دو عورتیں

ایک گھر میں دو بھائی، ان کی بیویاں اور بچے ایک ساتھ رہتے تھے۔ دیورانی اور جٹھانی میں اکثر کسی بات کو لے کر تلخ کلامی ہوتی رہتی تھی۔ کبھی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اچھی تو کبھی بالکل دشمنوں جیسا تعلق رہتا تھا۔ جٹھانی نے اپنے بیٹے کی شادی کی تو یوں اس گھر میں بہو آ گئی۔

ساس نے بہو کے ساتھ نبھانے کی ہر ممکن
کوشش کی لیکن بہو کا صرف ایک ہی جملہ تھا” میں نے الگ گھر میں رہنا ہے۔ یا مجھے چھوڑ دو یا پھر اپنی ماں کو چھوڑ دو” ۔۔
اسی کشمکش میں کچھ سال گزر گئے۔ ساس ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہو گئی، یہاں تک کہ وہ اپنے حواس تک کھو بیٹھی، بس اپنے چند قریبی لوگوں کی شناخت کرنے کے قابل تھی باقی کوئی خبر نہ تھی کہ کون کیا لگتا ہے؟ بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنا کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔ ایک ہی بیٹا تھا جو صبح نکلتا اور رات کو گھر واپس آتا تھا۔ واپس آ کر بیٹا ہی اپنی ماں کے کچھ کام کرتا۔ اپنی بیوی کی بہت منت کی مگر دل میں کوئی رحم نہ آیا۔۔

اسی دوران دیورانی کا سارا کردار بدل گیا، وہ سب کچھ بھول کر اب شاید ایک انسان کا کردار ادا کرنا چاہتی تھی۔ کون غلط تھا کہاں کس کی غلطی تھی اب اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی۔ جس کے دل میں خوف خدا ہو یا احساس زندہ ہو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا فرض ہے یا نہیں؟ وہ تو بحیثیت انسان صرف انسانیت کو مد نظر رکھ کر خدمت کرتے ہیں اور اپنی آخرت کیلئے وسائل اکٹھے کر لیتے ہیں۔۔

دیورانی نے اپنی جٹھانی کی ایسے خدمت کی جیسے بیٹی ماں کی کرتی ہے۔ اس کیلئے کھانا بنانا، اسے نہلانا، اس کے کپڑے تبدیل کرنا، بیٹا بھی ذہنی طور پر مطمئن ہو گیا ورنہ کام کے دوران سارا دن ماں کی فکر رہتی تھی۔ یہ ساس چار ماہ کی علالت کے بعد وفات پا گئی اور اس جہان سے چلی گئی۔ دیورانی یوں روئی جیسے اس سے ماں بچھڑ گئی ہو۔۔۔

فرض بہو کا نہیں تھا تو دیورانی کا بھی نہیں تھا مگر انسانیت جس میں زندہ ہو وہی لوگ بڑے ظرف کے مالک ہوتے ہیں۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے۔

بات تو ساری احساس کی ہے۔۔
سلامت رہیں

“وسیم قریشی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *