نعمت خانہ

مجھے ڈرائیور کی ضرورت تھی ابا جی سے ذکر کیا تو انہوں نے گاؤں سے مظہر احمد کو بھجوا دیا۔ ابا جی نے اُس کی بہت تعریف کی تھی۔ بہت نیک اور شریف لڑکا ہے۔ دسویں پاس ہے۔ اسے رکھ لو۔ اس کی ماں تمہیں دعائیں دے گی اور ماں کی دعائیں میرا سب سے بڑا ویک پوائنٹ تھا۔

میں دعائیں ہاتھ سے کیسے جانے دیتا فورا مظہر احمد کو بھیجنے کا کہہ دیا۔ وہ گاڑی چلانا جانتا تھا کچھ دن کی ٹریننگ کے بعد اُس نے باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔ ابا جی مظہر کے بارے میں ٹھیک کہتے تھے اس کا اندازہ مجھے اُس دن ہو گیا۔

صبح جاگنگ سے واپسی پر سرونٹ کواٹر سے آتی تلاوت کی آواز نے میرے قدم روک لیے۔ یہ مظہر احمد تھا۔ میرا وہ سارا دن بہت اچھا گزرا میں اپنے دل کی خوشی کی وجہ نہیں جان پایا مگر میں خوش تھا بہت خوش اور پھر میں اکثر خوش رہنے لگا۔ روزمرّہ کی مصروفیت بزنس کے معاملات سب کچھ ویسا ہی تھا فرق صرف اتنا تھا کہ اب مجھے چیزیں پریشان نہیں کیا کرتی تھیں۔

دل کو اُٹھا کر کسی نے پُرسکون جگہ پر رکھ دیا تھا۔ دل نے بے چین ہونا، پریشان ہونا کیوں چھوڑ دیا؟ شاید میں جان نہ پاتا اگر مظہر احمد کی اپنی والدہ سے ہونے والی گفتگو نہ سنتا۔

بھیگی آواز سے وہ اپنی والدہ کو حال احوال بتا رہا
اماں میں بہت خوش ہوں
تیری دعاؤں کا پھل ہے اماں۔ دعاؤں کا پھل میٹھا ہوتا ہے نا ۔۔۔۔! تُو ہی تو کہا کرتی ہے۔ پورے بیس ہزار تنخواہ ہے۔ جلد ہی پیسے بھیجوں گا۔

دو پہیوں سے چار کا یہ سفر بڑا انوکھا ہے اماں ۔۔۔! تیرے سائیکل چلانے والے کملے مظہر کو الله نے بہت نواز دیا. جانتی ہے اماں ۔۔۔؟ میں بہت سوچتا رہا کیسے چلتی ہے یہ گاڑی؟ موٹر کیسے کام کرتی ہے اس کی؟ پھر تیری بات یاد آئی اماں ۔۔۔جب میں چھوٹے ہوتے تجھ سے پوچھا کرتا تھا۔ بسیں کیسے چلتی ہیں اماں؟ تو تُو کہا کرتی تھی میں کیا جانوں پُتر۔ میں تو بس اتنا جانتی ہوں یہ الله کے حُکم سے چلتی ہیں محض اُس کے فضل سے چلتی ہیں۔ سو بسم الله پڑھ کر سوار ہؤا کر پُتر۔ یہ منزلوں پر پہنچاتی ہیں۔ تُو ٹھیک کہتی تھی اماں۔ یہ محض اُس کے حُکم سے چلتی ہیں۔

اماں جب بھی گاڑی میں بیٹھتا ہوں سو کیا ہزار بسم الله پڑھ کر بیٹھتا ہوں۔ اماں تیرا مظہر بھٹے پر شدید گرمی میں سڑا کرتا تھا. مالک اکثر مزدوری بھی نہیں دیا کرتا تھا۔ بھٹے میں پکتی اینٹیں بھی تیرے مظہر کی محنت کی گواہ تھیں اماں! مظہر احمد کی آواز میں محسوس ہونے والی ِکن ِمن اس فقرے کے بعد موسلا دھار بارش میں بدل گئی تھی۔ میں اُس بارش میں بھیگ رہا تھا کچی مٹی کی طرح بہہ رہا تھا اُس کی سسکی میں چُھپے شُکر کی کیفیت میرے اندر ڈیرہ ڈالنے لگی تھی۔ بے شک وہ بہت صابر اور شاکر تھا۔

وہ اپنی والدہ کو بتا رہا تھا۔ شدید گرمی میں ٹھنڈی کار میں بیٹھتا ہوں تو اُس مزدور کی خوشی کا خیال آتا ہے جس کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی گئی ہو۔ تیرے مظہر کی ساری مزدوریاں رب نے جمع کر رکھی تھیں اماں ۔۔۔ َیک مُشت ادا کر دیں اُس کی آواز بھاری ہوتی جا رہی تھی۔
ہاں اماں آیتہ الکرسی پڑھ کر بیٹھتا ہوں چاروں قُل بھی پڑھتا ہوں اماں. صاحب جی کے لیے دعا کرتا ہوں لو بھلا کیسے نہیں کروں گا اماں۔ الله اُن کو سکون اور خوشیاں عطا فرمائے اُن کے کاروبار میں برکت دے۔
آمین میں نے زیرِ لب کہا
اُس کی والدہ نے بھی یقینا آمین کہا ہو گا
میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

وہ ایک معمولی نوکری پر اتنا شاکر تھا جتنا شاید میں ہزار نعمتوں پر بھی نہیں تھا۔ رب کا اس طرح شکر ادا کرنے والا کوئی عام شخص نہیں ہو سکتا۔ مظہر احمد خاص تھا بہت خاص۔ دادی کے گاؤں والے گھر کے باورچی خانے میں جالی والی ایک الماری ہؤا کرتی تھی جسے نعمت خانہ کہتے تھے۔ وہ کھانے پینے کا سامان اور خاص طور پر ابلا دودھ اس میں ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھا کرتی تھیں۔ مظہر احمد نے میرے دل کو اُٹھا کر نعمت خانے میں رکھ دیا تھا۔ زندگی کو بھی جیسے اُبال آ گیا تھا۔
اُس پر بالائی کی موٹی تہہ جمنے لگی تھی۔ میں مظہر احمد کا احسان مند تھا۔ اس نے مجھے شکر کرنا سکھا دیا تھا۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *