ایک دن میں اپنے آفس سے گھر جا رہا تھا راستے میں اشارہ بند ہوگیا

اٹھو یہاں سے میں نے تمہیں کل بھی کہا تھا کہ یہاں مت بیٹھا کرو ،ایسے میرے گاہک خراب کرتے ہو۔۔۔وہ اپنے سکے اور دو چار نوٹ اٹھاتے ہوئے مجھے غور سے دیکھ رہاتھا۔۔۔سکے اور کچھ نوٹ اسکی دن بھر کی کمائی تھی۔۔اس نے اپنی بساکھی بغل میں ڈالی اور چادر سمیٹ کر اپنے کندھے پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔۔پھر وہ مجھے کافی دن کہیں نظر نہیں آیا۔۔میرے دل میں ایک عجیب سا کھٹکا۔۔۔رات کو میری نیند اڑ گئی۔۔۔پوری رات سوچتے گزر جائے کہ آخر یہ تھا کون اتنے دنوں سے یہاں بیٹھتا تھا۔۔۔

میں یہی سوچتا تھا شاید اس کے بیٹے جوان ہوں گے وہ بھی کچھ نا کچھ ضرور دیتے ہوں گے اسے ،پھر بھی یہاں آ کے بیٹھ جاتا ہے۔۔بہت مرتبہ میں اسے وہاں سے اٹھا چکا تھا۔۔لیکن وہ پھر آ کے بیٹھ جاتا تھا۔۔۔لیکن اس مرتبہ جانے کہاں چلا گیا۔۔۔صبح ہوئی تو میں اٹھا وضو کیا ۔۔۔مصلے پر کھڑا ہوا تو میرے دل نے مجھے وہاں سے دھکا دے کر پیچھے ہٹا دیا۔۔۔کس منہ سے یہاں آیا ہے۔۔۔کون ہے تو؟؟ وہی جس نے ایک نادار کا دل چیرا ہے۔۔۔جا ڈھونڈ اسے۔۔۔اسے راضی کر پھر اپنے رب کے پاس آنا۔۔۔اچانک میرے قدم مصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔۔میں نے گھر سے باہر نکل کر مسلسل دوڑنا شروع کردیا۔۔۔دوڑتا ہوا اپنی دوکان کے پاس پہنچا کہ شاید وہاں آیا ہو؟ دور دور تک کوئی نظر نہیں آیا۔۔۔کافی اندھیرا تھا ابھی۔۔مجھ پر ایک عجیب سی رقت طاری ہوگئی۔۔گھر جانے کا دل نہ کرے۔۔انہیں سوچوں میں گم کہ وہ کون تھا کہاں ہوگا آخر؟روڈ کی دوسری جانب میں نے چلنا شروع کردیا۔۔۔تھوڑی دور گیا پل کے نیچے سے کسی بزرگ کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔۔میں سمجھ گیا شاید وہی ہوگا۔۔دوڑتا ہوا پل کے نیچے گیا تو کچھ کارٹن (گتے) پھاڑ کر نیچے ڈال کر وہی شخص اپنے پھٹے پرانے جوتے کے تکیے پر لیٹا مسلسل کروٹیں بدل رہا تھا۔۔۔ میں اسکے پاس چلا گیا۔۔میں نے بھرائے ہوئے لہجے میں حال پوچھا کیسے ہو؟؟؟ اسکی نظر مجھ پر پڑی تو وہ خفا سا ہو گیا؟؟ صاحب میں کبھی آپ کی دکان کے سامنے نہیں بیٹھوں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔

وہ سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھا اور اسکے آنسو اسکی داڑھی کو تر کرتے ہوئے اسکی جھولی میں گرنے لگے۔۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا کون ہو تم؟؟ صاحب میں بھی آپ کی طرح کا ایک انسان ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کا وقت اچھا ہے اور میرا برا ہے۔۔۔۔پر صاحب ایک بات بتاوں ؟؟ جی جی بتاو۔۔میں تعجب سے اسکی بات سننے لگا۔۔وہ اپنی کف سے آنسو پونچھتے ہوئے بولا کہ میرے رب کا بہٹ بڑا شکر ہے کہ میں آپ کی طرح امیر نہیں ہوں۔۔۔میرا سر جھک گیا۔۔۔کہنے لگا کبھی میں بھی خوشحال ہوا کرتا تھا۔۔۔۔میں بڑا امیر آدمی ہوا کرتا تھا۔۔۔
ایک دن میں اپنے آفس سے گھر جا رہا تھا راستے میں اشارہ بند ہوگیا۔۔۔اچانک سے میری گاڑی کے شیشے سے ایک ہاتھ نمودار ہوا۔۔۔صاحب میرے بچے دو دن سے بھوکے ہیں۔۔۔کسی عورت کی آواز تھی۔۔میں سے توجہ نہ دی اور اشارہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔بار بار وہ میری گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مار رہی تھی مجھے غصہ آگیا میں نے اسے دتکار دیا۔۔۔۔وہ خفا ہو کہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔اشارہ کھل گیا۔۔۔میں نے گاڑی نکالی اور اپنے گھر کو جانے والی روڈ پر چڑھ گیا۔۔میں اپنی مستی میںگم تھا تقریبا رات 9 بجے کا وقت تھا اچانک میری گاڑی کے سامنے ایک سیاہ رنگ کا خوفناک شیر آ کےکھڑا ہوگیا۔۔۔اسے دیکھ کر میں ایک دم اپنے حواس کھو گیا۔۔۔گاڑی کی سمجھ نہیں آئی کدھر جا رہی ہے۔۔۔میرے حواس کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔۔

جب ہوش آیا تو میں ڈی ایچ کیو میں تھا میری ایک ٹانگ کٹ چکی تھی۔۔میرے پاس کھڑی میری 6 سالہ بیٹی اور 9 سال کا بیٹا رو عہے تھے۔۔ میری بیوی میرے سرہانے کھڑی میرے ہوش میں آنے کی منتظر تھی۔۔۔میں یہ سب دیکھ کر ایک دم سوچ میں ڈوب گیا کہ وہ عورت کون تھی؟۔۔۔۔۔یہ ضرور اسکی وجہ سے ہوا۔۔۔۔میں پریشان حال چار پائی پہ لیٹا سوچوں میں گم تھاکہ ایک دم کسی کے گرنے کی آواز آئی تھوڑا سا سیدھا ہوا تو دماغ چکرا سا گیا ۔۔۔یہ میری بیوی تھی۔۔۔جسے حرکتِ قلب بند ہوچکی تھی۔۔اورآئی سی یو میںپہنچ چکی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر کی بات تھی کہ انہوں نے جواب دے دیا۔۔۔اس موقع پر نہ میرے ساتھ میرے بھائی تھے نہ ہی میرے اور دوست،،رشتے دار۔۔۔اچانک یہ کیا ہو گیا۔۔۔؟؟ اس دن سے آج تک میری یہ حالت ہو گئی۔۔۔بچوں کواچھی تعلیم کے سپنے دیکھاتا دیکھاتا یہاں تک پہنچا لیکن اب گھر جانے کے لئے پیسے نہیں۔۔۔جانے کس حال میں ہوں گے میرے بچے۔۔۔وہ روتا ہوا اٹھ کر جانے لگا تو مین نے اس سے پوچھا تمہارے گھر کہاں ہیں اسنے بتایا صاحب میں مریدکے کا ہوں ۔۔۔مں نے اسے روکااور پانچ ہزار روپے نکال کر دینے لگا وہ انکار ہو گیا۔۔۔نہین صاحب اب آپ کے گاہک بھی نہین آتے آپ کی دوکان پر تو آپ کے پاس بھی نہیں ہونگے۔۔تو آپ خود رکھ لیں۔اسکے نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے پیسے اسکی جیب میں ڈالے اور وہ چلا گیا۔۔۔تقریباً8 بج چکے تھے۔۔سورج کافی اوپر آچکا تھا لیکن میں معمول کے مطابق دوکان پر نہین گیا تھا۔۔۔دل کچھ عجیب کشمکش میں الجھا ہوا تھا کہ آخر کیا کروں گا ۔ دکان کھول کر ایسے لوگ بھی تو ہیں۔۔جو اپنے دلوں میں خون کی بستی آباد کر کے چوراہوں پر بھٹک رہے ہیں۔۔۔لیکن مجھے اس دن قدرت کے راز کا پتہ چلا کہ رب نے دنیا میں کئی قسموں کے لوگ اس لئے پیدا کئے کہ اپنے بندوں کو آزما سکے کہ کون میرے مفلس بندوں کی مدد کرتا ہے۔۔کون انسے محبت کرتا ہے۔۔۔اور یقیناً جو ان سے نفرت کرتا ہے وہ اپنے انجام تک پہنچ کر رہتا ہے۔

تمام احباب سے یہی درخواست ہے کہ میں نے یہ تحریر اس لئے نہیں لکھی کہ آپ میری تحریر پڑھ کر واہ واہ کریں۔۔بس غور طلب ہے۔“
جذاک اللہُ خیرا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *