اندھی لڑکی

میرب میری بیٹی بس کل سے تم سکول نہیں جاؤ گی۔ میر ب نے کہا لیکن ماما جان کیوں میر ب کی ماں نے کہا میرب ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔ کہ اب اگر زیادہ نظر لگا کر پڑھے گی تو نظر پر اثر پڑے گا ۔ اور دوسری آنکھ سےبھی نظر آنا بند ہو جائے گا۔ میرب دسویں کلاس میں پڑھتی تھی۔

لیکن جب وہ نویں کلا س میں تھی کہ اچانک آنکھوں میں جلن رہنے لگی اور دیکھتے دیکھتے ہی اس کی ایک آنکھ کی روشنی بالکل ختم ہوگئی تھی۔ بہت محنتی تھی۔ ہر سال کلاس میں فرسٹ آتی تھی۔ لیکن خدا نے نصیب میں کچھ اور لکھاتھا۔ وہ میٹرک کے بعد بھی پڑھنا چاہتی تھی۔ لیکن ماں باپ پریشان رہنے لگے ۔ کہ ہزاروں ڈاکٹرز کو دکھا دیا لیکن ڈاکٹرز کوئی علاج نہیں کرپارہے ۔ عینک لگ گئی تھی میر ب کو دوسری آنکھ سے بھی بس پچاس فیصد نظرآتا تھا۔ وہ بہت خوبصورت تھی کچھ سال گزرے کہ میرب کی منگنی اس کے خالہ کےبیٹے سے کی ہوئی تھی۔ بچپن میں لیکن جب شادی کی بات کی تویہ کہہ کر خالہ نے جان چھڑوا لی کہ میرا بیٹا نہیں مانتا۔ میر ب نے تو بچپن سے اب تک اپنے کزن میں ہی زندگی بھر کا سفر دیکھاتھا۔ لیکن نصیب کے کھیل تھے ۔میرب روتی تھی۔ یا خدا کیوں میرے ساتھ ایسا کیا میرا گن اہ کیا تھا مجھ سے آنکھیں لینی تھیں تو مجھے بچپن میں ہی دنیا کی یہ رینگینیاں نہ دکھاتے ۔

جو بھی رشتہ دیکھنے آتا وہ یہ کہہ کر انکار کر دیتا ۔ بیٹی اس کی نظر کا مسئلہ ہے کیا پتا کل کو جو تھوڑا سا دکھائی دیتا ہے وہ بھی بند ہوجائے۔ ما ں بہت روتی تھی۔ بیٹی کے نصیب سے ڈرنے لگی تھی۔ وہ اس زمانے کو دیکھ رہی تھی جب وہ دنیا میں نہیں رہیں گے ۔ تو ہماری میرب کا خیال کون رکھے گا۔ میرب کی بے بسی کو ن سمجھے گا۔ چھ سال گزر گئے چھوٹی بہنوں کی شادی ہوگئی لیکن میرب وہی گھر بیٹھی۔ خدا سے شکوے بھی چھوڑ دیے۔ رونا بھی چھوڑ دیا اس کو اب صرف بیس فیصد نظر آتا تھا۔ مطلب کے بس دھند لے ہوئے چہرے نظر آتے تھے۔ میرب تھی تو بہت خوبصورت لیکن بس نصیب بے وفا تھے۔ ڈاکٹر ز نے کہا علاج تو ممکن ہے اگر کوئی اپنی آنکھیں اس کو دے دے۔ اس زمانے میں کوئی کسی مرنے والے کو پانی کا گھونٹ نہیں پلاتا تو آنکھیں کون د ے گا۔ میرب تیس سال کی ہوچکی تھی۔ ماں باپ بوڑھے ہوگئےتھے۔ میرب کو بھی بالکل نظر آنا بند ہوچکا تھا۔ اس کے سب خواب کسی دور اندھیرے میں دفن ہوگئے۔ وہ جیسے زندگی کے دن گزار رہی تھی۔ اسے دنیا میں کسی سے اب کوئی واسطہ نہیں تھا۔ کسی نہ کسی سے دل کی بات کہہ سکتی تھی نہ کوئی سننے والا تھا۔ ساتھ والے گھر میں شادی تھی ۔ میرب ڈھول کی تاپ کو سن کر ان کے گھر ہونے والی خوشیاں محسوس کررہی تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ماں نے کہا جاؤ دیکھو بیٹا تمہا را باپ آیا ہوگا ۔

میرب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دروازے کےپاس گئی۔ دروازہ کھولا تو ایک لڑکے نے سلا م کیا ۔ میرب نے گھبرا کر واعلیکم السلام کہا ۔ میرب نے پوچھا آپ کون ۔ وہ لڑکا بولا وہ جی میں ساتھ والے گھر مہمان آیا ہوں۔ آپ کے گھر سے کچھ سامان لانے کےلیے بھیجا ہے۔انہوں نے شاید آپ کی امی کو دیا تھا رکھنے کے لیے۔ لڑکا تو میر ب کی طرف دیکھتا رہا دل میں خیال آیا کتنی خوبصورت لڑکی ہے اللہ نے کتنا حسن دیا ہے اس کو۔ میرب نے ماما کو آواز دی۔ جان باہر کوئی ہے۔ ماں نے دیکھا تو پہچان لیا ارے یہ تو نادیہ کا بیٹا ہے آجاؤ بیٹا میں لے کرآتی ہو سامان۔ لیکن علی تو میرب کودیکھتے جارہا تھا۔ وہ شاید اس کی خوبصورتی میں کہیں ڈوب چکا تھا لیکن انجان تھا اس حقیقت سے جو اس پر قیامت گرانے والی تھی۔ اس نے میرب سے کہا پلیز پانی لا دیں۔ میرب نے آواز دی یہ پانی مانگ رہے ہیں۔ جب ماں پانی لے کر یہ بتایا سوری بیٹا یہ میرب ہے میری بیٹی اس کو نظر نہیں آتا۔ علی نے کہا نظر نہیں آتا مطلب میرب کی ماں نے کہا بیٹا اندھی ہے۔ یہ دیکھ نہیں سکتی۔ علی کویقین نہیں آرہاتھا۔ تو علی میرب کو دیکھنے کے لیے کسی نہ کسی بہانے آجایا کرتا تھا۔ علی نے اپنی ماں سے بات کی کہ مجھے میرب سے شادی کرنی ہے۔ علی کی ماں نے غصے میں کہا بکواس نہ کرو۔ شادی کرنی ہے

جا دفعہ ہوجا یہاں سے علی بضد رہا۔ دن گزرتے گئے علی کی تڑپ بڑھتی گئی ۔ علی بس کیسے بھی اب میرب سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ماں نے علی کے باپ سے بات کی تو باپ نے سمجھایا بیٹا وہ تمہار ا خیال نہیں رکھ پائے گی۔ بلکہ تمہاری زندگی خراب کردے گی۔ گھروالوں نے اس کا پاگل پن دیکھا اور مان گئے شادی کے لیے میرب کی ماں سے بات کی تو میرب کی ماں نے کہا لیکن آپ کا بیٹا سب جانتے ہوئے بھی علی کی ماں نے کہا اللہ نے اگر ان کا نصیب ایسا لکھا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ خیر شادی ہوگئی میرب بہت ڈری ہوئی تھی۔ اس کے دل میں ہزاروں سوال جنم لے رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی یا خدا پہلے جینے کی خواہش تھی تم نے سب کچھ ختم کردیا اب مرنے کی خواہش تھی تو زندگی کی طرف لے آئیے ہو۔ علی کھانستے ہوئے کمرے میں آیااورمیرب کا ہاتھ پکڑا ۔ علی نے کہا میر ب کو ڈر لگ رہا ہے۔ میر ب خاموش رہی۔ علی نے میرب کا ہاتھ اپنی آنکھوں کو لگایا اور کہنے لگا آج سے یہ آنکھیں تمہاری ہیں۔ اٹھو اب چلو میرے ساتھ۔ میرب نے دھیمی سی آواز میں پوچھا کہاں جانا ہے ۔

علی نے کہا چلو وضو کریں پہلے میرے ساتھ شکرانے کے نوافل اداکریں۔ علی نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ پاؤں دھوئے وضو کروایا اور شکرانے کے نوافل ادا کیے۔علی نے نماز کے بعد میرب کی آنکھوں کو چوما او رکہا آج سے تم میری آنکھوں سے دیکھا کرو گی۔ کبھی اس کے سر کے بال سنوارتا تو کبھی اس کے ہاتھوں کو چومتا باتیں کرتے ہوئے سو گیا ولیمہ رسم مکمل ہوئی۔ سب رشتہ دار باتیں کررہے تھے ۔ یہ پاگل ہے زیادہ دن یہ شادی نہیں رہے گی دیکھنا دو مہینے بعدہی طلاق ہوجائےگی۔ لیکن علی کو بس میرب کی محبت کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ علی اٹھتا ناشتہ بناتا اپنے لیے میر ب کے لیے۔ پھر پھول سی خوشبو سے جگاتا میرب کو نماز فجر ادا کرتے پھر ناشتہ ایک ساتھ کرتے۔ علی میرب کو آہستہ آہستہ گھر کی ہرچیز کہاں رکھی ہے سب بتاتا۔ علی کا ایک گھنٹہ بھی میرب سے بات کیے بنانہیں گزرتاتھا۔ پیار بھری باتیں کرتے ایک سال ہوگیا تھاشادی کو ۔میرب بہت خوش رہنے لگی تھی۔ اب میرب گھر کے کام بھی کرتی تھی۔ مدد کرواتی تھی۔ علی کی میرب خدا کا شکر ادا کرتی تھی۔ کیا خدا تو بہتر جانتا ہے ہم کوتوناشکر ے ہوجاتے ہیں۔ چھین لے تو شکوے کرتے ہیں ۔ میرب علی کے سینے پر سر رکھ کر سوتی تھی۔ ایک عادت سی ہوگئی تھی۔ وہ علی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کہا کرتی تھی۔ علی سنا ہے قیامت کے دن اللہ مجھے میری آنکھیں واپس دے گا۔ لیکن اس دن کی دعا کرتی ہوں۔

خدا و رسول کے بعد سب سےپہلےمیں آپ کودیکھوں۔ علی مسکرا دیتا تھا پاگل سی ہو تم پتہ نہیں کیاکیا سوچتی رہتی ہو۔ ایک دن علی گھر پر نہیں تھا۔ میرب چھت پرتھی۔ بارش ہورہی تھی بہت زور سے۔ میرب شاید چھت سے کپڑے اتارنے لگی تھی۔ نصیب نے عجیب کھیل کھیلنا تھا۔ درد شاید ابھی باقی تھے۔ میرب چھت پر پاؤں پھسلا اور چھت سے گرگئی او ر بے ہوش ہوگئی۔ محلے والوں نے ہسپتال پہنچایا علی کو کال کی علی ہسپتال پہنچا۔ ڈاکٹرز نے کہا دماغ میں چوٹ لگی ہے۔ کچھ کہہ نہیں سکتے دعا کریں۔ بس آپریشن کرنا ہوگا ایمرجنسی۔ علی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ کرکہنےلگا ڈاکٹر صاحب پلیز میری میرب کو بچالیں۔ ڈاکٹر نے حوصلہ دیا اور چلاگیا۔ علی بے بس بیٹھا میرب کی تصویر نکالی چوم کر کہنے لگا میرب مجھے دغا نہ دینا مجھ سے بے وفائی نہ کرنا تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔ دیکھو میرب کل ہم اپنا نیا گھر لے رہے ہیں۔ میرب تم نے کہاتھا کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑو گی۔ آسمان کی طرف دیکھ کرکہنے لگا یا اللہ! مجھے میری میرب واپس دے دو میری میرب مجھ سے نہ لینا اس کی محبت کی تڑپ پر شاید خدا کو بھی ترس آگیا تھا۔

چار گھنٹے کے آپریشن کے بعد ڈاکٹر باہر آئے بہت خوش تھے کہنے لگے مبارک ہو مسٹر شاید آپ کی بیوی پہلے دیکھ نہیں سکتی تھی۔ آپریشن کے دوران ہم نے دیکھا کہ لینز ٹھیک نہیں تھی۔ چھوٹے سے آپریشن سے ٹھیک کردیے ہیں۔ شاید کہ اب دیکھنے لگے۔ ہوش آیا تو دو دن بعد آنکھوں سے پٹی اتاری تو اللہ نے اپنا معجزہ دکھایاا ورمیرب کو نظر آنے لگا علی نے میرب کو سینے سے لگا لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اخلاقی سبق: ہمسفر وہی ہوتا ہے جو ہر حالات میں اپنے جیون ساتھی کا وفاداررہے ورنہ ہمسفر تو جانور بھی ایک دوسرے کے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *