وہ لڑکی سکول پڑھانے کے بہانے اپنے عاشق سے ملنے جایا کرتی تھی وہ شکل سے معصوم لگتی تھی

ایک روز جب عائشہ سکول پڑھانے گئی تو واپس نہیں آئی۔ ماں نے تمام دن انتظار کیا شام سے رات ہوگئی مگر وہ واپس نہ لوٹی۔ تو ماں کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ ہمارے گھر آئیں اور امی سے کہا بہن میں بہت پریشان ہوں۔ ضرور میری بچی کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آگیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان زمینداروں نے ضرور عائشہ کےساتھ کچھ کیا ہے۔

انہوں نے ہی بدلہ لیا ہے۔ کاش میں عقل سے کام لیتی اور ہاں کہ دیتی تو یہ دن نہ دیکھنا پ۔ڑتا۔ ہاں بہن تم نے ہاں کہی ہوتی تو عزت سے بیٹی رخصت ہوتی۔ بڑے لوگ انکار سننے کے عادی نہیں ہوتے۔ اب بیٹی بھی گئی اور بد نامی کا داغ بھی لگ گیا۔ خالہ جی آن سو پونچھتی چلی گئی۔ جب ہفتہ گزر گیا۔ انہیں غشی کے دورے پ۔ڑنے لگے کہ اللہ جانے عائشہ پر کیا بیتی ہے اور لوگوں کے سوالوں کا میں کیا جواب دوں گی کہ لڑکی کدھر گئی۔ وہ رو کر امی سے اپنے دل کا حال کہتیں اور امی چپ رہ جاتیں۔ جب میری والدہ سے بھی محلے والیاں پوچھتی کہ عائشہ کہاں چلی گئی ہے تو میری امی جواب دیتی کہ اس کی شادی ہوگئی ہے۔ تو محلے بھر کے لوگ حیران رہ جاتے کہ نہ ڈھول بجے نہ تاشے، نہ بارات آئی پھر عائشہ کیسے شادی شدہ ہوگئی۔ ہر کسی کے منہ پر یہی بات تھی لڑکی بھاگ گئی ہے ۔ تبھی عائشہ کی ماں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ یہ گھرانہ اپنی نیک نامی اور رکھ رکھاؤ کے باعث محلے بھر میں غربت کے باوجود سب سے معزز تھا۔ اور آج صدیوں کی عزت خا ک میں مل گئی تھی سب سے زیادہ ش۔امت عائشہ کی چھوٹی بہن کی آئی کہ وہ اب کالج نہیں جا سکتی تھی۔

سبھی اس سے عائشہ کے بارے میں پوچھتے کہ تمھاری بہن کہاں گئی ؟ کیا وہ واقعی بھاگ گئی ہے۔ محلے کی لڑکیاں جو اس کے ساتھ پڑھتی تھیں انہوں نے اس کا جینا م رنا حرام کر دیا تھا۔ اب تو عائشہ کو گھر سے گئے سات برس بیت گئے تھے گھر والوں نے سمجھا کہ وہ ہمارے لئیے م۔ر گئی ہے۔ ایک دن اتفا ق سے وہ مجھے ریلوے اسٹیشن پر مل گئی ۔ ہم ایک ہی ڈبے میں سوار تھے مجھے بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے بتایا میری شادی عبداللہ سے ہوچکی ہے۔ میں اپنے گھر میں سکھی ہوں۔ چار بچوں کی اب ماں ہوں۔ مگر جو دکھ میں نے اپنی ماں کی جھولی میں ڈالا وہ ضمیر پر کسی بڑے بوجھ کی طرح ہے۔ بے شک میں نے اپنی مرضی سے شادی کی اور سب یہ سمجھتے ہیں کہ میں بہت سکھی ہوں مگر میرا دکھ کوئی نہیں جانتا میں نے اس وقت اپنی غریب بیوہ ماں کا ساتھ چھوڑا جب اس کو سب سے زیادہ میرے ساتھ کی ضرورت تھی۔ مجھے یہ غم کھائے جاتا ہے کہ میں نے اپنی ماں کی عزت کی دھجیاں اڑائیں۔ اپنی چھوٹی بہن جو شادی شدہ نہیں تھی اس کے مستقبل کا نہ سوچا۔ سب میرے بھائیوں کو کیا بولیں گے کہ ا س کی بہن بھاگ گئی تھی میں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ جب سے میرا تعلق میکے سے ٹوٹا ہے۔ مجھے ایک دن بھی سکون نہیں ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ، سب سہولتیں میسر ہوتے ہوئے بھی جو میں چاہتی تھی سب کچھ ملنے کے باوجود۔

مجھے ایک پل کے لئے بھی دل میں حقیقی چین اور خوشی نہیں ہے۔ بابل کا گھر چھوٹا بیشک ٹوٹا پھوٹا کیوں نہ ہو جنت سے کم نہیں ہوتا۔ اب سمجھ میں آیا کیوں میری شادی شدہ بہنیں روز روز میکے آجاتی تھیں وہ اپنے گھر میں سکھی رہ کر بھی ماں باپ کے گھر کی ٹھنڈی چھاؤں نہیں بھولتی تھیں۔ برگد کے چھت نار درخت جیسی ماں جو ہمیشہ تپتی دوپہروں میں بھی ان پر اپنی گھنی چھاؤں ڈالے رکھتی تھیں باپ کے ف وت ہوجانے کے بعد وہ تو ماں کی دل جوئی کرنے اور ماں کا پیار لینے کے لئے آتی تھیں اور میں تھی کہ ہر وقت ان سے تنگ پڑی رہتی تھی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ اچھا سسرال اور پیار کرنے والا شوہر ملا ہے۔ رہنے کو حویلی ہے گاڑی ہے نو کر ہیں میں ایک صاحب حیثیت خاندان کی بہو ہوں۔ میرے بچوں کو زندگی کی ہر نعمت میسر ہے لیکن پھر بھی میکے کی یاد دل میں ٹیس کی طرح اٹھتی ہے۔ جب دکھیاری ماں کی شکل آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ جب میں اپنے چھوٹے چھوٹے غریب یتیم بھائیوں کا سوچتی ہوں جب میں اپنی غیر شادی شدہ بہن کے مستقبل کا خیال کرتی ہوں تو یہ میں سوچ کر م۔رنے لگتی ہوں۔ کہ میں نے اپنی شفیق ہستی جیسی ماں کو اتنا دکھ دیا ہے۔ اپنی ماں کی دکھوں اور تکلیفوں کو بانٹنے کی بجائے میں ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر بھاگ گئی صرف اپنی خوشی کی خاطر ، تاکہ مجھے آرام مل سکے ۔ مجھے آسائشیں میسر آسکیں۔

میں کتنی بے حس اور بد قسمت تھی کہ ان فانی آسائشوں کو حاصل کرنے کے لئے میں نے اپنے حقیقی رشتوں کو چھوڑ دیا۔ ان کی عزتوں کا خیال تک نہ کیا۔ اب تو نہ میں چاہتے ہوئے ان کے پاس جاسکتی ہوں اور نہ وہ میرے پاس آسکتی ہیں کہ میں تو ان کے لئے اب م۔رچکی ہوں۔ ماں کیسے آئے گی کہ داماد طعنے دیں گے۔ اور بیٹے بھی طوفان کھڑا کر دیں گے عائشہ نے میرے سے التجاء کی کہ میں اس کی ماں کے گھر میں جا کر خالہ جی کو تسلی دوں وہ مجھے کہنے لگی کہ میری طرف سے ماں سے معافی مانگنا۔ کاش میں ان کے قدموں میں سر رکھ سکتی ۔کاش میں ہاتھ جوڑ کر اپنی ماں سے معافی طلب کر سکتی۔ کاش میں ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتی۔ کون جانے زندگی کتنی ہے۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ کیا پتہ میں کبھی اپنی پیاری ماں اور بہن بھائیوں سے مل بھی سکوں گی یا نہیں بس یہی خیال دن رات مجھے پریشان رکھتا ہے۔ چھ ماہ بعد جب میں اپنے سسرال سے میکے گئی تو خالہ جی کے گھر بھی گئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ کی بیٹی مجھے ٹرین میں ملی تھی وہ بہت سکھی ہے اس کے بچے بھی ہیں۔اچھی زندگی گزار رہی ہے۔

خوش و خرم ہے۔ آپ عائشہ کی فکر نہ کیا کریں۔ بس دعا کیا کریں عائشہ کے لئے !اس نے آپ سے معافی مانگی ہے۔ یہ سن کر خالہ جی کی آنکھوں میں آن سو آگئے آخر ماں تھی تو اس کے لبوں سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے ۔ اللہ اسے ہمیشہ سکھی رکھے۔ جہاں بھی رہے خوش رہے۔ اور پھر ان کی آنکھوں سے آن۔س وؤں کی جھ۔ڑی لگ گئی۔ کاش کہ میں رسم و روا ج کو توڑ کر ان کا دکھ مٹ۔ا سکتی۔ کاش میرے ذریعے یہ بچھ۔ڑی ہوئی ماں بیٹی مل سکتیں۔ مگر میں یہ نہ کر سکتی تھی۔ کیونکہ میں خود علاقے کے رسم و رواج میں جک۔ڑی ہوئی ایک بے بس عورت تھی۔ جس کو اپنے گھر کے م۔ردوں کی اطاعت اور فرماں برداری کی تربیت دی گئی تھی۔میں نے اپنے شوہر سے ایک دن پوچھا کہ کیا میں عائشہ کے پاس جاسکتی ہوں کیا میں اس سے ملاقات کسی طرح کر سکتی ہوں۔ کیا میں ایک بار کوشش کر وں کہ کسی طرح خالہ جی اپنی بیٹی سے مل لیں۔ میرے شوہر نے بولا ہر گز نہیں! انہوں نے بہت سختی سے جواب دیا۔ جس نے اپنے عزت دار ، م۔رحوم باپ کی عزت کو مٹی میں ملایا تھا ایسا باپ جو کہ خود استاد تھا لوگوں کو بچوں کو ہدایت کا درس دیتا رہا ۔

اپنی اس بیوہ ماں کی ح۔رمت و نام۔وس کو اپنے پیروں تلے رون۔د دیا ہے۔ اور بھ۔اگ کر اپنی مرضی سے شادی کر لی۔اپنے عی۔ش کی خاطر۔ ایسی لڑکی سے تم نام ناطہ رکھنے کی بات کرتی ہو۔ جس کے اپنوں نے اس سے کوئی ناطہ اور واسطہ نہیں رکھا۔ جس نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ کہ اس کے گھر والوں پر کیا بیتے گی۔ جس نے کڑے اور مشکل وقت میں اپنی ماں کا ساتھ چھوڑ دیا اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب وہ ان کی نہیں رہی تو تمھارے سے کیا دوستی نبھائے گی۔ تو تم آئندہ ایسی بات کا سوچنا بھی نہیں۔

اپنے شوہر کے کڑے تیور دیکھ کر پھر کبھی مجھے دوبارہ ان سے عائشہ کے بارے میں کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوئی۔ اور کہتے بھی تو سچ ہی تھے نہ۔ معاشرے میں ایسی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جب جہاں لڑکیاں یا لڑکے اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنی خوشی کے لئے ماں باپ  کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ پیچھے کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتے شائد کامیاب بھی ہوجاتے ہیں سب کچھ پا بھی لیتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی دل میں ہر وقت ایک کرب رہتا ہےکہ ماں باپ کا ساتھ نہ دیا۔ ان کے ہونٹوں پر تو جھوٹی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن دل میں سکون اور خوشی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ماں باپ کی نافرمان بیٹیاں سب کچھ پا لینے کے باوجود بھی خالی دامن رہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *