یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا

یہ دو ایسے نوجوانوں کا قصہ ہے جو مدینہ شہر سے ترکی سیر سپاٹے کیلئے گئے ان کا مقصد اپنے جیسے دوسرے نوجوانوں کی طرح شراب و شباب کے مزے لینا اور مستیاں کرنا تھیں استنبول پہنچتے ہی ندیدوں کی طرح انہوں نے سب سے پہلے کچھ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ اپنا مدعا اول شراب کی بوتلیں خریدیں اور ٹیکسی پر بیٹھ کر ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے ہوٹل انہوں نے شہر کے مضافات میں جا کر ایسا پسند کیا جہاں انہیں کوئی جاننے پہچاننے والا نا دیکھ سکے۔

کاؤنٹر پر رجسٹریشن کراتے ہوئے کلرک کو جیسے ہی پتہ چلا یہ دونوں وہ مدینہ شہر سے آئے ہیں تو اس نے عام کمرے کے ریٹ میں ان کو ایک سوئٹ کھلوا کر دیدیا اہل مدینہ چل کر اس کے ہوٹل میں آ گئے ہیں اس کی خوشی دیدنی تھی

دونوں کمرے میں پہنچے اور بس بوتلیں کھول کر معدے میں انڈیلنے بیٹھ گئے ایک تو کم ظرف نکلا کچھ ہی دیر میں نشے سے دھت بے سدھ سو گیا جبکہ دوسرا نیم مدہوش باقی کی بوتلوں کو کل کیلئے چھوڑ کر سو گیا ان کو سوتے کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا صبح کے ساڑھے چار بجے تھے ایک نے غنودگی میں اُٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے کاؤنٹر کلرک کھڑا تھا کہنے لگا کہ ہمارے امام مسجد نے یہ جان کر کہ ہوٹل میں مدینہ شہر سے دو آدمی آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں اور یہ کہہ کر نماز پڑھانے سے انکار کردیا ہے کہ وہ ایسی بے ادبی ہرگز نہیں کرسکتا ہم لوگ آپ کا مسجد میں انتظار کر رہے ہیں آپ جلدی سے تیار ہو کر آ جائیں
اس جوان کو یہ بات سن کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا اس نے جلدی سے اپنے دوسرے ساتھی کو جگا کر بتایا کہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کیا تجھے کچھ قرآن شریف یاد ہے؟

دوسرے ساتھی نے کہا ہاں گزارے لائق قرآن شریف تو یاد ہے مگر لوگوں کی امامت کراؤں ایسا نا سوچا ہے اور نا ہی کراؤں گا دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور لگے سوچنے کہ اس گلے آن پڑی مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں
اس اثناء میں ایک بار پھر دورازہ کھٹکا کاؤنٹر کلرک کہہ رہا تھا بھائیو جلدی کرو ہم لوگ مسجد میں آپ کے منتظر ہیں کہیں نماز میں دیر نا ہوجائے ایک کے بعد دوسرے نے بھاگ کر غسل کیا جلدی سے تیار ہو کر نیچے مسجد پہنچے کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے ایسا لگتا تھا نماز فجر کیلئے نہیں لوگ مدینہ شہر کے شہزادوں کی اقتداء میں جمعہ کی نماز کیلئے اہتمام سے بیٹھے ہوں

ایک جوان کہتا ہے میں مصلے پر چڑھا اللّٰہ اکبر کہہ کر لڑکھڑاتی زبان سے الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين پڑھا نمازیوں میں سے کسی کی اس تصور سے کہ مدینے کا مکیں دیار حبیبﷺ سے آیا ہوا اور مسجد رسولﷺ کا ہمسایہ انہیں نماز پڑھا رہا ہے کی سسکیاں نکل گئی پھر کیا تھا کئیوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹے کہتا ہے نمازیوں کے رونے سے میری ندامت کیا بڑھی کہ میں بھی رو پڑا
سورۃ الفاتحہ کے بعد میں نے محض سورۃ الاخلاص ہی پڑھی مگر اپنے پورے اخلاص کے ساتھ نماز ختم ہوئی نمازی میرے ساتھ مصافحہ کرنے کیلئے امڈ پڑے اور کئی ایک تو فرط محبت سے مجھے گلے بھی لگا رہے تھے میں سر جھکائے کھڑا اپنا محاسبہ کر رہا تھا اللّٰہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا اور یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا

_سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں_
_ایک بار درودشریف پڑھنے سے_
_ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہے_

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *