”اس کی بیٹیاں بری عورتوں کے چنگل میں جا کر ان کے ساتھ۔۔ ایک باپ کی درد بھری داستان“

اچانک اس کی آنکھ کھلی کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی اس نے اتنا جان لیا کہ اس کی اماں ہو رہی ہے وہ کچھ لمحے یوں ہی لیٹا رہا اور رونے کی آواز سنتا گیا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور اس کی اماں کمرے میں داخل ہوئی، کمرے میں تاریکی تھی اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر اس نے جان لیا تھا کہ دروازہ کھلتے ہی اس کی اماں نے ان سب کو روتے ہوئے اٹھنے کے لئے کہا تھا، اس کے ساتھ اس کمرے میں اس کی چار بہنیں بھی سو رہی تھیں، جن سب کی عمر اس سے زیادہ تھی، سب جاگ کر اٹھ بیٹھے تھے کہ اسی دوران کمرے کی دیوار پر لگا ہوا زرد رنگ کا بلب جلا اٹھا اور روشنی پھیل گئی اس نے ماں کی صورت دیکھی جو خاصی حواس باختہ لگ رہی تھی

نہ جانے کچھ نہ ملا اس کے ابا کے دل کی دھڑکن ساکت تھی وہاں دھڑکن کی آواز روٹھ کر کہیں بہت دور چلی گئی تھی، اس نے اماں کی طرف دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اس کے ساتھ ہی اس کی اماں اور بہنیں بھی دھاڑیں مار کر رونے لگیں ان کا ان کو اکیلا چھوڑ کر دوسرے جہاں کے سفر پر جا چکا تھا، ابا کی تدفین ہو چکی تھی آس پڑوس کے ساتھ ساتھ اپنے پراۓ اور رشتہ دار بھی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے گھر میں اگر کوئی تھا تو وہی بھائی اماں اور چار بہنیں تھیں اور ان کے سوا چار دیواریں اور ایک چھت، تقریبا ایک ماہ گزر گیا وہ آہستہ آہستہ سنبھل رہے تھے ابا کے جانے کا غم بھلانا کافی مشکل تھا مگر زندگی بھی ابھی باقی تھی اور وہ ان کو کاٹنی تھی سو وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ ان کی اماں کے پاس ایک ایک پیسہ ختم ہوتا گیا آخر وہ دن آ پہنچا جب کچھ دن کے بعد شاید ان کے پاس کچھ نہ ہوتا اسی دوران اس نے سوچا کہ اب اسے کچھ کام کاج ڈھونڈنا چاہیے کیونکہ اتنا تو وہ جانتا تھا

کہ سب کچھ خریدنے کے لیے پیسہ ضروری ہے اور پیسہ آسمان سے زمین پر نہیں آتا بلکہ اس کو زور بازو سے چھلانگ لگا کر پکڑنا ہے دوسرے دن ہی اس نے اماں کو بتایا کہ وہ کام ڈھونڈنے جا رہا ہے تو اس کی اماں کی آنکھوں میں آنسو ڈگمگانے لگے اس سے وہ آنسو دیکھے نہ گئے اور گھر سے نکل گیا آج اسے کام کرتے ہوئے دسواں دن تھا وہ ایک موٹرسائیکل ٹھیک کرنے والے کے ساتھ کام پر لگ چکا تھا جو اسے دن کے پچاس روپے دیہاڑی دیتا تھا شام کوجب وہ جب وہ جاتا تو اس کے دل کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا شاید وہ اس وجہ سے کہ اب اس کی اماں کی آنکھوں میں آنسو نہیں آتے تھے وہ جاتے ہی 50روپے اماں کے ہاتھوں میں دے دیتا تھا

اور اماں کی زبان سے دعائیں بہار کے پھولوں کی طرح مہکنے لگتیں اس کا جسم دن بدن بڑھتا رہا برسوں بیت گئے اور وہ 50 روپے روز لاتا رہا اب وہ پچاس روپے پانچ سو روپے میں تبدیل ہوچکے تھے کہ آخر ایک دن آیا جب اس کے مالک نے اس کو کہیں اور کام ڈھونڈنے کا کہا کیونکہ مالک نے اپنا دکان کسی اور کو بیچ دیا تھا اس دن وہ بہت اداس رہا اور گھر آکر بھی انہی سوچوں میں گم تھا کی کلاس کے پچاس روپے کہاں سے آئیں گے نہ جانے کب اس کی آنکھیں بند ہوئیں اور وہ خوابوں کی دنیا میں چلا گیا۔ بیٹا تا نگہ زرا تیز تیزچلانا ہمیں دیر ہو رہی ہے اس نے یہ آواز سنی جو تانگے میں بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے کی تھی جو کہیں جا رہا تھا اس نے تانگے کے دونوں بازو اپنے ہاتھوں کے پنجوں میں مضبوطی سے پکڑے اور قوت صرف کر کے اسے اٹھایا اور چل پڑا سارا راستہ اس نے کافی تیز رفتاری کے ساتھ طے کیا باوجود اس کے کہ وہ سارا پسینے میں شرابور تھا سخت گرمی اور پیاس کی شدت کے باوجود بھی وہ نہیں رکا اور ایک ہی دم میں اپنی سواریوں کو مطلوبہ مقام تک پہنچا دیا بوڑھا شخص تانگے سے اترا اور اس کو کرایہ دے کر ایک طرف چل پڑا اس نے اسے جاتے دیکھا اور پھر یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگا

کسی دوسری سواری کے لیے لیکن سے کوئی نہ ملا اس نے تانگہ کھینچا اور ایک سایہ دار جگہ پر کھڑا ہو گیا کچھ ہی دور ہے پانی کے مٹکے سے پانی پیا اور پھر آ کر تانگے کے ساتھ کھڑا ہو گیا بیٹا نرگس اب بڑی ہو گئی ہے اور اب اس کی شادی کی عمر ہے زیادہ دیر تک کنواری بیٹی کو گھر بٹھانا اچھا نہیں سمجھا جاتا اس کی ماں نے ایک دن اس سے کہا، اور وہ سوچنے لگا کے واقعی اس کی اماں ٹھیک کہہ رہی تھی مگر وہ کیا کرتا تانگے کی مزدوری میں اتنا منافع نہیں تھا کہ وہ کچھ بچا لیتا گھر کی دال روٹی ہی بڑی مشکل سے آتی تھی اس کی کمائی میں تاہم اس نے ایک گہری سانس لی اور سوچ میں ڈوب گیا اس نے اپنے شانوں پر موجود گرد کو ہاتھوں سے جھاڑا اور رسی اپنی کمر کے گرد باندھ کر اس بلند و بالا عمارت سے نیچے اترنے لگا تین مہینے ہو چکے تھے اب وہ تانگہ چلانے کے ساتھ ساتھ یہاں کام بھی کرتا تھا دن کو یہاں آ جاتا اور شام کے بعد ریلوے اسٹیشن پر چل کر سواریاں اٹھاتا تھا اب اس کے پاس کچھ پیسے بچ جاتے تھے جو وہ بڑی احتیاط سے رکھ لیتا تاکہ بڑی بہن کی شادی کا خرچ پورا کر سکے دن کے گزرتے گئے اور وقت کے گھوڑے نے ہوا میں اڑان بھری دس سال پانچ مہینے اور بیس دن کیسے گزرے کچھ معلوم نہ تھا

اگر ان دس سالوں میں کچھ ہوا تھا تو وہ یہ کہ اس نے ہر وہ مزدوری کی جہاں سے اس کو کچھ ملا بوجھ اٹھایا تانگہ چلایا سبزیاں بیچیں کھودال لے کر زمین کا سینہ چاک کیا ایسے کتنے ہی کام اس نے کیے اسے خود بھی یاد نہیں تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کی چاروں بہنوں کی شادیاں ہو گئی تھیں اس کی اماں کے بالوں میں سفید چاندنی بکھر گئی تھی وہ اب بھی زندگی کے اس دور میں تھا جہاں انسان کو کسی دوست کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ایک دن ماں نے اس سے کہا بیٹا تمہارے لئے ایک لڑکی دیکھی ہے اس نے اماں کو کچھ نہ کہا اور سر جھکا دیا اس کی شادی ہو گئی اور وہ اب کچھ پر سکون سا رہنے لگا مگر یہ سکون اس دن ختم ہوا جب اس کے گھر میں بیٹی کی پیدائش ہوئی شادی کے بعد ذمہ داری اور بڑھ گئی اور اب تو اولاد بھی آ گئی تھی اب وہ رکشہ چلا رہا تھا جو ایک دوست نے اسے قسطوں پر دلا دیا تھا اس کے بالوں کا رنگ سفید ہونے لگا تھا

آج وہ تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ تھا اس کی اماں بھی اسے چھوڑ کر ابا کے پاس جا چکی تھی وہ کبھی کبھی سوچتا کہ اس نے زندگی میں کام محنت مشقت کے سوا کیا ہی کیا ہے؟ مگر پھر مسکرا دیتا اور اپنی بہنوں اور جوان بیٹیوں کے بارے میں سوچنے لگتا بیٹیاں بھی اب جوان تھیں اور ان کی شادیاں بھی کرنی تھیں آج اس کے رکشے میں دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں جو کسی فنکشن میں جانے کی باتیں کر رہی تھیں وہ رکشے کو دوڑاتا رہا اور کچھ ہی دیر بعد اس جگہ پر پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ بہت سی لڑکیوں نے کاغذ کے بڑے بڑے سے ٹکڑے اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف قسم کے جملے لکھے ہوئے تھے اس نے ایک لڑکی کی طرف غور سے دیکھا اور پھر اس کی آنکھوں میں اپنی اماں کی طرح آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا اس نے لڑکی کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے بورڈ کو غور سے دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ ہمیں مردوں کی غلامی قبول نہیں ہمیں آزادی چاہیے لڑکی نے بھی شاید اس کو دیکھا دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں اور لڑکی کی آواز آئی ابا آپ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *