ایک ڈاکٹر صاحب کا قصہ

ایک صاحب لکھتے ہیں کہ چند دن پہلے ایک دوست کے ہاں کھانے کی دعوت میں شریک تھے، شرکاء میں ایک ڈاکٹر صاحب بھی تھے، اچانک اُن کے فون کی گھنٹی بجی، اِنہوں نے فون ریسیو کیا، باتوں سے بھی اور بعد میں از خود بھی اُنہوں نے بتایا کہ ایک مریض کا فون تھا، وہ استفسار کر رہا تھا کہ کہاں ہیں، اور کلینک کب تک پہنچیں گے، تو ڈاکٹر صاحب نے کہا، میں نے کہا آپ بیٹھیں میں آدھے گھنٹے تک پہنچا.

جب کہ کھانا اُسی وقت شروع کیا تھا، اور پھر کھانے والے مقام سے لے کر کلینک تک تقریبا 40 کلو میٹر کا فاصلہ تھا، تو میں نے مؤدبانہ اُن سے عرض کیا کہ کیا آپ نصف گھنٹے تک پہنچ پائیں گے، ہنستے ہوئے بولے، ممکن ہی نہیں، تو میں نے عرض کیا، میرے محترم…! آپ کی ایک بات سے بہت سے نقصان ہوئے، ایک تو یہ سراسر جھوٹ ہے، دوسرا دھوکہ ہے، تیسرا اگر مریض کو ایمرجنسی ہو وہ تو رہا آپ کے انتظار میں، ممکن ہے اُس کا کسی بھی نوعیت کا نقصان ہوسکتا ہے، چوتھا ناحق کسی کو انتظار کی اذیت دینا، اور یہ سارے نقصان بڑے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں، فرمانے لگے: دنیا کا تو نظام ہی ایسے چل رہا ہے، ہر ایک ایسے کررہا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ بہت سے لوگ جو تقوٰی والے ہیں، وہ ایسا نہیں کرتے، دوسری بات یہ ہے، جو بھی ایسا کام کررہا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی زندگی سے برکت اور سکون نکال لیتے ہیں، اور تیسری بات یہ ہے کہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے افراد سے، افراد جمع ہے فرد کی، فرد کی اصلاح سے افراد کی اصلاح ہوگی، افراد کی اصلاح سے معاشرہ کی اصلاح ہوگی، اگر میں اپنی اصلاح کر لوں توپ معاشرے کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، اللہ جزاء ِخیر عطاء فرمائے ڈاکٹر صاحب کو، اُسی مجلس میں اُسی نمبر پہ فون کر کے مریض کو بتایا کہ مجھے پہچنے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتا ہے، معاشرے کے ایک فرد نے اصلاح کرنے کی ٹھان لی، اللہ کرے یہ توفیق ہم سب کو بھی نصیب ہوجائے، آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *