نا خلف بیٹا

شیخ سعدیؒ کہتے ہیں کہ شہر “دیار بکر” میں ایک بڈھے کا مکان تھا، جس کے پاس بے انتہا دولت تھی۔ اس کا ایک خوبصورت نوجوان لڑکا تھا جس سے اس کو بے حد محبت تھی۔ ایک رات کہنے لگا کہ ساری عمر میری یہی ایک اولاد ہوئی۔ میں نے بہت سی طویل راتیں خدا کے سامنے روتے ہوئے گزاری ہیں، تب کہیں جا کر مجھے یہ فرزند نصیب ہوا ہے۔

میں نے سنا وہ لڑکا چپکے چپکے دوستوں سے کہ رہا تھا اے کاش اس بڈھے سے میری جان چھوٹ جائے۔

(حکایات شیخ سعدیؒ سے ماخوذ)

سبق: شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی حکایات سمجھنے والوں کے لئے انتہائی سبق آموز ہیں۔ اس حکایت سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ باپ جو ساری زندگی اولاد کے لئے تکلیفیں جھیلتا ہے، اس کے لئے ہر طرح کی مشقت برداشت کرتا ہے، دن رات ان کے اچھے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور ان کو پال پوس کر زندگی کی ہر آسائیش مہیا کرتا ہے پھر جب اولاد جوان ہوتی ہے تو اپنے باپ کے ان احسانوں کو بھول جاتی ہے جب وہ اسے اپنے دست شفقت میں اٹھا کر لوری سناتا تھا اور پھر اسی بوڑھے باپ کا وجود اسے برا محسوس ہونے لگتا ہے، وہ کھانستا ہے تو اولاد کو برا لگتا ہے۔ لیکن ایک قابل فکر بات یہ ہے کہ کیا اس نوجوان کو بوڑھا نہیں ہونا تھا؟ آج جس طرح وہ اپنے باپ کے ساتھ کرے گا کیا کل اس کی اولاد اس کے ساتھ ویسا نہ کرے گی؟ کرے گی! پھر اسے اپنے باپ کے ساتھ کی گئی وہ زیادتیاں یاد آئیں گی پر ان کی خدمت کرنے کا وقت وہ کھو چکا ہو گا، اور کیسا بد نصیب انسان ہے جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کر سکا۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *