کو تو کچھ نہ بولی صبح اپنی ماں کے گھر چلی گئی بچوں کو بھی ساتھ لے گئی میں گھر نہیں تھا کسی کام سے دوسرے شہر گیا تھا واپس آ یا تو بچے اور علیشہ گھر نہیں تھے پریشان ہو گیا پھر پتہ چلا وہ میکے چلی گئی ہے میں سسرال پہنچا علیشہ کے بھائی بھی گھر ہی تھے۔

سب نے مجھے بہت بے عزت کیا مجھے گا لیاں بھی دیں کہ ہماری بہن پہ الزام لگاتے ہو کے جج صاحب کافی بر ہم ہو ئے علیشہ زاہد سے کہنے لگی تم کو گھر چاہیے نالے لو مجھے ابھی طلاق دو جج صاحب نے زاہد کو گرفتار کر نے کا حکم دیا وکیل کو بھی سزا سنائی علیشہ کو با عزت بری کیا معافی مانگتے ہوئے علیشہ چلی گئی زاہد جیل میں تھا کہ خ و ن کی الٹیاں کرنے لگا پتہ چلا اسے ایڈز ہو چکا ہے زاہد ہر دن موت کی طرف جانے لگا جب اس کی حالت بگڑنے لگی تو پھر یاد آنے لگی علیشہ اور بچے رونے لگا یہ میں نے کیا ظلم۔ کر دیا تھا بیچاری علیشہ کو کتنا درد دیا تھا میری بیٹیاں میری شہزادیاں میرا بیٹا وہ آوازیں دینے لگا ڈاکٹر نے کہا یہ بیماری دوسروں میں پھیل جا ئے گی زاہد کو زہر کا انجیکشن لگا دیا تڑپ تڑپ کر مر گیا علیشہ کو مرد ذات سے نفرت ہو گئی تھی کتنا درد دیا تھا۔

زاہد نے دوسری شادی اور چند لاکھ کی خاطر کتنا ظلم ڈھا یا وہ بے حس ہو چکا تھا بچوں کے لیے کانٹے بچا گیا بیٹیاں بے سہارا کر گیا کیا مر جا نا ہی اس کی سزا تھی اسے بھول گیا تھا کسی کی آہ خاک کر دیتی ہے اگر آپ کو اپنی بیوی اچھی نہیں لگتی تو ظلم نہ ڈھا ئیں بے رخی نہ کر یں اسے سمجھا ئیں جو کلمہ پڑھ کر آپ کی ہو گئی ہے اس کے لیے تھوڑا سا خود کو بدل لیں جہاں مرد کو محبت کا سبق دیتا ہوں وہاں عورت بھی خیال رکھے اپنے ہم سفر کی محبت کو سینے سے لگائے نہ کے ضد اور انا میں رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *