اونٹ کی پیدائش کیسے ہوئی اونٹ سانپ کیوں کھاتا ہے اور اس کے بارے میں حیران کن حقائق

اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب پیدا کئے گئے ہیں اونٹوں کا حدیث شریف میں تذکرہ ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ کا نام لو پس تم اس کی خدمت کرو بے شک اللہ ہی نے سواری دی ہے ایک اور حدیث میں ہے اونٹ شیاطین سے پیداکئے گئے ہیں ہر اونٹ کے پیچھے ایک شیطان ہوتا ہے اونٹ ایک ایسا جانور ہے جو صدیوں سے انسانوں کی خدمت کرتا چلا آرہا ہے

ایک عام صحت مند اونٹ چار سوپچاس کلو گرام وزنی اونٹ اٹھا سکتا ہے اونٹ کے بالوں سے نفیس کپڑا بنایا جاتا ہے اس کی کھال سے چمڑے کی متعدد مصنوعات تیار کی جاتی ہیں اونٹ خوراک اور پانی کو چربی میں تبدیل کر کے اپنی کوہانوں میں ذخیرہ کرلیتے ہیں اس طرح وہ کئی دنوں تک بغیر کھائے پئے زندہ رہ سکتے ہیں اس کے پنجے سے ریت اور برف میں دھنسے سے اسے بچاتے ہیں اونٹ کی آنکھ میں ایک بند جھلی ہوتی ہے غلاف چشم کی وجہ سے ان کی آنکھیں صحرائی ریت اور گردو غبار سے محفوظ رہتی ہیں جب ریت کے طوفان آتے ہیں تو ان کے نتھنے بند ہوجاتے ہیں تا کہ ان کے اندر ریت نہ جاسکے اونٹ کی ناک کے نتھنے سامنے سے سیدھے نہیں ہوتے بلکہ ترچھے ہوتے ہیں اسی وجہ سے کھلے نتھنوں میں بھی ریت براہ راست جمع نہیں ہوسکتی اونٹ کو صحرائی جہاز کہاجاتا ہے اونٹ کی دو اقسام زیادہ مشہور ہیں پہلی قسم کے وہ اونٹ ہیں جن کی ایک کوہان ہوتی ہے

دوسرے نمبر پر وہ ہیں جن کی دوکوہانیں ہوتیں ہیں اونٹ چالیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اونٹ کے اوپر والے ہونٹ درمیان سے کٹے ہوتے ہیں یعنی دوحصوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور یہ ان ہونٹوں کو اوپر نیچے حرکت دے سکتا ہے اونٹ کے ہونٹوپر گدی نما کھال ہوتی ہے جس پر چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں ان کی مدد سے یہ اپنے ہونٹوں کو کانٹوں سے محفوظ رکھتا ہے اونٹ کانٹے دار درختوں کو بڑے مزے سے کھاتا ہے کیونکہ اس کی انتڑیاں مضبوط ہوتی ہیں لیکن یہ جانور جو کو بڑی مشکل سے ہضم کرپاتا ہے اونٹ ہر اس گھاس پھوس کو کھا لیتا ہے جس کو دوسرے جانور نہیں کھاتے کئی عرب مما لک میں اونٹوں کی دوڑ لگائی جاتی ہے عموما ان پر بچے سوار کئے جاتے ہیں جو کئی دفعہ گر کر سخت زخمی ہوجاتے تھے بعض اوقات جان کی بازی ہار جاتے تھے اس وجہ سے اب اونٹوں کی دوڑ میں روبوٹ سوار کئے جاتے ہیں جن کو دور سے کنٹرول کیاجاتا ہے

اور بچوں کو دوڑنے والے اونٹوں پر سوار کرنے کی پابندی لگادی گئی ہے اونٹ ایک وقت میں چالیس سے ترپن گیلن پانی پی جاتا ہے ماہرین نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اونٹ تین منٹ میں دوسولیٹر پانی پی جاتا ہے اتنی تیزی سے کوئی دوسرا جانور اتنی زیادہ مقدار میں پانی پینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اونٹ کو ایک بیماری لگتی ہے جس کا نام حیام ہے اس بیماری کے لگنے پر اونٹ کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور مرتے دم تک مشرق سے مغرب تک سورج کو دیکھتا رہتا ہے ماہرین کے نزدیک اس بیماری کا علاج سانپ کو زندہ نگلنا ہے یہ بھی کہاجاتا ہے خود اونٹ سانپ کو کھالیتا ہے جس کے زہر کی وجہ سے اس کو شدید پیاس لگتی ہے اونٹ اس حالت میں سانپ کے زہریلے اثر سے پیاس کی شدت کی وجہ سے ایک ہی سانس میں وافر مقدار میں پانی پیتا چلاجاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں ماہرین نے ان آنسوؤں کو بہت قیمتی قرار دیا ہے ان آنسوں کو چمڑے کی چھوٹی تھیلی میں محفوظ کیاجاتا ہے

اور یہ آنسوں دوسرے آنسوؤں سے بہت مختلف ہوتے ہیں کیونکہ یہ آنسوں سانپ کے ڈسنے کا مجرب تریاق ہیں یعنی ان آنسوؤں سے متعدد بیماریوں کا علاج اور زہر کا علاج بھی کیاجاتا ہے صحرا میں صرف اونٹ ہی وزن اٹھا کر کئی دنوں تک بغیر کھائے پئے میلوں سفر کرسکتا ہے انسان اونٹ پر اپنے سازو سامان کے ساتھ سواری کرسکتا ہے انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہے اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو اس قسم کا اس لئے پیدا کیا ہے تا کہ پانی کی کشتی کی طرح خشکی کی کشتی بھی تیار ہوجائے اونٹ ایک حلال جانور ہے اور اس کا گوشت بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے اونٹ کا گوشت معدے کی تیزابیت سینے کی جلن اور نمونیہ سے بچاتا ہے کالا یرقان پٹھوں کا درد اور پرانے بخار کو ختم کر دیتا ہے اونٹ کا گوشت کھانے سے مردانہ طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے اونٹ کے گوشت میں وائٹامن بی سی اور آئرن وافر مقدار میں ہوتا ہے اونٹ کا گوشت آنکھوں کی بینائی میں اضافہ کرتا ہے

یعنی نظر کو تیز کرتا ہے جوڑوں کا درد اور دمہ جیسی بیماریوں کو ختم کرتا ہے یورپی ممالک میں کئی لوگ اپنا وزن کم کرنے کے لئے اونٹ کا گوشت استعمال کرتے ہیں اونٹنی کا دودھ خاص لذیذ اور مفید ہوتا ہے جس میں بہت ساری بیماریوں کا علاج چھپا ہوتا ہے اونٹنی کا دودھ شوگر کے مریضوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوتا ہے ماہرین حیوانات نے لکھا ہے جس وقت اونٹ کو غصہ آتا ہے تو یہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اس وقت اونٹ بد خلق ہوجاتا ہے اونٹ کے منہ سے سرخ کھال نکلتی ہے یہ اس سے اپنے پیٹ سے نکال کر پھونک مارنے لگتا ہے اور بلبلانے لگتا ہے اور اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے اس طرح غصے کی حالت میں کھانا پینا ترک کر دیتا ہے اونٹ سب سے زیادہ بغض اور کینہ رکھنے والا جانور ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس میں صبرو تحملاور دوسروں پر حملہ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے اونٹ کی خصوصیت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ اپنی ماں پر جفتی کرنے کے لئے نہیں چڑھتا

اونٹ کے بدن میں پتہ نہیں ہوتا شاید اسی لئے اس کے اندر صبرو تحمل کی بے پناہ قوت ہوتی ہے اس کے اندر نہایت اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ ہوتا ہے اس کی فرمانبرداری کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی چوہیا اس کی نکیل دبا کر جہاں لے جانا چاہے آسانی کے ساتھ لے کر جا سکتی ہے کیونکہ یہ اطاعت سے کبھی روگردانی نہیں کرتا اونٹ کے جگر میں عجیب و غریب چیز پائی جاتی ہے جو پتہ کی طرح ہوتی ہے غالبا وہ ایک قسم کی کھال ہے جس میں لعاب لگا ہوتا ہے ماہرین کے مطابق ا س کھال کا یہ فائدہ ہے کہ اگر اسے بطور سرمہ استعمال کیاجائے توآنکھوں پر نکلنے والے دا نے ختم ہوجاتے ہیں اونٹ جب نیچے زمین پر بیٹھتا ہے تو اس کا جسم تھوڑا سااوپر اٹھا ہوتا ہے جبکہ دوسرے جانوروں میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *