تین قسم کی بیویاں

منصور دوانیقی کی خلافت کے زمانے میں ایک آدمی نے فیصلہ کیا کہ جب تک ایک سو افراد سے مشورہ نہ کرلے شادی نہیں کریگا۔

رات جب سونے لگا تو ارادہ کیا کہ صبح جب اٹھے گا تو پہلے جس آدمی سے ملے گا اس سے اس بارے مشورہ کریگا۔ قسمت کا کرنا یہ ہوا کہ صبح جب پہلے شخص سے ملا تو وہ پاگل تھا۔ اس کے پیچھے بچے بھاگ رہے تھے۔ اپنے آپ سے کہنے لگا اس پاگل کو تو عقل ہی نہیں ہے۔ لیکن اب کوئی چارہ نہیں ہے مجھے اس کیساتھ مشورہ کرنا ہوگا۔

اس پاگل نے جواب دیا؛ بیویاں اور عورتیں تین قسم کی ہیں۔ ایک تمھارے لیے ہے نہ کہ تم پر ہے۔ دوسری دائیں طرف نہیں اور نہ ہی تم پر ہے۔ تیسری دائیں طرف نہیں ہے اور تم پر ہے۔ خیال کرو کہیں میرا گھوڑا تمھیں لات نہ مار دے۔ یہ کہا اور وہاں سے بھاگ گیا۔

وہ آدمی کہتا ہے میں سوچ میں پڑ گیا، میں نے کہا یہ تو سمجھداروں والی بات لگتی ہے۔ میں اس کے پیچھے گیا اور کہا تم نے بہت مختصر بات بتائی ہے اس کی وضاحت کرو۔

وہ پاگل بولا؛ وہ عورت جسکا تمھیں فائدہ ہے وہ باکرہ عورت ہے، اسکے دل میں تمھاری محبت غالب ہوگی۔ وہ عورت جسکا تمہیں فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ تمھارے خلاف ہوگی، وہ عورت ہے جسکا پہلے شوہر تھا اور اسکی محبت ابھی بھی اسکے دل میں باقی ہے۔
وہ عورت جسکا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ تمھارے نقصان میں ہے، وہ عورت ہے جسکی پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہو اور وہ ہروقت اسکے کاموں میں مصروف رہے، تمھارا سب مال اس پر خرچ کردے۔ اور جب تم اس سے کوئی بات کہو تو جواب میں کہے کہ وہ بہت ہی برا دن تھا جب مجھے تمھارے ساتھ باندھ دیا گیا۔ پاگل نے یہ کہا اور جلدی وہاں سے بھاگ گیا۔

وہ آدمی کہتا ہے میں پھر اس کے پاس گیا اور کہا؛ تمھاری باتیں تو عقلمندوں کی طرح ہیں تو پھر کیوں پاگل بنے پھرتے ہو؟
اس نے جواب دیا کہ خلیفہ چاہتا تھا کہ مجھے قاضی بنا دے۔ اس قضاوت سے فرار کی خاطر میں پاگل بن گیا ہوں۔
میں بہت حیران ہوا۔
( جوامع الحکایات، ص335)

سید سجاد حسین ھمدانی

نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص380۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *