رزق کا اڈا

چند دن پہلے بازار ایک دُکان پہ گیا _ دُکان دار صاحب موبائل پر مصروف تھے _ اُنہیں میرے آنے کا پتا ہی نا چلا اور میں اُن کے فارغ ہونے کے انتظار میں دُکان میں پڑے ایک بنچ پہ بیٹھ گیا _ دُکاندار صاحب شاید کسی پرائی خاتون ساتھ محوِ گُفتگو تھے _ انتہائی غیر اخلاقی اور نَنگی باتیں کی جا رہی تھیں _

قریباً ایک منٹ اُن کی کال چلی _ جب اُنہیں میرے آنے کا پتا چلا تو اُنہوں نے کال ڈَسکُنکٹ کر کہ میرے پہ توجہ دی ، لیکن اب میں اُن کی باتیں سُن کر بددِل ہو چکا تھا _

اُنہیں ڈسٹرب کرنے کے لئے معزرت کی اور بغیر کُچھ خریدے اگلی دکان پہ چلا گیا کیونکہ میرا خیال ہے کہ جن صاحب کو اپنی روزی روٹی والی جگہ کا ہی اِحترام نہیں تو میں اُن سے کِسی بھی احترام اور دیانت داری کی توقع کیوں کروں _ مُجھے یہ مناسب نہیں لگتا کہ جن کا اپنا رِزق گندے خیالات اور بیہودہ باتوں سے آلودہ ہو میں اُن کے ہاتھوں سے لے کر اپنا رزق بھی گندہ کروں _
۔
پہلی کلاس میں سکول داخل ہوا تو پاؤں میں قینچی چپل ہوتی تھی _ بھاگ دوڑ میں چپل ٹوٹی تو امی نے کہا کہ جاؤ اور اِسے مُرمت کروا لو _ محمود بوٹی روڈ لاہور سے مین جی ٹی روڈ پر چڑہتے ہی دائیں ہاتھ سُکھ نہر کے پُل ساتھ موچی صاحب بیٹھا کرتے تھے _
وہاں پہنچا _ اُسے چپل پکڑائی اور خود اُس کے پاس پڑی پَتھر کی سِل پہ بیٹھ گیا _ موچی صاحب نے مُجھے بُری طرح دُھتکار کر اُس سِل سے اُٹھا دیا _ بولے کے اِس سِل پر میں اپنے تمام تر اوزار تیز کرتا ہوں _ یہ صرف پتھر کی سِل نہیں ، میرا روزی کمانے کا اڈا ہے اور تم اس پہ پیر رکھ کے بیٹھ گئے ہو _ تُم نے سِل پر پیر رکھ کر میرے رزق کی بے حرمتی کی _
موچی صاحب مزید بولے _ تُمہیں تُمہارے باپ نے یہ نہیں بتایا کہ جہاں سے رزق کمایا جائے وہاں اللّٰہ رسول ﷺ کا نام لیا جاتا اور کِسی طرح کی بدتمیزی نہیں کی جاتی _ پتا نہیں تُم نے ہاتھ بھی دھوئے ہوئے یا نہیں _ فوراً یہ سِل چھوڑو اور پرے ہَٹ کر بیٹھو _

مُجھے موچی کی اِس بات سے کافی بے عزتی محسوس ہوئی _ پانچ چھ سال کا تھا پر دل میں یہ آیا کہ یہ ہی سِل اُٹھا کر موچی کے سر میں دے ماروں اور فوراً اپنی بے عزتی کا بدلہ لے لوں ، لیکن چُپ کر گیا _
مُجھے نہیں علم کہ وہ موچی صاحب اِس وقت کہاں اور کس حال میں ہوں گے _ اُن کی بات مُجھے بُری تو لگی لیکن اُس بندے نے مُجھے میری زندگی تک کے لئے ایک پاکیزہ اور دوٹوک سبق دے دیا _
جہاں میں رزق کماتا ہوں زمین کے اُس ٹکڑے پر مُجھےصرف اچھا اچھا کرنا ہو گا ، اچھا اچھا سوچنا ہو گا ، حق کرنا ، سچ بولنا اور پورا تولنا ہو گا _
رزق کمانے والی اُس جگہ کو مُجھے عزت دینا ہو گی تا کہ میرا رزق مُجھے عزت دے ۔“
۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *