شیر اور لکڑہارا، سبق آموز کہانی

ایک لکڑہارے کی شیر کے ساتھ دوستی ہو گئی،لکڑ ہارا جب بھی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا شیر اس کے پاس جاتا اور دونوں خوب باتیں کرتے ۔ لکڑہارا بھی بغیر کسی خوف کے شیر کے پاس بیٹھا رہتا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شیر کبھی اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ایک دن ایک آدمی نے دونوں کو پاس بیٹھے دیکھ لیا ، وہ بہت حیران ہوا ۔

شیر کے جانے کے بعد اس نے لکڑہارے سے کہا مجھے تمہاری عقل پر حیرت ہوتی ہے کہ تم شیر کے پاس بیٹھے رہتے ہو اگر اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو؟ لکڑہارے نے جواب دیا کہ شیر میرا دوست ہے اور وہ مجھے کبھی نقصآن نہیں پہنچائے گا۔ اس آدمی نے کہا کہ مان لیا تمہارا دوست ہے لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ وہ ایک درندہ ہے اور تم کسی درندے پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہو اسے اگر کہیں اور خوراک نہ ملی تو وہ تم پر بھی حملہ کر کے اپنی خوراک بنا سکتا ہے۔ بات تو تمہاری ٹھیک ہے چلو میں آئندہ احتیاط کروں گا۔اتفاق سے لکڑہارے کی یہ بات شیر نے سن لی اسے بہیت دکھ ہوا ۔ اگلے دن جب وہ لکڑہارے سے ملا تو اسے کہا کہ میری کمر پر کلہاڑی سے وار کرو۔ لکڑہارے نے حیرانی سے پوچھا پاگل تو نہیں ہو گئے میں تم پر وار کیوں کروں گا۔لیکن شیر ضد کرتا رہا کہ نہیں مجھ پر وار کرو۔ مجبورا لکڑہارے نے اس کی کمر پر وار کردیا۔ شیر کو گہرا زخم آیا لیکن وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا ۔ اس واقع کے بعد بھی شیر لکڑہارے سے ملتا رہا اور اس کا زخم بھی آہستہ آہستہ بھرتا رہا ۔

جب زخم بالکل بھر گیا اور نشان بھی ختم ہو گیا تو اس نے لکڑہارے سے کہا کہ دیکھو تم نے اپنی کلہاڑی سے مجھ پر وار کیا تھا وہ بالکل بھر گیاہے اور نشان بھی باقی نہیں رہالیکن تم نے اس دن مجھے درندا کہا اور میری دوستی پر شک کر کے اپنی زبان سے جو زخم لگایا تھا وہ آج بھی تازہ ہے۔ لکڑہارا شیر کی یہ باتیں سن کر بہت شرمندہ ہوا اور وعدہ کیا کہ وہ آیندہ کبھی ایسی کوئی بات نہیں کرے گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔

ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی زبان سے کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں ۔ کتنے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں اور کتنے لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں۔ ہم کہہ کر بھول جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ ہمارے کہے گئے الفاظ کسی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *