مقدر و نصیب

ایک صاحب سفر میں تھے۔کہ راستے میں نماز کاوقت ہوگیا ایک آبادی میں داخل ھوئے اور نماز کے لئے مسجد کا پتا کیا تو قریب ہی مسجد مل گئی۔
جب نماز کے لئے مسجد میں جانے لگے تو خیال آیا کہ اپنی سواری یعنی گھوڑا کس کے حوالے کروں کہیں ایسا نہ ھو کہ میری غیر موجودگی میں کوئی میری سواری اور اس پر لگی بیش قیمت زین (جو کہ گھوڑے کی کمر پر باندھتے ھیں) چوری کر لے۔

ابھی وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ ان کی نظر ایک نوجوان پر پڑی جو ان کی ہی طرف دیکھ رہا تھا لڑکے کو اشارہ کر کے بلایا اور کہا کہ بیٹا میں مسافر ھوں نماز کا وقت ھو رہا ھے کیا میرے نماز ادا کرنے تک تم میرے سامان اور سواری کی حفاظت کر سکتے ھو ؟

لڑکے نے کہا ! کیوں نہیں آپ بے فکر ھو کر نماز کے لئے جائیں میں آپ کے سامان کے پاس کھڑا ھوں۔ وہ صاحب بہت خوش ھوئے اور نماز کے لئے مسجد میں چلے گئے…. جب نماز پڑھ کر باہر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ۔۔۔۔۔ نا صرف وہ لڑکا غائب تھا بلکہ گھوڑے کی زین بھی غائب تھی۔
خیر صبر کر کے بازار کا رخ کیا کہ نئی زین خرید لوں….ایک دکان پر رکے تو دیکھا کہ ان کی وہی زین اس دکاندار کی دکان میں لٹکی ھوئی ھے۔
انھوں نے دکاندار سے کہا کہ یہ زین تمھارے پاس کہاں سے آئی؟

اس نے جواب دیا کہ ابھی ایک لڑکا 2 درہم میں بیچ کر گیا ھے۔
ان صاحب نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور بولے ۔۔۔۔۔۔ارے اللہ کے بندے تھوڑا صبر کرلیتا تو یہ 2 درہم حرام نہ ھوتے۔

دکاندار نے پوچھا تو بتایا کہ میں نے نماز میں ہی سوچ لیا تھا کہ نماز پڑھ کر اس لڑکے کو 2 درہم دوںگا مگر افسوس ۔

جلد بازی کی وجہ سے اس نے اپنی کمائی حرام کر لی ۔۔۔۔۔۔اگر صبر کرلیتا تو یہی 2 درہم اسے ملتے مگر جائز طریقے سے ملتے
انسان کو رزق اتنا ہی ملتا ھے جو اللہ نے نصیب میں لکھ دیا ۔
حرام یا حلال طریقہ سےحاصل کرنا ہمارے اختیار میں ھے .. اللہ اکبر

سبق:- اس لڑکے کے مقدر میں دو درہم لکھے گئے تھے جو اسے ہر حال میں ملنے تھے اگر وہ صبر کر لیتا تو وہ اسے حلال (ہدیہ) طریقے سے حاصل کرسکتا تھا مگر اس نے صبر کا دامن چھوڑ کر چوری کرکے اپنے مقدر میں لکھے (جو اسے ہر حال میں ملنے تھے) دو درہم حرام طریقے سے کمائے، اسلئے ہمیں ہر حال میں صبر سے کام لیتے ہوئے رزق حلال کی جستجو میں رہنا چاہیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *