اس شخص نے جب یہ گفتگو سنی تو سوچنے لگا کہ پچاس ڈالر تو میرے پاس بھی ہیں،

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کام کاج کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا مگر اسے کوئی بھی کام نہ مل سکا.

تھک ہار کر وہ چرچ میں چلا گیا، اور اونچی آواز میں کہنے لگا “خداوندا تو مجھے کب تک غریب رکھے گا”

پادری نے جب یہ الفاظ سنے تو اس شخص کو ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے. وہ غریب شخص کہنے لگا کہ ٹھیک ہے پھر آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ پھر نہ دہرا سکوں.

پادری کہنے لگا ٹھیک ہے مجھے اس چرچ کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے، جو یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب لکھا کرے ، تم یہ کام سنبھال لو ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میرے ذمے ہوگی.

اس شخص نے فوراً حامی بھر لی، پادری نے اسے کھاتہ رجسٹر اور قلم دے دیا، اور یوں وہ شخص چرچ کا کاتب بن گیا. وہ روزانہ پادری کو ہر چیز کے متعلق تفصیل سے بتاتا رہتا تھا، جب اسے کام کرتے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تو پادری نے کہا ذرا اپنا حساب کتاب لکھنے والا رجسٹر لے کر آؤ تاکہ اس ہفتے کی آمدن اور اخراجات کا موازنہ کیا جاسکے، وہ شخص کہنے لگا جناب مجھے تو لکھنا پڑھنا آتا ہی نہیں، میں تو زبانی ہر چیز کا حساب رکھتا ہوں.

پادری نے کہا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم لکھ پڑھ نہیں سکتے، مجھے تو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو پڑھا لکھا ہو، تم میری طرف سے یہ پچاس ڈالر لو اور جاؤ جاکر کوئی دوسرا کام تلاش کرو.

وہ شخص پچاس ڈالر لیکر جب چرچ سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں باتیں کررہے تھے، ایک شخص دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ میں نے تمھیں پچاس ڈالر قرض دیے ہیں، اب تم ان سے کوئی تجارت کا کام کرو، اپنا نفع حاصل کرو اور بعد میں مجھے میری اصل رقم لوٹا دو.

اس شخص نے جب یہ گفتگو سنی تو سوچنے لگا کہ پچاس ڈالر تو میرے پاس بھی ہیں، مجھے بھی تجارت کرکے دیکھنی چاہیے..

وہ گیا اور بازار میں اچھی طرح گھوم پھر کر دیکھا، اس نے دیکھا کہ اس شہر کے امرا ٹماٹر سے روٹی کھاتے ہیں مگر عجیب بات تھی کہ ٹماٹر وہاں اگتا نہیں تھا، دور دراز کے علاقوں سے جب ٹماٹر آتا تو طویل سفر اور گرم موسم کے باعث رستے میں خراب بھی ہوجاتا تھا اس وجہ سے اس کام میں سرمایے اور وقت کے خسارے کے پیش نظر بس دو تین تاجر ہی یہ کام کرتے تھے، اور وہ منہ مانگے دام بھی وصول کرتے تھے – – –

اس شخص نے دور دراز کے علاقوں سے ٹماٹروں کو یہاں لاکر فروخت کرنے کا ارادہ بنا لیا –

وہ پہلے بھی مختلف شہروں کا سفر کرتا رہا تھا، اسے پتا تھا کہ کہاں پر ٹماٹر سستا اور کثرت سے پایا جاتا ہے – وہ سیدھا وہیں گیا اور وہاں سے جب ٹماٹر خرید کر لایا اور بہت کم منافع کے ساتھ انہیں فروخت کرنا شروع کیا تو پہلے دن ہی سارے ٹماٹر ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور اسے اچھا خاصا منافع بھی حاصل

ہوا –

اسے یہ کام پسند آگیا، اور پھر کرتے کرتے ایک دن وہ اس علاقے کا بڑا تاجر بن گیا – اس نے اپنے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے نوکر بھی رکھ لیے –

ایک دفعہ وہ سفر کرتے ہوئے کسی ایسی جگہ پر گیا جہاں ہسپانوی زبان بولی جاتی تھی جس سے وہ نابلد تھا – وہ ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا تو اسے کھانوں کے نام پلے نہیں پڑ رہے تھے – اس نے اپنے ایک نوکر کو بلا کر کہا کہ! ” ذرا ان کھانوں کے نام تو سمجھ کر مجھے بتاؤ -” نوکر نے حیرانی سے کہا جناب آپ اتنے بڑے تاجر ہیں مگر آپ کو ہسپانوی زبان نہیں آتی – اس شخص نے کہا اس لیے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں – تو نوکر نے کہا جناب آپ ان پڑھ ہوکر ایک بڑے تاجر ہیں، سوچیں اگر دو چار جماعتیں پڑھ لیتے تو پتا نہیں کتنے بڑے تاجر ہوتے اور آج نجانے کہاں ہوتے – اس شخص نے جواب دیا! ” ہونا کہاں تھا، اگر دو چار جماعتیں پڑھ جاتا تو آج پچاس ڈالر ماہوار پر چرچ میں پادری کا کاتب ہوتا……”

ایک عربی تحریر کا اردو ترجمہ

منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *