” نوجوان نسل اور بوڑھے والدین”

دادا ابو ایک قصہ سنایا کرتے تھے۔۔
ایک بہو اپنے سسر سے تنگ تھی، روز جھگڑے ہوتے تھے۔ خاوند جیسے ہی گھر میں قدم رکھتا تو بیوی شروع ہو جاتی تھی کہ تم اپنے ابا کو گھر سے نکال دو مجھ سے ان کے کام نہیں ہوتے۔ یہ بوڑھا تھوکتا ہے، سارا دن کھانسی کرتا ہے۔ مجھے گھن آتی ہے۔

ایک دن خاوند گھر آیا تو اس کی بیوی گھر چھوڑ کر جا چکی تھی اور یہ پیغام چھوڑ گئی تھی کہ “جب اپنے ابا کو گھر سے نکال دو تو سندیسہ بھیج دینا میں خود ہی واپس آ جاؤں گی” ۔ بیٹے نے مجبوراً اپنے ابا کو کندھوں پر اٹھایا اور جنگل کی طرف لے گیا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ بیٹے نے ایک درخت کی چھاؤں میں اپنے ابا کو بٹھا کر معافی مانگی اور جانے کیلئے کھڑا ہوا۔ باپ ایک مرتبہ رویا اور پھر مسکرانے لگا اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بیٹھ گیا۔۔
بیٹے نے پاس بیٹھ کر رونے اور پھر مسکرانے کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا
” بیٹے۔۔ میں نے بھی اپنے باپ یعنی تمہارے دادا کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ وہ وقت یاد آ گیا تو آنکھوں سے انسو نکل آئے مگر میں اپنے باپ کو دھوپ میں بٹھا کر واپس چلا گیا تھا جب کہ تم نے مجھے درخت کی چھاؤں میں بٹھایا۔ اس بات پر مسکرا دیا کہ میں اپنے باپ کی نسبت خوش نصیب ہوں” ۔۔۔

یہ سب سننے کے بعد باپ بیٹا ایک دوسرے کو گلے لگ کر رونے لگے۔ بیٹے نے باپ کو واپس کندھوں پر اٹھایا اور گھر آ گیا۔ بیگم کے گھر جا کر کہا” میرا باپ میرے پاس ہی رہے گا۔ میں اپنی آخرت اور بڑھاپا اپنے باپ کی طرح تباہ نہیں کر سکتا” یہ سب کہنے کے بعد سارا قصہ بھی بیان کر دیا۔ یوں بیگم بھی اگلے دن واپس آ گئی اور سسر سے معافی مانگ کر خدمت شروع کر دی۔۔
دادا ابو کہتے تھے” تب عورتیں بھی ایسی سمجھدار ہوتی تھیں اور لوگوں میں خوف خدا پایا جاتا تھا”

“خاندانی مسائل” کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جس میں اس بات کا ذکر کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بیٹھ جانے والا سسر بھی ایک وہ کردار ہے جس کی وجہ سے مسائل سننے کو ملتے ہیں۔ اس پر کچھ مرد حضرات اور باقاعدہ کچھ خواتین نے بھی کہا” تو پھر ریٹائرمنٹ کے بعد باپ یا سسر کہاں جائے؟ کیا اسے گھر سے نکال دینا چاہیے؟”

بھئی یہی تو وہ بات ہے جو میں آپ سب کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہمارے بزرگ ہمارا اثاثہ ہوتے ہیں۔ کئی لوگ شاید جائداد کو وراثت سمجھتے ہیں لیکن میری نظر میں وراثت بوڑھے والدین یا بزرگ ہیں۔ ان سے بڑی وراثت اور ان سے زیادہ قیمتی اثاثہ میری نظر میں کچھ اور نہیں۔۔۔

آپ اتنا یاد رکھیے کہ آپ نے بھی ایک دن بزرگ ہونا ہے۔ آپ سدا جوان نہیں رہیں گے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دن بڑھاپا آپ کو گلے سے لگانا پڑے گا ورنہ یہ زبردستی آپ کے گلے لگ جائے گا۔ آپ کی گود میں آ کر کسی ضدی بچے کی طرح بیٹھ جائے گا۔ ایک دن محتاجی آپ کو اپنے شکنجے میں لے گی اور آپ اس وقت پر سہارا تلاش کریں گے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب آپ کو اپنے بولے گئے جملے شدت سے یاد آئیں گے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ لہو ٹپکے گا۔ آپ کی آنکھوں میں خوابوں کی جگہ ندامت ہوگی۔ تب آپ یقیناً سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بوڑھے والدین کی خدمت اور دیکھ بھال میں کون سا مقصد پوشیدہ رکھا ہے؟
یہی کہ آج آپ ان کی خدمت کریں گے تو کل یہ پلٹ کر آپ کو واپس ملے گی۔ آج آپ اپنی کچھ خواہشات کو چھوڑ کر ان کا سہارا بن جائیں تو کل آپ کی اولاد بھی آپ کے لیے یہی قربانی ہنسی خوشی قبول کرے گی۔ آج آپ ان کی باتوں کو عمر کا تقاضا سمجھ کر نظر انداز کر دیں یا صبر کر لیں تو کل جب آپ پچپن کے بعد بچپن میں داخل ہوں گے تو آپ کی اولاد بھی صبر کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج آپ پرسنل لائف، ذاتی زندگی، میری خواہشات، میرے جذبات واحساسات کا ماتم کرتے ہوئے اپنے بزرگوں کو دھتکار دیں گے تو کل یہی سب آپ کو پلٹ کر واپس ملے گا۔۔۔
انتخاب آپ کا اپنا ہے۔“
“وسیم قریشی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *