امی میں کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے آپ بتا کیوں نہیں رہی

امی مجھ سے نہیں ہوتی ہیں خدمت کسی کی بھی آئے دن نند لوگ اپنے بچوں کو لے کر آجاتی ہیں ساس الگ سے بیمار رہتی ہیں مجھے تو آرام کا وقت ہی نہیں ملتا ہے فائزہ اپنی امی سے فون پر دل کے پھپھولے پھوڑن رہی تھی۔فائزہ بیٹی تم کب سمجھ دار ہوگی ناشکری کیوں کر رہی ہو اتنا اچھا سسرال ملا ہے اور نند والی کیا کہی تم نے اگر مہینے بعد آ بھی جاتی ہیں تو کیا ہوا تم سے زیادہ کام تو تمہاری نند کر لیتی ہے اور کام والی بھی تو ہے پھر بھی ایسی ناشکری بیٹا بری بات ہے ۔
فائزہ سب سن کر امی آپ میری امی ہی ہیں نہ مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی ہر دفعہ سمجھانے لگ جاتی ہیں۔

نادرہ خاتون ایک بیوہ عورت تھی ان کی تین بیٹیاں اور ایک ہی بیٹا تھا محنت کر کے بچوں کو پال کر پڑھا لکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا دو بیٹیوں کی شادی خاندان میں کر کے اب بیٹے کی شادی کا ارمان لے کر اپنے بیٹے دایان کے لیے رشتہ ڈھونڈ رہی تھی اور ان کو اپنا گوہر نایاب مل ہی گیا تھا فائزہ کی صورت میں بھولی بھالی شکل والی فائزہ نادرہ بیگم کو اتنی پسند آئی کہ اپنی بہو بنا کر ہی دم لیا۔

شادی کے بعد احساس ہوا کہ فائزہ بھولی بھالی شکل صورت کی ہی ہے صرف۔۔
ہر وقت ناشکری اور ناگواری اس کے لہجے کا حصہ تھا اور اسی وجہ سے نادرہ بیگم اس سے کچھ نہیں کہتی تھی اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔
پر پھر بھی فائزہ کو اپنی ساس اور نند لوگوں سے مسلہ ہی رہتا تھا۔

فائزہ کی امی صبیحہ خاتون بہت سمجھاتی تھی لیکن فائزہ پر یہ باتیں اثر نہیں کرتی تھی۔
فائزہ کچھ دن رہنے کے لیے اپنی امی کی طرف گی اور محسوس کیا کہ بھابھی کے ماتھے پر بل ہر وقت موجود رہتے اور امی بھی چپ چپ ہیں تو فائزہ نے صبیحہ خاتون سے پوچھا امی کیا بات ہے آپ چپ چپ کیوں ہیں

امی میں کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے آپ بتا کیوں نہیں رہی ۔بیٹا کبھی اپنی ساس سے بھی پوچھا ہے کہ آپ پریشان کیوں ہیں نہیں نہ تو مجھ سے بھی نہیں پوچھو کیوں کہ جیسی تم ہو ویسی ہی اللہ نے مجھے بہو دی ہے فائزہ حیران سی امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔
بیٹا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں اپنی ماں پر گزری تو تکلیف ہوئی تمہیں ایسے ہی تمہاری نند لوگوں کو تکلیف ہوتی ہوگی جن سے تم سیدھے منہ بات نہیں کرتی ان کے آنے پر بیمار ہونے کا بہانہ کر لیتی ۔فائزہ تم تو سمجھدار بیٹی تھی پھر ایسی کیوں ہوگی جیسے تم اس گھر پر اپنا حق جتاتی اور سمجھتی ہو کہ میکہ مان ہوتا ہے لڑکی کا تو ایسے ہی ہر لڑکی کے لیے اس کا میکہ اس کا مان ہوتا ہے.

امی مجھے معاف کر دیں میں سمجھنے لگ گی تھی کہ اب وہ گھر صرف میرا ہے اس پر صرف میرا حق ہے امی مجھے معاف کر دیں اب میں ایسا کچھ نہیں کروں گی خیال رکھوں گی سب کا ان شاءاللہ۔۔۔۔۔
شکر ہے بیٹا تمہیں سمجھ تو آئی جی امی شکر ہے اللہ نے میری آنکھیں کھول دی نہیں تو میں کتنا غلط کر رہی تھی اپنے ساتھ اپنی انا میں سب کو تکلیف دے رہی تھی
اچھا امی اب میں چلتی ہوں فائزہ بیٹی روکو دوپہر کا کھانا تو کھاتی جاو ۔۔
نہیں امی اب گھر جا کر اپنی دوسری امی کے ساتھ کھاونگی اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *