جب میری شادی ہوئی تو کہنے لگیں

” بیٹا میں ان پڑھ ہوں تم مجھ سے ذیادہ علم رکھتی ہو۔پھر بھی میں تمہیں کہنا چاہتی ہوں کہ یہ زبان انسان کو تباہ کر دیتی ہے اور یہ ذبان ہی دوسروں سے آپکی عزت کرواتی ہے . برداشت کرنا ٬ صبر کرنا ۔ شوہر کے سامنے اونچی آواز میں مت بولنا۔ بہت صبر کرنا ٬ بہت صبر کرنا.

پھر کہنے لگیں۔ تمہارے نانا ابو جب مجھے ڈانٹتے تو میں ایسے خاموشی سے سنتی رہتی جیسے میری واقعی غلطی ہے۔ جب دو دن گزر جاتے تو مودبانہ انداذ میں شکوہ کرتی ” آپ نے مجھے یوں ہی ڈانٹ پلا دی ۔ یہ کام تو ایسے ہوا تھا” تو وہ خاموشی سے سنتے یا معذرت کرتے۔

پھر کہنے لگیں “دیکھو بیٹا اگر میں ان کو اسی وقت غصے میں جواب دیا کرتی تو لڑائی بڑھتی اور لوگ تماشہ دیکھتے۔اس لییے ذبان کو قابو میں رکھنا”

نانا ابو ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں نانی اماں کو پانچ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ تنہا چھوڑ گئے ۔ نانی اماں نے تن تنہا اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی اور انہیں اچھی تعلیم دلائی۔

میں کبھی کبھی نانی اماں سے پوچھتی۔ ” نانی امی آپ کو نانا ابو یاد آتے ہیں کیا”

نانی اماں سنجیدہ ہو جاتیں۔ سب کام چھوڑ کر میرے چہرے پر نظریں گاڑھ دیتیں۔ ذرا توقف کے بعد گویا ہوتیں ” بیٹی یاد تو آتے ہیں”……………….

تہجد گزار تھیں اور تلاوت قرآن ان کا مشغلہ تھا۔قرآن مجید میں کیا لکھا ہے یہ جاننے کا انکو بہت شوق تھا۔ ایک تڑپ تھی ان کے دل میں۔ مجھ سے ایک ایک لفظ کا اردو ترجمہ بڑے اشتیاق سے پوچھتیں۔ اس لفظ کا کیا مطلب ہے ۔ اچھا یہ مطلب ہے پھر دو تین دفعہ دھراتیں۔ پھر بڑی بے بسی سے کہتیں ” تمہیں تو پتہ ہے ناں ۔۔مجھے نہیں پتہ کیا لکھا ہے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سادہ دل اور مخلص تھیں۔ بہت کم ساس اور بہو کا رشتہ ایسا ہے کہ بہت کم میں نے دیکھا ہے کہ کوئی ساس اپنی بہو کی یا کوئی بہو اپنی ساس کی تعریف کرے۔

میں نے تنہائی میں آہستہ سے پوچھا ” نانی اماں آپ کی کونسی بہو ذیادہ اچھی ہے؟”

انکا جواب تھا ” دونوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں. دونوں بہت اچھی ہیں دونوں میری بہت خدمت کرتی ہیں۔”

نہیں نانی اماں ۔۔ایک کا نام بتائیں میں کونسا کسی کو بتاؤں گی۔۔۔ میرا اصرار برقرار رہا اور ان کی طرف سے کہے گئے تعریفی جملوں میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔

کبھی فارغ نہیں بیٹھتی تھیں ۔ اپنی ہمت سے ذیادہ آخری وقت تک کام کرتی رہیں۔ کہتیں ” بیٹا انسان کام کرتا ۔۔چلتا پھرتا ہی اچھا لگتا ہے۔ چارپائی پر تو معذور بیٹھتے ہیں ”

کسی قسم کی کوئی تکلیف ہوتی تو اس کا ذکر اولاد سے نہ کرتیں۔ وفات سے دو ماہ قبل ہاتھ پر گہرا کٹ لگ گیا خون بہنے لگا۔ تو ہاتھ چھپا لیا۔ ماموں جان نے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھا تو پوچھا کیا ہوا امی جی.. کہنے لگیں تم کہیں جانے لگے تھے جاؤ اپنا کام نپٹا آؤ مجھے کچھ نہیں ہوا۔ ماموں نے ہاتھ پکڑ کر دیکھا تو دوپٹہ خون سے بھرا ہوا۔جلدی سے پٹی کی۔

دوسروں کی راحت کا بہت خیال رہتا۔ بیماری نے انہیں نہایت کمزور اور لاغر کر دیا تھا۔ آخری وقت میں بیٹی ٬بیٹے٬ بہوویں پاس ہی تھیں رات کے کسی پہر سب کی آنکھ لگ گئی۔

جب ماموں کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتے ہیں نانی اماں جھکی جھکی دیواروں اور چارپائی کو سہارا لئیے واپس واش روم سے واپس آ رہی ہیں۔

ماموں کو اٹھتے دیکھ کر بولیں ” میں نے سوچا میری وجہ سے بےآرام ہوں گے اس لئیے آواز نہیں دی ”

ان کی وفات پر عورتوں اور مردوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا۔ہر آنکھ نم تھی اور ہر ذبان ان کی تعریف میں مصروف تھی۔

اللہ ان کو جنت جنت کروٹ نصیب کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *