اللہ بہت بڑا ہے

ایک شیشا سے بھرا ہوا ٹرک دوسرے ٹرک سے لگ گیا۔ بے چارے کا سارا شیشا ٹوٹ گیا قصور وار یعنی دوسرا ڈرائیور حسب معمول بھاگ گیا اور جس کا شیشا کا نقصان ہوگیا تھا ‘فٹ پاتھ پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ مالک کو کیا جوا ب دوں گا۔ لوگ اس کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور تسلی دینے لگے۔

اتنے میں ایک بزرگ آگے بڑھے اور سو روپے اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہنے لگے بیٹا اس سےنقصان تو پورا نہیں ہوگا لیکن رکھ لو‘ بزرگ کی دیکھا دیکھی باقی لوگوں نے بھی اس کے ہاتھ پر

سو پچاس کے نوٹ رکھنے شروع کردئیے تھوڑی ہی دیر میں نقصان کی قیمت پوری ہوگئی‘ اس نے سب کا شکریہ ادا کیا تو ایک شخص بولا بھئی شکریہ ان بزرگ کا ادا کرو جنھوں نے ہمیں یہ راہ دکھائی اور خود چپکے سے چل دئیے۔ ڈرائیور بولا ان کا شکریہ تو میں فیکٹری پہنچ کر ادا کردوں گا وہی میرے مالک ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *