“ایک ہزار روپے”

کچھ لوگوں کیلئے ایک ہزار روپے” صرف ہزار روپے” ہوتے ہیں تو کچھ کیلئے یہی ہزار روپے سب کچھ ہوتے ہیں۔ آج دکان پر ایک خاتون سامان لینے آئی، اس عورت کے ساتھ ایک پانچ یا چھ سالہ بچی تھی۔ اسی دوران پانچ خواتین ایک لڑکے کے ساتھ خریداری کرنے آئیں۔ جب یہ پانچ خواتین شاپنگ کر کے واپس گئیں تو بچی کے ساتھ موجود عورت کو یاد آیا” یہاں میرا ایک شاپر رکھا تھا، وہ جو خواتین ابھی گئی ہیں وہ ساتھ لے گئی ہیں” ۔

ان خواتین کے ساتھ جو لڑکا تھا وہ ابھی کاؤنٹر پر مجھے بل ادا کر رہا تھا۔ ہم نے اس لڑکے کو کہا آپ کال کر کے پوچھیے کہ آپ کی خواتین میں سے کوئی غلطی سے ان کا شاپر تو نہیں لے گئی؟ لیکن اسی دوران اس عورت نے کہا” اس شاپر میں پورا ایک ہزار روپے کا سامان تھا میرا” ۔ یہ جملہ جس درد اور پریشانی کے عالم میں بولا گیا وہ دل دہلا دینے والا لہجہ تھا۔ ساتھ موجود چھ سالہ بچی کی مسکراہٹ ایک گہری اداسی میں بدل گئی تھی۔

اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ ان کیلئے یہ ایک ہزار روپے کتنی بڑی رقم ہے۔ بچی آخر جانتی تھی کہ میری ماں سارا دن بازاروں میں گھوم کر سامان خریدتی ہے اور گھر میں فروخت کر کے دو وقت کی روٹی عزت سے کھاتی اور کھلاتی ہے۔ چھوٹے بھائی اور میں نے فیصلہ کیا اور کہا” ماں جی آپ تسلی رکھیں، آپ کا سامان مل جائے گا ابھی، پریشان مت ہوں” ۔ بھائی اور میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر سامان نہیں ملا تو ہم سامان کی رقم انہیں ادا کر دیں گے کیوں کہ ان کا وہ لہجہ اور بچی کی اداسی ساری داستان بیان کر رہے تھے۔

کاونٹر پر ٹھہرے لڑکے نے فوراً کال کی اور تمام خواتین کو دکان پر واپس آنے کا کہا۔ سب نے باری باری اپنے ہاتھ دکھا کر تسلی دی کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ اتنے میں ایک عورت جو پیچھے رہ گئی تھی، داخل ہوئی اور شاپر دیا۔ یہ والا ہے آپ کا؟ اپنا شاپر دیکھ کر بچی اور ماں دونوں کی جان میں جان آ گئی اور الجھی سانسیں بحال ہوئی۔ وہ خوش ہو کر دکان سے واپس چلے گئے۔ ان خواتین نے معزرت کی کہ ہم غلطی سے شاپر لے گئے تھے۔۔۔

یقین کیجیے ایسی ہزاروں خواتین، بچے اور بوڑھے ہیں جو صرف چند ہزار روپے کا سامان لے کر اسے فروخت کرتے ہیں۔ یہ بڑے خود دار لوگ ہیں۔ خاص طور پر ایسی عورتیں۔ چند ہزار روپے کا سامان گھر میں رکھ کر دال روٹی کماتی ہیں۔ اندازہ کریں کہ وہ ایک ہزار روپے کے گوٹے اور لیس وغیرہ لے کر جا رہی تھی اور پندرہ سو روپے کی چوڑیاں۔۔ وہ بھی فروخت کرنے کیلئے۔ آسانیاں تقسیم کیجیے تاکہ ان جیسے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے۔ آج چھوٹے بھائی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسی تمام خواتین سے کوئی منافع نہیں لینا۔ ۔

آپ جو بھی کاروبار کرتے ہیں اگر ایسی خواتین آپ کے پاس آتی ہیں تو ان کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق آسانی پیدا کریں اللہ تعالیٰ آپ کے بڑے مسائل حل کر دے گا۔ ان کے پاس بھی جسم فروشی جیسے کئی آسان راستے موجود ہیں لیکن حلال کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے تو ہمیں بھی بحیثیت انسان اپنا حصّہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ہم ہزاروں روپے فضول خرچیوں میں ضائع کر دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کیلئے ہزاروں نہیں صرف ہزار روپے کس قدر اہمیت رکھتے ہیں؟ خدا کی اس تقسیم کو سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ وہ ایسے لوگوں کو ڈائریکٹ بھی دے سکتا ہے۔ آپ کے پاس ضرورت سے زیادہ موجود ہے تو یہ آپ کا کوئی کمال نہیں ہے۔ دعا کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بڑا دل دے تاکہ آپ تقسیم کر سکیں اور ان جیسے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے۔“
منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *