بچوں کی تعلیم و تربییت!

ایک مجرم کو لایا گیا جو بہت بڑا ڈکیت تھا اور کئی قتل بھی کر چکا تھا۔ لیکن جب پکڑا گیا تو عدالت میں کیس چلا اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزاۓ موت سنا دی گئی۔

پھانسی سے پہلے اس سے اسکی آخری خواہش پوچھی گئی۔؟ تو اسنے کہا: مجھے اپنی ماں سے ملنا ہے۔

تو اسکی خواہش کے مطابق اسکی ماں کو بلوایا گیا۔ جب ماں اپنے بیٹے سے ملنے گئی تو بیٹے کے گلے لگ کر رونے لگی،

اس دوران ایک عجیب واقعہ ہوا

بیٹے نے ماں کے کان کو دانتوں سے زور سے کاٹنا شروع کردیا ماں چلانے لگی

بڑی مشکل سے ماں کو چھڑایا گیا

وہاں موجود تمام لوگ بیٹے کی اس حرکت پر حیران تھے۔

اور اس ڈاکو سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ تو اس ڈاکو نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ سنایا۔

میں جب چھوٹا تھا تو بہت شرارتی تھا اکثر لوگوں کو تنگ کیا کرتا تھا مگر میری ماں مجھے کچھ بھی نا کہتی ۔

ایک بار میں نے ایک پڑوسی کی کوئی چیز چرالی اس پڑوسی کو پتہ چل گیا وہ شکایت لیکر میرے گھر آگئے تو میری ماں نے بجاۓ مجھے ڈانٹنے سمجھانے کے مجھے اپنے پیچھے چھپا لیا اور اس پڑوسی سے لڑنے لگی اسے برا بھلا کہنے لگی پڑوسی بیچارہ اپنی عزت بچا کے چلا گیا۔

حالانکہ میری ماں اچھی طرح جانتی تھی کہ میں نے چوری کی ہے مگر ماں نے مجھے ایک لفظ نا کہا اور میرا منہ ہاتھ دھلا کے مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگی۔

بس اس دن سے میرا حوصلہ بڑھ گیا پہلے میں چور بنا پھر ڈکیت پھر قاتل اور آج میں اس پھانسی کے پھندے تک پہنچ گیا۔ اور مجھے یہاں تک پہنچانے والی میری ماں ہے۔

اگر اس وقت مجھے سمجھایا جاتا کہ یہ کام غلط ہے تو میں آج اس انجام کو نا پہنچتا۔ اور پھر اس ڈکیت کو پھانسی دے دی گئی۔

اور آج جب میں اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں تو مجھے اسی قسم کی ہی مائیں نظر آتی ہیں۔

حد تو یہ کہ اسکول میں استاد بھی اگر کسی غلط حرکت پر ڈانٹ دے تو فوراً گھر سے شکایت آجاتی ہے اور اسکول انتظامیہ کو تو فیسوں کی فکر بچوں کی تعلیم و تربییت سے زیادہ ہوتی ہے تو وہ بھی بچوں کو منہ پر انگلی رکھنے کے بجاۓ ٹیچرز کو منہ پر انگلی رکھنے کا کہہ دیتے ہیں۔

اور مجھے یہ سب دیکھ کر خوف آتا ہے کہ آگے چل کر ہمیں کس قسم کا معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔

اللہ تعالی سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی رہنمائی فرماۓ آمین۔

_سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں_

_ایک بار درودشریف پڑھنے سے_

_ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہے_

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *