ایک حیران کن منظر بھی دیکھا

پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے کہ میں کسی کام کے سلسلے میں لاہور گیا ہوا تھا وہاں ایک دوست نے مجھے کہا حضرت اگر آپ کے پاس وقت ہو تو آپ کو ایک چیز دکھانا چاہتا ہوں میں نے پوچھا کہ کونسی چیز وہ کہنے لگا حضرت آپ وہ چیز دیکھ کر یقیناً خوش ہونگے لہذا اگر آپ کے پاس وقت ہے تو میں آپ کو لیے چلتا ہوں

میں نے کہا ٹھیک ہے چلیں اس نے مجھے اپنی گاڑی پر بٹھا لیا اور تقریباً دس کلو میٹر سفر کرنے کے بعد اس نے بریک لگائی وہ خود بھی گاڑی سے نیچے اترا اور مجھے بھی کہا حضرت آپ بھی اتر آئیں چنانچہ میں بھی اتر گیا اس نے مجھے وہاں سڑک پر برگد کا ایک ایسا درخت دیکھایا جو سخت آندھی کی وجہ سے جڑوں سے اکھڑا ہوا تھا میں نے کہا اس درخت کی کیا خوبی ہے وہ کہنے لگا حضرت آپ ذرا اس کے قریب ہو کر اس کی جڑوں کے اندر دیکھیں چنانچہ جب میں نے قریب ہو کر دیکھا تو میں حیران رہ گیا کہ اس درخت کی جڑوں کے درمیان والی مٹی میں نورانی چہرے والے ایک باریش آدمی کی میت دفن تھی اس میت کی جڑوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا درخت کے اکھڑنے کی وجہ سے اس کی جڑوں میں سے مٹی گر گئی جس کی وجہ سے اس کی میت نظر آرہی تھی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کا جسم اور کفن بالکل صحیح سلامت تھے سبحان اللہ بعد میں ہم نے غور کیا کہ یہ درخت تقریباً ایک سو سال پہلے لگایا گیا تھا جوں جوں درخت بڑھتا گیا اس کی جڑیں اس آدمی کی میت کو چاروں طرف سے گھیرتی گیئں معلوم نہیں کہ اس آدمی کو اس درخت کے لگنے سے کتنا پہلے دفن کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *