دانتوں کے امراض کیلئے آزمودہ ٹوٹکہ ایک بار ضرو ر آزمائیں

میری نانی ایک منجھن کرتی تھیں۔ مجھے فرماتی تھیں کہ قبرستا ن جاکر وہاں جال کے پتے توڑتے آنا۔ پیلو کے ۔ تو میں وہ توڑتا آتا۔ اس کو دھولیتے ۔ اور دھونے کے بعد اس کوخشک کرلیتے۔ خشک کرنے کے بعدا ن کو کوٹ لیتے۔ اتنا زبردست منجھن بن جاتا ۔ کبھی اس کو استعمال کرکے دیکھیں۔ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا۔سارا فاسفورس اور کیلشیم بلکہ ہزارو ں وٹامنز اے سے لیکر زیڈ تک اس پتوں میں تھے۔ ان پتوں کو آپ لگا کے دیکھیں۔ یہ پیلو کا درخت عام ہے۔

اور قبرستان میں ویسے عام ہوتا ہے۔ اس کے پتے لے لیں۔ یا نیچے سے پتوں کا ڈھیر لگا ہوتا ہے ۔ ان کو چن لیں ۔ ان کو دھو کر ان کو صاف کرلیں۔ پانی میں ڈال کر دو تین مرتبہ ڈبو کر جو مٹی ہوگی وہ نیچے بیٹھ جائے گی۔ اس کو دھو کر ان کو کپڑوں پر خشک کرلیں۔ خشک ہونے کے بعد ان کو پیس لیں۔ اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ ہاتھوں سے پیس جائیں گے ۔ ان کو اتنا پیسنا کہ جیساپاؤڈر ہوتا ہے۔ یہ منجھن مل کر دیکھیں۔ دانتوں میں ا س کو انگلی سے لگائیں۔ اندر باہر لگائیں ۔

اور چند لمحوں کے لیے چھوڑ دیں۔ اس منجھن میں دانتوں کی وہ بیماریوں کا علاج کرنا ہے کہ آپ گمان نہیں کر سکتے۔ یہ بڑے عرصے کے بعد مجھے یہ منجھن یا د آیا ۔ اور اس لیے بتا رہا ہوں۔ میری نانی عمر بہت لمبی عمر پائی ۔ لیکن ان کے دانت اتنے تھے کہ اب بھی کھانا چپا لیتی۔ اور ایک دفعہ مجھے یا د ہے فرمانے لگیں یہ میرے دادا کرتے تھے ۔ اور ان کے دانت سارے محفوظ تھے ۔ اور ایک دانت ان کی لمبی عمر تھی ۔ اور میں نے پھر چند لوگوں کو بتایا۔ زیادہ نہیں بتا سکا۔

اور جس کو یہ منجھن بتایا ۔جن کے دانتوں میں کیڑا تھا جن کے دانت ہل رہے تھے ۔ جن کے دانت کے مسوڑھے جگہ چھوڑرہے تھے ۔ اور پیپ بہتی تھی ۔ منہ میں بدبو تھی۔ دنیا کی ہردوا ، ہر منجھن، ہر پیسٹ ناکام ہوگیا تھا۔ ہر برش ناکام ہوگیا تھا۔ وہاں جب میں نے ان کو کہا کہ اس کو ملیں۔ کمال اس کی تاثیر ، اگر اس کے کچھ ذرے اندرے چلے جائیں تو کیا حرج ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *