لیکن تو روز سوچتا ہے کہ میں کل سے نیک بن جاؤں گا

امام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک بادشاہ کا بڑا باغ تھا، جس کے کئی حصے تھے اس نے ایک آدمی کو بلایا اور اور اس کے ہاتھ میں ایک ٹوکری تھما دی اور کہا کہ میرے باغ میں داخل ہو جاؤ اور بہترین پھلوں سے ٹوکری بھر لاءو

بڑا انعام ملےگا مگر شرط یہ ہے کہ جب اندر سے گذر آجاو تو تمہیں دو بارہ واپس جانے کی اجازت نہیں ہو گی،

اس نے کہا چلو یہ تو کوئی بڑی بات نہیں وہ لیکر اس ٹوکری کو چل پڑا ایک طرف سے دروازے میں داخل ہوا دیکھا کہ اس کے اندر پھل ہیں مگر پسند نہ آئے ،

اگلے درجہ میں داخل ہوا یہاں پھل پہلے سے بہتر تھے، سوچنے لگا کچھ توڑلوں کہنے لگا اگلے درجہ سے توڑ لوں گا پھل یہاں بھی کچھ بہتر تھے، پھر اگلے درجہ میں بہت بہتر تھے اور اس سے اگلے والے درجہ میں بہت ہی بہترین تھے یہاں دل میں خیال آیا کہ اب تو میں کچھ پھل توڑ لوں پھر سوچنے لگا آگے سب سے بہتر پھل توڑوں گا، جب اگلے اور آخری درجہ میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے وہاں پر کسی بھی درخت پر پھل نہیں ہیں،

افسوس کرنے لگا کہ اے کاش میں نے پہلے درجے سے پھل توڑے ہوتے تو آج میری ٹوکری خالی نہ ہوتی اب میں بادشاہ کو کیا منھ دکھاؤں گا، امام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اے دوست!

بادشاہ اللہ رب العزت کی مثال کے مانند ہے – اور انسان جو باغ میں جارہا ہے وہ تیری مثال ہے –

اور ٹوکری سے مراد تیرا نامہ اعمال ہے –

زندگی کی مثال باغ کی مانند ہے -اور اس کے مختلف حصے تیری زندگی کے ہر دن کے مانند ہیں –

اب تجھے ہر دن میں نیکیوں کے پھل توڑ نے کا حکم دیا گیا

لیکن تو روز سوچتا ہے کہ میں کل سے نیک بن جاؤں گا،

یعنی اگلے درجہ سے پھل توڑوں گا، اگلے درجے سے پھل توڑ وں گا، تیرا اگلا دن نہ آ سکے گا، اور تجھے اسی دن اللہ کے حضور جانا پڑ ے گا –

سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا

کھڑے پیر چل دینا پڑے گا

اللہ تعالٰی ہم سب کو آخرت کی پوری پوری تیاری کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *