ھمارہ ظالم معاشرہ

وہ معصوم اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ اس کا معذور باپ کتنے مشکل سے بھیک مانگ مانگ کر ایک ایک روپیہ جمع کرتا ہے۔ وہ تو بچی تھی بس آج بیکری سے کچھ میٹھا کھانے کی ضد کرنے لگی۔ اس کی ماں بھی شوہر سے کہنے لگی کہ اس بچی کو ساتھ لے جائے اور خواہش پوری کریں۔ باپ نے بھی سوچا کہ ہم بڑے ایک دن کھانا نہ کھائے تو مر نہیں جائیں گے، البتہ بچی ٹوٹ جائے گی اگر انکار کیا۔

وہ بچی کو ساتھ لے کر بازار چلا۔ 30 ، 40 دکان تھے۔ بمشکل 12 روپے جمع کیے۔ وہاں 3 بیکریاں تھیں۔ پہلے دو میں داخل ہوتے ہی واپس جانے کا اور دوسری بیکری سے خریدنے کا کہا گیا(وہ جانتے تھے کہ یہ غریب لوگ جتنا خریدتے ہیں وہ ان کے معیار کے خلاف ہے)۔ تیسری بیکری میں گیا تو بیکری والے کہ چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔ بچی بھی خوش ہوئی کہ یہاں سے خواہش پوری ہو جائے گی۔ بیکرے والا بہت شرین لہجے میں پوچھنے لگا تھا کہ ان کی کیا مدد کی جائے۔ اس بے بس معذور بھکاری نے جب 12 روپے کاونٹر پر رکھے اور بچی کو کچھ دینے کا کہا، تو بہروپے کی جھوٹی مسکراہٹ اچھانک اوجھل ہوگئی اور وہ شرین زبان آگ برسانے لگی۔ بچی یہ سن کر زار و قطار رونے لگی کہ تم غریب لوگوں نے ہماری بیکری کو مزاق سمجھا ہے کیا۔ روٹی ملتی نہیں اور آئے ہو میٹھا کھانے۔ باپ نے بیٹی کو گلے سے لگایا اور گھر کی جانب چلتے ہوئے کہ رہا تھا ۔ بیٹی ہمارے لیے جنت میں ہر چیز موجود ہے یہ دنیا ہماری خواہشات کی نہیں ہے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *