اباکاویزہ لگ چکا تھا

ابا تم کوشش کرو کہ واپس ہی چلے جاؤ۔,,بیٹے نے بے حس لہجے میں کہا- انکل نذیر نے لاچاری سے بیٹے اور بہو کی طرف دیکھا۔پھراپنی ٹانگ کے زخم کو جو شوگر کی وجہ سے ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔

پچپن سال کی عمر میں ستر سال کا دکھنے والا نذیر چند ماہ قبل ہی بیرون ملک سے واپس آیا تھا۔بیوی کچھ عرصہ قبل روڈایکسیڈنٹ میں جان کی بازی ہار گئی تھی- وقت کی بےحسی و بے اعتنائی بھی اپنی جگہ اٹل ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے کچھ سالوں میں جیسے کئی صدیاں بیت گئیں-شفاف چہرہ سلوٹوں سے بھرگیا-اسے وہ دن یاد آگیاجب اس کا بیٹا حیدر چار سال کا تھا۔اور سالانہ چھٹی کا وقت آ گیا۔خوشی سے پاؤں زمین پر نہیں ٹِک رہے تھے۔اچانک ٹیلی گرام آیا۔

حیدر کے چھت پر سے گرنے کی اطلاع کے ساتھ پیسوں کا تقاضا۔جو پیسے اس کےپاس تھے گھربھیج کر اگلے دن کام پر چلا گیا۔خود وطن جانے کا ارادہ منسوخ کردیا- اگلے سال چھٹی پر پاکستان آیا۔سب کے تحفے۔بیوی کے لیے بالیاں اور حیدر کے لیے سیل سے چلنے والا طوطا , چند دن گزرے ۔

بھائی کی ٹارچ خراب نکلی۔تو واپس کر گیا۔بہن کو سوٹ کا رنگ پسند نہ آیا۔ ایک دن باہر سے لوٹا تو طوطے کے پر گھر میں بکھرے ہوے تھے۔ حیدر نے ابا کو دیکھ کر باقی ماندہ طوطا زور سے اس کی طرف پھینکا۔بچتے بچاتے بھی آنکھ کے اوپر لگا اور خون بہہ نکلا۔وہ آنکھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا اور حیدر ہنسنے لگا۔

آنکھ کا زخم ٹھیک ہوتے ہوتے چھٹی ختم ہو گئی۔کاندھوں پر ذمہ داریوں اور فرمائشوں کا بوجھ اٹھائے دیارِغیر میں جا پہنچا-دن رات کی محنت۔کفیل کا حد سے زیادہ لالچ اور پاکستان سے آنے والے مطالبوں نے پہلے تو بال سفید کیے, پھر ایک دن کام کے دوران چکرا کے گرا تو ڈاکٹر نے شوگر کی تشخیص کی اور گولیوں کا پتا ہاتھ میں تھما دیا۔

ہمت کر کے لگا رہا حیدر دسویں میں پہنچ گیا اس دوران تین بار پاکستان گیا ہر بار حیدر کا رویہ پہلے سے خراب تر ہوتا گیا۔

وہ اپنے باپ کو مہمان سمجھتا اور اپنے معاملات میں دخل اندازی بھی برداشت نہ کرتا۔اگلی بار نذیر نے سوچا اب کافی ہو چکی۔ایک پلاٹ قسطوں پر لیا تھا وہ بیچ کر پاکستان میں کچھ کام کر لوں گا۔بیوی سے بات کی۔وہ چھوٹتے ہی بولی”وہ تو حیدر کہہ رہا ہے

بیچ کر کچھ کام کر لے گا۔اسکی شادی بھی تو کرنی ہے۔تم اسکا کام جمنے تک رکو۔گھر بھی تو چلانا ہے۔”حیدر نے پلاٹ بیچ کر کسی دوست کے ساتھ مل کر ایمبرائیڈری کی مشین میں حصہ ڈالا اور ایک سال بعد سارے پیسے نقصان میں دے کر گھر آ بیٹھا۔

ماں نے پہلے بات کو چھپائے رکھا پھر بالا ہی بالا اسکا رشتہ اپنی بہن کی بیٹی سے طے کر کے شادی کے اخراجات کا رونا شروع کر دیا۔ اس نےادھر ادھر سے پیسے پکڑ کے بھیجھےاور چپ ہو رہا۔

چند سال گزرے۔تو بیوی بازار جاتے ہوے ایکسیڈینٹ میں چل بسی اور نذیر اسکی شکل بھی نہ دیکھ سکا۔ شوگر اب گولیوں سے بڑھ کر ٹیکے پر پہنچ گئی۔ٹانگ پر ایک نامراد زخم ایسا لگا جو ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔کفیل بھی اب اکتایا ہوا تھا۔انکل نذیر نے واپسی کی راہ لی۔ چند دن تو بیٹے،بہو کو بریف کیس کی تلاشی دینے اور پیسوں کا بتاتے ہوئےگزر گئے۔ جب بہو کو پتا چلا کہ بابا جی اب خالی ہاتھ ہیں۔

تو کنی کترانے لگی۔ شوگر کا مریض،کھانا بے وقت۔دوائی میں بھی ناغہ۔انکل نذیر ہسپتال پہنچ گیا۔ دس دن میں حیدر کی جیب کے پیسے اور بچی کچی محبت تمام شد ہوئی،زبان میں تلخی در آئی لیکن دنیا داری کے تقاضے نبھاتے انکل نذیر کو گھر لے آیا۔کچھ دن میں وہ کچھ بہتر ہوا تو حیدر نے مہنگائی کا رونا روتے ہوئے واپس کام پر جانے کا کہا۔بہو نے لقمہ دیا۔”اگر کفیل آدھی سیلری بھی دے تو کافی ہے”کچھ تو اس مہنگائی میں آسرا ہو گا”

اس نے آہ بھر کر کہا “کل پاسپورٹ بنانے جاؤں گا-” اگلی صبح جب حیدر،اسے پاسپورٹ دفتر لے جانے کے لیے کمرے میں آیا تو وہ کمرے کے بیچ میں پڑا تھا۔اسکا منہ کھلا اور آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں ۔ انکل نذیر کا ویزہ لگ چکا تھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *