کچھ برا لگے تو معزرت

مرد اپنا جسم کسی بھی عورت کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکتا ہے بیشک وہ عورت اسے پسند ہو یا نا ہو ، لیکن اس معاملے میں عورت کی طبیعت بہت حساس ہوتی ہے وہ اپنا جسم کبھی بھی نا پسندیدہ مرد کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پاتی ، ہاں مجبوری میں سمجھوتہ کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا ، اگر اس کی مجبوری نا ہو تو وہ کسی بھی نا پسندیدہ مرد کو اپنے قریب بھی نا پھٹکنے دے ،

ہم جسم کی بات کرتے ہوئے اکثر شرماتے ہیں لیکن جسم کے بغیر ہر محبّت سمجھوتہ ہوتی ہے اور سمجھوتہ کسی بھی صورت میں اذیت ناک ہوتا ہے ، یہ ایک تلخ مگر حقیقت پہ مبنی نفسیات کے ماہرین کی باتوں کا نچوڑ ہے کہ جو عورت مرد کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہے وہ ہمیشہ اذیت میں ہی رہتی ہے ، جبکہ فطرت اور قدرت سمجھوتے کے سخت خلاف ہے ، اللہ‎ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے بندے پر کوئی جبر کے ساتھ مسلط کیا جائے

یہاں پگڑیوں کے واسطے دینے والے اپنی بے جان پگڑی کا تو بڑا احساس کرتے ہیں لیکن جیتے جاگتے انسان کو اپنی انا کی بھٹی میں جھونکنے سے پہلے اس کی آخری خواہش تک نہیں پوچھتے ، ایسا تو جانوروں میں بھی نہیں ہوتا جیسا یہاں انسانوں کے ساتھ سلوک ہوتا ہے۔

جب ایک بیٹی کہتی ہے کہ مجھے یہ مرد پسند نہیں تو کیوں اس بیٹی کے ساتھ جبر کیا جاتا ہے ، چلو بیٹی کہ ساتھ تو آپ جبر کرتے ہی ہیں لیکن جس کے گھر بیٹی کو بھیجتے ہیں اس بندے کا کیا قصور ہوتا ہے جس کو آپ کے جبر کی سزا ساری زندگی بھگتنی پڑتی ہے ، جس کو آپ کی ہی بیٹی منہ نہیں لگاتی ہے جسم پر حق دیتی ہے تو دل میں جگہ نہیں دے پاتی ، دل میں جگہ دیتی ہے تو جسم کو زندہ لاش بنا کر پیش کرتی ہے ، بیٹی کے ساتھ ہی جبر نہیں ہوتا داماد کے ساتھ بھی جبر ہوتا ہے۔

ہم سوچتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا ، لیکن ان بیچاروں کی زندگی جہنم سے بھی بدتر ہو جاتی ہے ، وہ بیچارے پھر بھی اپنے والدین کی عزت کے لیے خاموشی سے ایک دوسرے کو برداشت کرتے رہتے ہیں ، لیکن والدین کو اپنی پگڑی کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔۔۔!

صد افسوس کہ۔۔۔! اپنی پگڑی سلامت رکھنے کے لیے دو جیتے جاگتے نفوس زندہ لاشوں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں ، اور اس سے بھی ازیت ناک بات یہ ہے کہ پھر ان زندہ لاشوں کی تجارت کی جاتی ہے ، اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے انہیں استعمال کیا جاتا ہے ، یہ زندہ لاشیں ہمارے بیمار معاشرے میں کثرت سے پائی جاتی ہیں ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *