میری شادی ہوئ تب میں گیارہویں کلاس میں پڑھتی تھی

تحریر: آسیہ طاہر

میری شادی ہوئ تب میں گیارہویں کلاس میں پڑھتی تھی ۔شادی کے کچھ دن بعد ہی سالانہ پیپرز ہوۓ ۔کالج میں میرے شادی شدہ ہونے کا میری دو تین قریبی سہیلیوں کو صرف معلوم تھا ۔

میں بہت اچھا فیل کرتی تھی ۔شادی کے بعد شوہر کے ساتھ ہی کالج جاتی اور وہی چھٹی ٹائم لینے بھی آتے تھے ۔

بائیک کی سواری تھی اور بائیک پر شوہر کے پیچھے بیٹھ کر کالج آنا جانا مجھے بلکل کسی فلمی ہیرو ہیروئن والا سین لگتا تھا ۔دوستوں میں بہت اچھا فیل ہوتا ۔پھر بارہویں کا پورا سال بھی شوہر نے یہ ذمہ داری بڑی خوشدلی سے نبھائ ۔

ابھی میں یہ حسین دن مزید دو سال گزارنا چاہتی تھی ، میں نے سوچا تھا کہ تھرڈ ائیر اور فورتھ ائیر بھی ایسے ہی کروں گی ریگولر، اسی لئے ایک دن ڈاکٹر کے پاس بھی گئ، سادے زمانے تھے نیٹ وغیرہ بھی نہیں تھا، تو کوئ معلومات نہیں تھیں ۔
لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئ ،اسے بتایا کہ میں ابھی کالج پڑھتی ہوں اور ہم میاں بیوی چاہتے ہیں کہ ابھی دو سال بچے نہ ہوں ۔

ڈاکٹر صاحبہ بھی زمانہ شناس دور اندیش بی بی تھیں ۔مجھے کچھ نہ بتایا نہ کوئ دوا دی الٹا کوئ طاقت شاقت کی مزید میڈیسن دے دیں ۔۔
میرا خواب صرف پڑھنا تھا ،اس وقت پڑھائ سے آگے مجھے کچھ نہیں سوجھتا تھا ۔لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے اور بارہویں کے رزلٹ سے پہلے ہی اللہ نے مجھے چاند سے بیٹے کی ماں بنا دیا۔
اب بھی مجھے یہی افسوس تھا کہ میری ریگولر پڑھنے کی خواہش پوری نہیں ہورہی ۔اسی ملال کے ساتھ ذندگی کے حسین ماہ و سال گزرتے رہے ۔

ایک دن جب میں نے بی اے کا سلیبس خریدنے کا ارادہ کیا تو میری بہت پیاری ہمسائ جو مجھ سے بہت اپنائیت رکھتی تھی کہنے لگی آپکو بیٹھے بٹھاۓ ایم ۔اے کی ڈگری مل گئ آپ نے بی اے کر کے کیا کرنا ہے ۔

لیکن دل تو پاگل ہے اسے کون سمجھاۓ،جس بات پر اڑ جاۓ پھر مانتا ہی نہیں ہے ۔
بی اے کی تیاری شروع کر دی اور داخلہ بھیج دیا ۔
مگر قسمت ابھی ہمارا مزید امتحان لینا چاہتی تھی کہ امتحان شروع ہونے میں چند دن تھے ،تیاری میری مکمل اور میں بیمار ہوگئ۔

بیٹا دو سال کا تھا کہ ایک بیٹی کی ماں بن گئ ۔

اب دو بچوں کے ساتھ پھر سے اپنے خواب کو پورا کرنے کی ٹھانی اور ایک بار پھر بی اے کی تیاری شروع کی اور اس بار گریجویشن مکمل کر لی الحمد للہ ۔
لیکن میرا خواب تو ماسٹر کرنے کا تھا ، وہ زمانے جب ہم ناول پڑھتے تھے، تب ناول کی ہیروئن ماسٹر یافتہ ہوتی تھی اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی گردانی جاتی تھی ۔

گریجویشن مکمل ہوئ اور ساتھ ہی تیسرے بچے کی پیدائش ہوئ ۔(تیسری بیٹی آمنہ ہے جس کا کچھ دن پہلے ذکر کیا تھا) ۔
اب تین بچوں کے بعد پھر سے اپنے خواب کی تکمیل کے لئے کمر کس لی ۔ایم اے میں سبجیکٹ کا انتخاب کرنا مشکل تھا ۔
میری اپنی کالج فیلو سے بات ہوئ، اس نے بتایا کہ وہ ایم اے ایجوکیشن کر رہی ہے۔ اور ساتھ اس ڈگری کی اہمیت بتائ ۔بس پھر فورا ایم اے ایجوکیشن کے لئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے داخلہ بھیج دیا ۔(ایم اے ایجوکیشن ایک طویل محنت طلب اور مہنگی ڈگری ہے )

تقریبا تین سال اس پر لگے اور اس دوران ایک اور بیٹی کی پیدائش بھی ہوئ اب چار بچوں کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم اور شوہر کے بھرپور تعاون کے ساتھ ایم اے ایجوکیشن مکمل کی ۔
اس دوران ذندگی میں بہت سے دور گزر چکے تھے میری شادی کو نو سال ہو چکے تھے ۔
بچوں کی پیدائش اور میری پڑھائ میں میری والدہ کا بھی بہت ساتھ رہا الحمدللہ اللہ پاک انہیں صحت والی لمبی عمر دیں ۔

ایم اے ہوگیا اور اب شوق ہوا جاب کرنے کا ۔دو چار پرائیویٹ سکولز میں جاب کی مگر میرا مزاج وہاں سیٹ نہیں ہوا بلکہ یوں کہوں کہ گھر ،بچے اور سکول مجھ سے مینیج نہیں ہوا اور پھر گھر داری اور میں ۔اس دوران گھر میں اپنے بچوں کو اور محلے کے بچوں کو بھی پڑھاتی رہی کہ مجھے اس کام میں سکون ملتا تھا ۔

اب گھر بیٹھی تو سوچا ایک ایم اے اور کرلوں

ایک بات اور اس گھر بیٹھنے کے دوران تین سالوں میں دو اور بیٹیاں پیدا کیں الحمد للہ اللہ کا جتنا شکر کروں کم ہے جس نے اتنا نوازا ہے ۔
الحمد للہ میاں صاحب اور چھ بچوں کا ساتھ ،گھر داری مکمل میرے ذمہ اور شوق چڑھا پھر سے پڑھنے کا، تھوڑی سوچ بچار کے بعد ایم اے اردو سرگودھا یونیورسٹی سے کرنے کی ٹھانی ۔
ایم اے اردو جس کو کرنے کے لئے فریش گریجویشن بچیاں بھی ڈر ڈر کے مرتی ہیں کہ بہت مشکل ہے مابدولت نے دو سال میں مکمل کر لیا الحمدللہ۔
ایم اے اردو کے بعد پھر جاب کا شوق ہوا ۔کی بھی ایک دو اداروں میں لیکن پھر مینیج نہیں کر سکی ۔
بچے ہمیشہ میری پہلی ترجیح رہے اور بچوں کے ساتھ جاب کرنے کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آسکی ،کہ کیسے مینیج کرتے ہیں ۔

بچوں کو ہر وقت ماں کی ضرورت ہوتی ہے اور مجھ سے یہ نہ ہوسکا ۔
ابھی بات مکمل نہیں ہوئ ہے
ہم نے چھ بچوں اور دو ماسٹرز کے بعد پھر ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دیا ۔۔الحمدللہ۔
ایسی بیٹی جسے میں چومتے ہوۓ کہتی ہوں کہ مجھے اللہ نے یہ گفٹ دیا ہے یہ بیٹی میرا انعام ہے ۔میرا سکون ہی سکون الحمد للہ ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *