ہر حال میں اللہ کو یاد کرو۔

ایک شخص کھجوروں کا بہت شوقین تھا.. دن بھر درختوں پر چڑھ کر کھجوروں کو توڑنے اور کھانے کی فکر میں رھتا تھا.. ایک مرتبہ اسے کافی اونچا اور بڑا درخت دکھائی دیا.. اس پر کافی بڑے گچھے بھی لگے ہوئے تھے..

“اندھے کو کیا چاہیے ___ دو آنکھیں” اسے من کی مراد مل گئی.. آؤ دیکھا نہ تاؤ , گلہری کی طرح درخت کی چوٹی پر چڑھ گیا.. جی بھر کے کھجوریں کھائیں اور پھر گھر کے لئے جمع کرنے لگا.. مقصد پورا ہوا تو پیڑ سے نیچے اترنے کی ٹھانی..
لیکن یہ کیا..؟

جیسے ہی نیچے نظر کی , ہوش باختہ ھو گیا.. پیشانی پر پسینے کی بوندیں نظر آنے لگی.. ھاتھ پیر تھر تھرانے لگے.. اس نے تصوّر بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنے اونچے پیڑ پر چڑھ چکا ھے.. اب کیا کرے..؟ وہ آج سے پہلے کبھی اتنے اونچے پیڑ پر نہیں چڑھا تھا..
“یا خدا میری حفاظت کر.. مجھے خیریت سے نیچے اتار دے.. اگر ھاتھ چھوٹ گیا , میں نیچے گر پڑا تو آج کا دن میری زندگی کا آخری دن ثابت ہوگا.. یا الله ! ایسا مت ھونے دینا مجھے بچا لینا.. میں خیریت سے نیچے پہنچ گیا تو پورے پانچ روپے کی نیاز پیش کروں گا.. یہ میرا وعدہ ھے..”

اس وعدے نے اس میں ہمّت پیدا کی.. وہ دھیرے دھیرے نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگا.. آدہی دوری پار کی تو ھوش قابو میں آے.. دل کی دھڑکن میں افاقہ ھوا , پیشانی کا پسینہ خشک ہونے لگا.. اب اس نے پھر زمین میں نظر ڈالی جو کافی نزدیک آ گئی تھی.. اس نے اپنے دل میں سوچا..

“میں ایسے ہی مرا جا رھا تھا.. یہ کوئی اتنے زیادہ خطرے کی بات تو تھی نہیں کہ دو روپے کی کھجوریں کھا کر پانچ روپے کی نیاز کا وعدہ کرلیا جاتا.. خیر پھر بھی نفع نقصان برابر والی بات پر عمل کر لیتے ہیں.. دو روپے ٹھیک رہینگے.. اگر خیریت سے نیچے اتر گئے تو دو روپے کی نیاز پیش کر دینگے.. یہ وعدہ رھا..”
اور یہ وعدہ دوری گھٹتے گھٹتے پوری طرح گھٹ کر صفر میں تبدیل ہو گیا.. زمین پر پیر رکھتے ھی اس نے پیڑ کی طرف دیکھا اور ھنسنے لگا.. اس نے کہا.. “پیڑوں پر میں نا جانے کتنی ھی مرتبہ چڑھ کر اتر جاؤں.. پتا نہیں میں اتنا کیوں ڈر گیا تھا.. یہ خطرے جیسی کوئی بات تھی ہی نہیں..”

اور پھر ھاتھ صاف کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا.. نیاز سے بےنیاز تو وہ ہو ہی چکا تھا !!
ہم میں سے اکثر لوگوں کا یہی حال ھے.. جب کوئی مصیبت پڑتی ھے تو بہت عاجزی انکساری سے اللہ کو پکارنے لگ جاتے ھیں اور جب مصیبت ختم ہو جائے تو پھر اللہ کو بھلا دیتے ہیں..
جس اللہ کو مصیبت میں یاد کرتے ھیں اگر خوشی میں بھی اسے یاد کر لیا کریں تو کیا ہی اچھا ہو ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *