نہ جھریاں ، نہ کمزوری ، نہ لاٹھی، نہ کھانسی ، باسی روٹی کے ذریعے طاقت کا باکمال نسخہ

آج کل جلد جھریاں پڑ جانا اور کمزوری ایسی بیماریاں ہیں جن میں آج کل ہر دوسرا انسان مبتلا ہے ۔ اس کا علاج نہایت آسان ہے ۔ حکیم کہتے ہیں کہ صبح ناشتے میں صبح ناشتے میںباسی روٹی (رات کی پکی ہوئی روٹی ، استعمال کے وقت چاہیں تو پانی لگا کر گرم کر لیں )گڑ سے کھائیں یا سالن کے ساتھ استعمال کریں ۔ اسے استعمال کے بعد آپ کی صحت شاندار ہو جائے گی، نہ جھریاں ، نہ کمزوری، نہ لاٹھی، نہ کھانسی، نہ جسمانی اعصابی تنائو اورکھچائو، باسی روٹی ان سب کا ایک ہی لازوال نسخہ ہے۔

حضور سرور کونینﷺ نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو کچھ نصیحتیں فرمائیں اور ایک نصیحت یہ بھی فرمائی کہ اے ابوذر! اپنے سے کم تر پر نظر رکھ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا ہوگا۔ مزدور اپنے سے کمتر پر نظر رکھنے کو تیار نہیں‘ وہ کہتا ہے کہ جو مالدار کھاتا پہنتا ہے میں بھی وہی کھاؤں اور وہی پہنوں‘ اسی جذبے سے بددیانتی اور کرپشن کی شکلیں نکلتی ہیں‘ یقین جانیے! جو باسی روٹی میں ہے وہ اور کسی چیز میں نہیں ہے‘ اللہ کے ایک ولی تھے وہ ہمیشہ باسی روٹی کھاتے تھے‘ کسی نے پوچھا کہ آپ باسی روٹی کیوں کھاتے ہیں؟ فرمایا: روز آنے والا وقت برکات نبوت ﷺ سے دور ہورہا‘ آج کی روٹی دور نبوتﷺ سے قریب تر ہے‘ کل کی اور دور ہوجائے گی‘ آج میں جو برکت ہے کل وہ نہیں ہوگی۔

میری والدہ محترمہ رحمۃ اللہ علیہا ایک واقعہ ہمیں سنایا کرتی تھیں کہ ایک خاتون اپنے دونوں پاؤں کے انگوٹھے باندھ کر پرانے دور کے وہ بڑے کنوئیں جو بیلوں سے چلتے تھے ان کی ایک منڈھیر سے دوسری منڈھیر کو چھلانگ لگا کر پار کرتی تھی لیکن حیرت کی بات یہ ہے نہ کنوئیں کے اندر گرتی نہ باہر جاکر گرتی‘ اور اس سے اگلی عجیب بات کہ ان کے دونوں انگوٹھے بندھے ہوئے ہوتے تھے‘ کسی نے اس عورت کی طاقت کا راز جاننا چاہا تو پتہ چلا کہ وہ باسی روٹی کھاتی ہے‘ اور کبھی کبھار اگر صبح مکھن مل جائے تو اس کے ساتھ ورنہ پانی کے ساتھ ہی کھالیتی ہے لیکن کھاتی ہمیشہ باسی روٹی ہے۔ قارئین! اگر باسی روٹی بازار کی پکی ہوئی بالکل پتلی اور خشک ہو تو اس کو ہلکا سا پانی کا چھینٹا مار کر کسی سوتی کپڑے میں لپیٹ کر رکھیں فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں‘ جب صبح دیکھیں گے تو وہ ریشم کی طرح نرم ہوگی اور اگر گھر کی پکی ہوئی سادہ اور دیسی آٹے کی روٹی ہے پتلی نہیں‘ کچھ موٹی پکی ہوئی ہے تو اس کو اگر پانی لگا کر نہ بھی رکھیں تو وہ صبح تک بہت نرم رہتی ہے‘ آئیے میں باسی روٹی کے تین پیکیج آپ کو دیتا ہوں۔

دہی اتنا لیںکہ جتنا آپ زیادہ سے زیادہ کھاسکیں‘ کچے کورے برتن میں دیسی شکر(شکر جتنی ڈارک براؤن ہوگی یعنی جتنی زیادہ میلی ہوگی‘ اتنی زیادہ صحت مند اور مفید ہوگی) تھوڑی سی ڈال کر مکس کرکے رات کو برتن ڈھانک کر کھلے صحن میں رکھ دیں‘ اگر کچا برتن میسر نہ ہو اور کھلا صحن بھی میسر نہ ہو تو شکر ملا کر دہی کو آپ کمرے کے اندر یا فریج میں رکھ سکتے ہیں‘ صبح یہ دہی باسی روٹی کے ساتھ کھائیں اور تین بیماریوں سے نجات پائیں۔ 1۔ پرانا ہیپاٹائٹس اور پیلا یرقان‘ 2۔ کمزور نڈھال جسم جو بڑے بڑے ٹانک اور ادویات سے طاقت ور نہ ہورہا ہو اور زندگی فٹنس کی طرف نہ جارہی ہو اورمعدے کی پرانی‘ گیس تبخیر بادی خشکی قبض بس آپ ان تین چیزوں سے اگر نجات پانا چاہتے ہیں تو دہی دیسی شکر اور باسی روٹی کیا لطف کی بات ہوگی کہ دہی مٹی کے کونڈے میں جمی ہوئی ہو تو اس کی طاقت اور تاثیر بہت زیادہ ہے۔

باسی روٹی صبح دیسی مکھن (معذرت ہے کہ مجھے بازاری مکھن جس کا جتنا خوشنما کاغذ‘ ڈبی‘ اشتہار ہی کیوں نہ ہو‘ ہرگز نہیں چاہیے! گاؤں اور دیہات کا یا اپنے گھر کا‘ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ گھر میں دودھ آتا ہے اس کی بالائی اتاریں اور خود ہی مکھن بنالیں) اور باسی روٹی اور شہد یا شکر ڈالنا چاہیے‘ ورنہ اس کے بغیر بھی کھاسکتے ہیں‘ اس کی طاقت اور تاثیر آپ کے گمان خیال اور مشاہدہ میں آپ سوچ نہیں سکتے‘ جسم‘ دماغ اعصاب یادداشت نظر قوت اور طاقت صحت و تندرستی ان سب کیلئے مکھن اور باسی روٹی آپ عینک اتارنا چاہتے ہیں آپ رات کے اندھیرے میں ستاروں کی روشنی میں پڑھنا چاہتےہیں آپ گھر میں گری ہوئی سوئی تلاش کرنا چاہتے ہیں تو آئیے! باسی روٹی دہی یا مکھن سے دوستی لگائیں اور ہاں! اگر آپ کو شوگر نہیں تودیسی شکر ہرگز ڈالنا نہ بھولیے ۔آپ چاہتےہیں کہ صدیوں پرانی بھولی باتیں یاد آئیں آپ کا جسم صحت مند رہے آپ ستر اسی سال کے بڑھاپے میں بھی اٹھارہ سال کی جوانی کا ناز اٹھائیں تو پھر باسی روٹی کیوں بھول گئے؟

باسی روٹی صبح کسی باسی سالن یا دال کے ساتھ کھائیں‘ یا پھر باسی روٹی گُڑ کے ساتھ کھائیں لیکن گُڑ کیلئے بھی شرط وہی ہے کہ جتنا زیادہ ڈارک براؤن یعنی میلا ہو اتنا زیادہ صحت مند اور ہاں جتنا زیادہ پرانا ہوگا‘ اتنا مفید اور طاقت ور ہوگا‘ میں نے اپنے گھر میں ایک مٹکا رکھا ہے جس میں گڑ رکھا ہے مٹکے کے منہ پر کپڑا باندھا ہوا ہے مٹکے میں رکھا گڑ تین صدیاں خراب نہیں ہوتا‘ رنگ بدلتا جائے گا لیکن تاثیر ویسے کی ویسے رہے گی۔ باسی روٹی گُڑ سے کھائیں یا سالن سے آپ کی صحت مزیدار آپ کا جسم جاندار‘ آپ کا چہرہ شاندار‘ نہ جھریاں‘ نہ کمزوری‘ نہ لاٹھی‘ نہ کھانسی‘ نہ جسمانی اعصابی تناؤ کھچاؤ اور آخری میری بات یاد رکھیے گا موجودہ دور کی سوغات ڈیپریشن ٹینشن کا باسی روٹی لاجواب اور بہترین علاج ہے۔ لیکن یہ اس کیلئے ہے جو اس کی قدر دانی کرے گا۔

جتنے روٹی کے ٹکڑے آج گھروں سے نکلتے ہیں اس سے پہلے کبھی ٹکڑے گھروں سے نہیں نکلے اور نہیں بکے‘ جب سے نفاست مزاج کے اندر بڑھتی چلی گئی ہے جہاں رزق کا ضائع ہونا اور رب کی رحمت کا اٹھ جانا واضح ہوتا ہے وہاں صحت اور تندرستی بھی ہم سے روٹھ گئی ہے کتنے خوش قسمت لوگ ہیں جو صحت اور تندرستی کی تلاش کرنے کیلئے باسی روٹی کو اپنی زندگی کا ساتھی بناتے ہیں اور کتنے بدقسمت ہیں جو صحت اور تندرستی کیلئے جھاگ دار مشروبات کولا ڈرنک فاسٹ فوڈز اور رنگ برنگی غذائیں اپنی زندگی میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ آئیے! باسی روٹی سے معذرت کریں کہ ہم تیرے ساتھ بے وفائی کرکے زندگی کو پریشان کر بیٹھے ہیں سکھ ‘خوشحالی‘ سکون اور صحت برباد کر بیٹھے ہیں اگر میری بات کا یقین نہیں آتا تو یوٹیوب نیٹ اور فیس بک پر تھوڑا سا تلاش کرکے دیکھیں میں نے خود دیکھا ہے باسی روٹی کو سائنس واپس لارہی ہے کیونکہ فطرت کی طرف پلٹ آنا سائنس کی پرانی عادت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *