جہیز لے جاؤ لڑکی نہیں جائے گی

یہ ایک سچا واقعہ ہے جسے میں کئی بار والد صاحب سے سن چکا ھوں.

کئی سال ہوئے میرے والد صاحب ایک شادی میں شریک ہوئے شادی ایک سیاستدان اور سرمایہ دار کی بیٹی کی تھی اور ان کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ایک بڑی جائداد کی اکلوتی وارث تھی۔

مریدکے کے کسی امیر خاندان میں رشتہ طے ہو گیا

والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم شادی میں پہنچے بارات کے پہنچنے کا وقت ہو گیا ایک وسیع و عریض پنڈال سجا ہوا تھا۔

والد صاحب فرماتے ہیں کہ کھانے اور بیٹھنے کے ساتھ ایک تیسرا بہت بڑا پنڈال بھی تھا جس میں جہیز کا سامان رکھا گیا تھا۔

خیر بارات آ گئی لڑکی کا والد بارات کو لے کر سیدھا جہیز والے پنڈال میں چلا گیا اور لڑکے والوں سے کہنے لگا کہ آپ لوگ سامان دیکھ لیں کہ کوئی چیز کم تو نہیں جو آپ کی طرف سے مطالبہ کی گئی ہو اور یہاں نہ ہو۔

ہر چیز کے ساتھ ایک پرچی لگی ہوئی تھی کہ لڑکے کی پھوپھی کی مانگ (Demand) خالہ کی مانگ فلاں فلاں کی مانگ بارات نے جب سارہ جہیز دیکھ لیا تو لڑکی کا والد بارات کو لے کر سیدھا کھانے والے پنڈال میں چلا گیا اور کھانا کھلوا دیا۔

لڑکے والے کہتے رہے کہ پہلے نکاح پڑھ لیتے ہیں پھر کھانا کھائیں گے لڑکی کا والد ان کو ٹالتا رہا اور کھانا شروع کروا دیا گیا۔

بارات اور لڑکی والوں کی طرف سے ہزاروں افراد اس شادی میں شریک تھے کوئی چھوٹی شادی نہیں تھی۔

خیر کھانا کھا لیا گیا فارغ ہو کر لڑکے والوں نے پھر کہا کہ نکاح خواں کو بلائیں لڑکی کا والد بار بار پوچھتا رہا کہ جہیز پورہ ہے آپ جہیز لادنا کرنا شروع کریں۔

اب لڑکے والوں کو بھی کچھ گڑبڑ محسوس ہونا شروع ہو گئی اور ان کا نکاح کروانے کا اصرار بڑھتا گیا۔

لڑکی کے والد نے لڑکے والوں سے کہا کہ کھانا آپ لوگوں نے کھا لیا ہے جہیز آپ کی طلب کے عین مطابق پورا ہے وہ آپ اٹھائیں اور چلے جائیں لڑکی کی آپ کو ضرورت نہیں سو وہ آپ کے ساتھ نہیں بھیجی جائے گی اور ایسا ہی ہوا لڑکی کے والد نے کئی گھنٹوں کے بحث مباحثے کے بعد بھی لڑکی نہیں بھیجی اور بارات بغیر لڑکی کے واپس چلی گئی۔

لڑکی کے والد نے وہیں موجود اپنے بھائی کے بیٹےکو بلایا جو کہ مالی لحاظ سے بھی کمزور تھے نکاح خواں کو بلایا اور بیٹی کا نکاح بھتیجے سے کروا کر لڑکی اس کے ساتھ رخصت کر دی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *