شادی اور میت

کل رات کچھ دوستوں کے ساتھ شادی بیاہ اور فوتگی پر کھانے کی صورت حال کو لے کر طویل گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ تین سو لوگوں کے کھانے کا انتظام کرنا ہو تو پانچ سو افراد کے مطابق کھانا تیار کیا جاتا ہے کیوں کہ دو سو افراد کا کھانا پلیٹوں میں چھوڑ کر جانے کو ہماری اکثریت ثواب کا کام سمجھ بیٹھی ہے۔ ایک قورمے کی دیگ کو چالیس سے ساٹھ افراد جبکہ چاولوں کی دیگ کو اسی سے سو افراد باآسانی کھا سکتے ہیں۔ اس حساب سے پانچ سو افراد کیلئے تقریباً دس سے بارہ دیگوں کا انتظام کافی رہتا ہے لیکن مجبوراً اٹھارہ سے بیس دیگیں تیار کی جاتی ہیں۔

شادی بیاہ پر لوگوں کی اکثریت کھانے کے بعد واش روم کا سٹیرنگ سنبھال لیتی ہے، وومٹنگ کرتے ہیں، ڈاکٹر کے پاس چکر لگاتے ہیں لیکن کھانے کے آداب نہیں، یہ احساس نہیں کہ اپنی حالت تو خراب کرتے ہی ہیں لیکن جس غریب باپ نے اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی کی ہے اس نے یہ کھانا تیار کروانے کیلئے نجانے کتنی مشقت کی ہوگی، کتنے لوگوں سے قرض لیا ہوگا؟ یہ کھانا اس کے خون پسینے کی کمائی ہے۔ ہم اس قدر گر چکے ہیں کہ شادی تو شادی میت کے چاول کھاتے وقت بھی یہی رویہ اپناتے ہیں۔ یہاں بھی کچھ جاہل لوگ کھانے میں کیڑے نکالنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ میت والے گھر کو چائے کا ڈھابہ یا ہوٹل سمجھ لیتے ہیں۔۔ روٹی ٹھنڈی ہے، مجھ سے نان ہضم نہیں ہوتا، مجھے چائے کے بنا نیند نہیں آتی وغیرہ وغیرہ۔۔

بھئی کتنے پیسے لگتے ہیں؟ ایک چائے کا کپ باہر سے نہیں پی سکتے؟ نان ہضم نہیں ہوتا تو ایک وقت کا کھانا باہر سے جا کر نہیں کھا سکتے؟ اپنا کرایہ پورا کرنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں تو جہاں اتنے پیسے لگا دیئے چند روپے لگا کر باہر سے کھانا بھی کھا لیں۔۔۔

یقین کریں بہت آسان سا کام ہے بس بات ساری احساس کی ہے۔
میں اپنی بڑائی بیان نہیں کر رہا لیکن مجھے چائے کی بہت گندی عادت ہے مگر میں اپنی اس عادت کی وجہ سے کبھی کسی کو پریشان نہیں کرتا۔ کسی فوتگی پر جاؤں تو میری عادت ہے کہ چائے باہر سے ، کھانا سب کھا رہے ہیں اور کسی نے آواز دے کر کہہ دیا تو جو میسر ہے وہ کھا لیا ورنہ باہر سے کھا لیتا ہوں اور پوچھنے پر کہہ دیتا ہوں کہ ہاں سب کے ساتھ ہی کھا لیا تھا۔ میں نے یہ عادت بھی بہت سے لوگوں میں دیکھی ہے اور دیکھ کر سکون ملتا ہے۔۔۔

شادی بیاہ کے موقع پر بھی کئی لوگوں میں اپنے جیسی یہی عادت دیکھی ہے۔ ایک پلیٹ لے کر اس میں تھوڑا تھوڑا کر کے سالن لینا۔۔ ختم ہو تو مزید لے لیا لیکن کبھی پلیٹ کو سجا کر نہیں بھرا۔۔ بلکہ میرے ایک قریبی دوست کی تو اتنی بہترین عادت ہے کہ وہ ایک ہی پلیٹ کا استعمال کرتا ہے۔ اسی پلیٹ میں پھر چاول، ٹشو پیپر سے صاف کر کے اسی پلیٹ میں میٹھا ڈال لینا۔ اس دوست سے یہی عادت بھی سیکھی ہے۔ کرنے کو بہت چھوٹا اور آسان سا کام ہے لیکن یہی عادات اپنا لی جائیں تو ہم سب کے کئی مسائل اپنی موت آپ مر جائیں گے۔۔۔۔
سلامت رہیں
از قلم
“وسیم قریشی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *