خدا کی جنت

عام طور پر تعلیمی نظام کا ڈھانچہ کریڈٹ آورز یعنی تدریسی گھنٹوں کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے ، بارہ جماعتیں پڑھنے کے بعد مزید چار سال کی تعلیم کی تکمیل پر بی ایس اور دو سال مزید پڑھنے پر ماسٹر کی ڈگری ملتی ہے۔

ان اٹھارہ سالوں میں ایک طالب علم روزانہ درسگاہ جاتا ، لیکچر غور سے سنتا ، نوٹس لیتا ، اسائنمنٹس بناتا ، پریزینٹیشن دیتا اور پھر اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لئے امتحان کے عمل سے گذرتا ہے۔ ان جوانی کے قیمتوں سالوں میں وہ دھوپ کی حدت جھیلتا ، سردی کے تھپیڑے برداشت کرتا ، راتوں میں شب بیداری کرتا اور دن کے سیر سپاٹوں کو محدود رکھتا ہے ، اس کے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔ اس کو پانے کی امنگ ہے ، وہ ان تکالیف کو جھیلتا ہوا شاندار مستقبل کے تصور میں مگن آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔

چنانچہ وہ چلچلاتی دھوپ میں اپنے تخیلاتی دفتر کا یخ بستہ کمرہ تصور میں لاتا ، رت جگوں میں مستقبل کی پرسکون نیندوں کی امید رکھتا اور بسوں کے دھکوں میں عالیشان کار کے تخیل سے محظوظ ہوتا ہے ، اس کے ماں باپ ، دوست احباب اور خیر خواہ اس کو دیکھتے ، سراہتے اور اسکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں کامیابی کا راز یہی محنت ہے۔ بالآخر یہ سولہ برس کی ٹریننگ اسے اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ایک اچھی ملازمت حاصل کرکے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرلے۔

ایک بندۂ مومن کی جدو جہد بھی نوعیت کے اعتبار کچھ اسی سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے سامنے بھی ایک واضح مقصد ہے اور وہ ہے اپنے رب کی رضامندی اور خوشنودی.. اس کا روشن مستقبل جنت کی شہریت کے حصول سے منسلک ہے۔

چنانچہ جب اسے شہوت تنگ کرتی ہے تو نفس کو لگام ڈالتا ہے ، جب وہ بیماری و مشکل میں گرفتار ہوتا تو صبر کرتا ہے۔ جب اسے کسی کامیابی کا سامنا ہوتا تو وہ اکڑنے کی بجائے شکر کرتے ہوئے اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔ جب شیطانی محفلوں کی رنگ رلیاں اسے دعوت گناہ دیتیں تو وہ آنکھیں پھیر لیتا ہے، جب نفس کے تقاضے اسے بدگوئی پر مجبور کرتے تو وہ زبان کو قابو کرلیتا ہے۔ وہ اپنے ہر عضو ، ظاہر اور باطن , ہر شے کو اپنے مکمل کنٹرول میں رکھتا اور اپنے رب کی مرضی کے ماتحت کر دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر آج محنت نہ کی تو کل کی جنت ہاتھ سے نکل جائے گی۔

ایک نوجوان اس دنیا میں اعلیٰ متقبل کے
لئے تو اتنی محنت کرتا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ دوسری دنیا کے لئے کوئی محنت کرنے پر تیار نہیں.. وہ صبح فجر میں نہیں اٹھنا چاہتا ، وہ اپنی نگاہوں کو فحش مناظر سے نہیں بچاتا ، وہ اپنی زبان کو گناہ کے کلام سے محفوظ نہیں رکھتا اور اپنے آپ کو نفس کے ہاتھوں یرغمال بنا لیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ جنت کی تمنا رکھتا ہے بلکہ بسا اوقات تو وہ یہ تمنا بھی نہیں رکھتا اور پھر بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ دوسری دنیا میں کامیاب ہوجائے گا۔

​​اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اس دنیا میں کاغذ کے نوٹ محنت کے بغیر نہیں ملتے تو دوسری دنیا کی نعمتیں بھی اتنی سستی نہیں کہ محنت کے بغیر جھولی میں ڈالدی جائیں….​​

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *