روزے میں مزہ صرف اس وقت نہیں آئے گا، جب بندہ غصے اور تکبر کا شکار ہو گا۔

روزے میں مزہ صرف اس وقت نہیں آئے گا، جب بندہ غصے اور تکبر کا شکار ہو گا۔ صبر اور عاجزی میں تو روزے کا مزہ ہی اور ہے۔ روزہ ویسے بھی ایسی عبادت ہے ، جو دل، دماغ اور روح تینوں کو اپیل کرتی ہے۔ تینوں ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے یہ ان عبادتوں میں سے ہے جن کا پھل سختیوں میں زیادہ مزیدار محسوس ہوتا ہے ۔

میرے سکول سے نکلتے نکلتے ظہر کی اذان ہو چکی تھی، اور میں نے نماز پڑھ کر نکلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ صبح سے بول بول کر، اور سن سن کر زبان اور منہ کا ذائقہ کچھ بدلا بدلا سا تھا۔ وضو کا پانی پڑ تو جسم پر رہا تھا، ہاتھوں، بازؤوں اور چہرے پر، لیکن اس کا ذائقہ منہ میں محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جسم کا ایک ایک بال پیاسا ہو، اور وضو سے پیاس بجھا رہا ہو۔ بڑا مزہ آیا وضو کرنے کا۔ گرمیوں میں ویسے بھی وضو دوگنا مزہ دیتا ہے۔ بندے کو فکر ہی نہیں ہوتی کہ نمی کتنی دیر برقرار رہے گی، اور چھینٹوں سے بھیگنے والے کپڑے کتنی دیر میں خشک ہوں گے۔

میں نے بڑے سکون سے نماز ادا کی۔ میں اللہ تعالیٰ اور انسان کے علم کا موازنہ کر رہا تھا، کتنا کم علم ہے انسان کے پاس، اور سوچ رہا تھا، کہ انسان کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم پر بھروسہ کرنا چاہئے، اور یہی کام انسان سب سے آخر میں کرتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بات تو بندہ یہ سوچ کر ہی مان لے، کہ اس کے پاس علم زیادہ ہے، لیکن انسان کسی نہ کسی بہانے، بات ماننے سے انکار کرتا ہی رہتا ہے، اور مانتا اسی وقت ہے جب اسے کچھ نہ کچھ علم آ جاتا ہے۔

میں ظہر پڑھ کر باہر نکلا تو دوپہر کی دھوپ اور تمازت اپنے عروج پر تھی۔ صبح سے ہم کمروں میں بیٹھے تھے، اور باہر کی تپش اور لو کا کچھ اندازہ ہی نہیں تھا۔ اب جو اس میں نکلے تو پتہ چلا، کہ اپریل کا مہینہ ہونے کے باوجود لو مئی کے مہینے سے کم نہ تھی۔ میں جب پل سے گزر رہا تھا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سورج واقعی سوا نیزے پر آ گیا ہو۔ دھوپ اتنی تیز محسوس ہو رہی تھی، کہ جوتوں کے اندر سے میرے پاؤں کے ناخن تک جل رہے تھے۔ مجھے راستے میں جہاں کہیں بھی پانی یا شربت، یا شکنجبین کی ریڑھی نظر آتی، میری پیاس میں اضافہ ہو جاتا۔ میں بس یہی سوچ کر حوصلہ دیتا رہا کہ شام کو افطاری میں شکنجبین بنانے کا کہوں گا جا کر۔

یہی روزے کا مزہ ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ پر یقین کا لطف ہے۔ اسی کا تو سارا اجر ہے، اور یہی تو ساری محبت ہے۔ یہی روحانیت ہے، اور یہی اللہ تعالیٰ کا قرب ہے۔ میں سوچ رہا تھا روحانیت کا مطلب بڑا ثقیل ہو چکا ہے۔ روحانیت کا مطلب ترک دنیا، یا ترک خواہشات سے لے کر، آگ میں کودنے، پانی پر چلنے، یا شیر پر سواری کرنے جیسے کرتبوں کا نام ہی رہ گیا ہے۔ بہرحال ان کرتبوں کا تو مجھے کچھ پتہ نہیں، لیکن اتنا پتہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بندے کا روزہ رکھنا اور پھر صبر کرنا، چوری چھپے بھی پانی نہ پینا، دو گھونٹ بھی پانی نہ پینا، کہ اللہ دیکھ رہا ہے، دراصل روحانیت ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہی روحانیت ہے، یہی اللہ کا قرب ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر، سمیع و بصیر، علیم و خبیر، سب کچھ مان رہا ہوتا ہے۔ اور یہی روزے کا مقصد ہے۔ جس طرح ہم روزے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرتے ہیں، اسی طرح روزے سے باہر بھی کرنے لگیں تو اللہ کے دوست بن جائیں۔
میں سوچ رہا تھا دھوپ بہت زیادہ ہے، پرسوں سارا کو کہوں گا کوئی گلوز لے لے، ہاتھوں کی سکن جھلس جائے گی۔ میں دیکھ رہا تھا میرے بازؤوں کا رنگ سیاہ پڑ چکا ہے۔ ان پر چمکنے والے سنہری بال کہیں غائب ہو چکے ہیں۔

لیکن روزے کا مزہ ابھی باقی تھا۔ میں گھر پہنچا تو موٹر سائیکل اندر کرتے ہوئے جو سکون کا احساس ہوا، جو ٹھنڈک محسوس ہوئی، اس کا مزہ بس ایک روزہ دار ہی جان سکتا ہے۔ دل کرے کوئی ٹھنڈے پانی کا گلاس ہو تو کیا ہی بات ہے۔ صندل کا شربت ہو تو کیا کہنے۔ کوئی روح افزا ہو، کوئی شکنجبین ہو تو بات ہی بن جائے۔ لیکن ہر بار یہی خیال آتا کہ نہیں روزہ ہے، افطاری میں دیکھوں گا کچھ مل جائے۔
میں کپڑے چینج کر کے منہ ہاتھ دھونے چلا گیا۔ کلی کرتے ہوئے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے خشک مٹی پر پانی ڈال دیا ہو کسی نے، جیسے دھوپ میں جلی ہوئی گرم اینٹوں پر پانی ڈال دیا ہو کسی نے۔ لیکن محبت تو محبت ہے۔ میں نے کلی کا پانی باہر پھینکا تو مجھے محسوس ہوا جیسے میرے اندر کوئی خوشی سے ہنس رہا ہے ۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ میرے بھی ہونٹوں پر پھیل گئی۔
”یا اللہ تیری بڑی مہربانی“ میں نے پتہ نہیں کس مہربانی کا شکر ادا کیا۔

پنکھے کے نیچے کھڑے ہو کر ایسے محسوس ہو رہا تھا، جیسے پنکھے میں نیند کی دوا ہو۔ دل کر رہا تھا وہیں لیٹ جاؤں۔
یہ سب روزے کے مزے تھے، روزے کی بہاریں تھیں، روزے کی برکتیں تھیں، یہ اور ایسے ہی کئی دوسرے احساسات۔
مجھ پر غنودگی طاری ہو رہی تھی، لیکن میں نے ابھی کچھ پڑھنا تھا۔ میں ابھی سو نہیں سکتا تھا۔ مجھے پتہ تھا میں ابھی لیٹ گیا تو کیسا مزہ آئے گا، لیکن میں ابھی لیٹ نہیں سکتا تھا، میں نے کچھ پڑھنا تھا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کے احساسات سے لطف اندوز ہونے کی خوش بختی عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *