اپنے قدموں پر کھڑے ہونے والوں کی ایک مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی بھی دوست یا دشمن

اپنے قدموں پر کھڑے ہونے والوں کی ایک مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی بھی دوست یا دشمن ،ان کی ٹانگ کھینچ سکتا ہے البتہ ہاتھوں کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ یہ کام کوئی غیر شخص نہیں کر سکتا۔آدمی کے دونوں ہاتھوں کو کام کے مانا گیا ہے اور شاید اس حقیقت کو عام فہم الفاظ میں بیان کرنے کی غرض سے کسی شاعر نے کہا بھی ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ نکلے کام کے لیکن تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ ان دونوں
ہاتھوں میں سے آدمی کا دایاں ہاتھ جو جسم کی داہنی سمت میں آویزاں ہوتا ہے زیادہ مصروف ہوتا ہے ۔

آدمی کی خوردونوش کی عادت جو کبھی کبھی پر خوری کی حد سے آگے نکل جاتی ہے ،سیدھے ہاتھ کی پابند ہے ۔مصافحے کے لیے بھی دونوں ملاقاتی (بظاہرخوش ہو کر)اپنے دائیں ہاتھ ہی کو تکلیف دیتے ہیں۔ (بعض معاشروں میں مصافحے کی بجائے لوگ بوس وکنار کو بہتر ذریعہ ملاقات سمجھتے ہیں لیکن یہ طریقہ کتنا ہی دلآویز کیوں نہ ہو،طبی نقطئہ نگاہ سے مناسب نہیں ہے)۔مشاعروں میں ،کسی شاعر کو خارج ازبحرشعر پر داددینی ہوتو صرف واہ واہ کہہ دینے سے داد کا حق ادا نہیں ہوتا اس لیے سیدھا ہاتھ اٹھا کر ہی یہ کام کرنا پڑتا ہے ۔

محفلِ موسیقی میں بھی صرف جھومنے اور سرہلانے سے بات نہیں بنتی اپنا دایاں ہاتھ مسلسل اپنے زانو پر طبلے کی تھاپ سے ہم آہنگ کرتے رہنا چاہیے۔

یہاں بھی شرط یہ ہے کہ زانواپنا ہی ہو۔اور تو اور جنھیں کسی کی پیٹھ میں خنجر اتارنایاپیٹ میں چھراداخل کرنا ہوتو تب بھی یہی دایاں ہاتھ ان کی کامیابی ،کامرانی اور شادمانی کا باعث ہوتا ہے ۔مائیں زیادہ تراپنے بچوں کی تربیت بھی اسی ہاتھ سے کرتی پائی گئی ہیں ۔

آپ کو جب اپنی گلی میں کسی گھر کے دروازے کے باہر دہلیز پر بیٹھا کوئی بچہ روتا یا بسورتادکھائی دے اور اس کا داہنا رخسار،شفق کی سرخی لیے ہوئے ہوتو سمجھ لینا چاہیے کہ چند ہی منٹ پہلے،اندرونِ باورچی خانہ اس بچے کی (اچھی )تربیت ہوئی ہے ۔

داہنے ہاتھ کے استعمال کی بیسیوں مثالیں اور بھی ہمارے ذخیرہ معلومات میں ہیں جیسے کہ اگرکسی اجنبی راہ گیر کو راشن آفس یا ڈاک گھر کا پتہ بتانا مقصود ہوتو اس موقعہ پر بھی آدمی سیدھا ہاتھ ہی اٹھا کر راہ گیر کو غلط سمت میں روانہ کرتا ہے ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *