قربانی سے پہلے ناخن و بال کاٹنے سے نبی کریم ﷺ نے کیوں منع فر ما یا ہے؟

ذی الحجہ کی آمد آمد ہے اس مبارک مہینے میں دو عبادتیں مسلمانوں پر فرض ہیں اور اسی طرح یہ مہینہ بھی عشرالحرام کے مہینوں میں سے ایک ہے جس نے قربانی کرنی ہو حدیث مبارکہ کے تحت اسے ذی الحجہ کے چاند طلوع ہونے کے بعد سے قربانی تک اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے منع فر ما یا گیا ہے لیکن یہ حکم وجو ہی نہیں یعنی اس پر عمل کر نا بہتر ہے لہٰذا کسی نے بال یا ناخن کاٹ لیے تو گ ن ا ہ گار نہیں ہو گا یہاں پر ایک بات واضح رہے

کہ زیرِ ناف بال ، بغلوں کے بال، اور ناخن چالیس دن کے اندر کاٹنا ضروری ہیں چالیس دن سے زائد بڑھانا مقروع تحریمی اور گ ن ا ہ کا کام ہے لہٰذا کسی نے ناخن یا زیرِ ناف کئی دن سے بال نہیں کا ٹے۔ اور قربانی تک نہ کاٹنے سے چالیس دن سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہوتو اب وہ عمل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لیے بال اور ناخن کاٹنا ضروری ہے۔ لہٰذا ابتدائی دس دنوں میں بال اور ناخن نہ کاٹنا فرمان ِ مصطفیٰ ﷺ سے ثابت ہے اور حدیث میں جوا س کی ممانیت آ ئی ہے

ی ممانیت مقروعِ تنضیہی پر معمول ہےاور اس پر قربانی و عدم ادائیگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر کوئی عشرہ ذی الحجہ میں بال یا ناخن کاٹ لے تب بھی اس کو کسی بھی قسم کا مسئلہ نہیں ہو گا۔ قراہت کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اور ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہو جا ئے تو اسے چاہیے کہ قربانی تک بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹے۔ رسول اکرم ﷺ نے فر ما یا جب عشرہ ذی الحج داخل ہو جا ئے تو جس شخص کے پاس قربانی ہو اور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ نہ اپنے بال کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے۔

جس وقت عشرے ذی الحجہ شروع ہو جا ئے یا کسی کی طرف سے اپنے مال میں سے قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو اپنے زیرِ ناف بال، مونچھوں اور سر اور بغلوں یعنی جسم کے کسی حصے سے قربانی کر لینے تک بال نہیں کا ٹنے ۔ اسی طرح ہاتھ یا پاؤں قربانی کر لینے تک ناخن نہیں کاٹنے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آپ عید ِ قربانی کی قربانی کا احترام کر یں۔ اور جو ثواب احرام میں ملبوس حجاجِ کرام شہر کا احترام کر تے ہوئے پا یا ہے

وہ غیر حجاج بھی حاصل کر لیں۔ اس وقت تک سر کے بال نہیں منڈواتا جب تک اس کے حج کی قربانی نہ ہو جا ئے حج کی سعادت حاصل کرنے والے ارکان کے لیے بھی عمل کے لیے مل جا ئے ارشادِ نبی ﷺ سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے والا ذیالحج کا چاند نظر آ نے تک نہ بال کاٹے نہ ناخن تراشے۔ لہذا قربانی کرنے والا شخص ایک دو دن پہلے غیر ضروری بالوں کی صفائی کر ے اور اپنے ناخن اور سر کے بال ترشوا لے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *