ہم میں سے ہر کوئی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں بہت اچھا مسلمان ہوتا ہے

ہم میں سے ہر کوئی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں بہت اچھا مسلمان ہوتا ہے، کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں، کوئی ادھیڑ عمر میں، کوئی بڑھاپے میں، لیکن ہر کوئی اپنی عبادتیں چھوٹنے، نمازیں ضائع ہونے، اور تلاوتیں بھولنے کے تجربے سے بھی گزرا ہی ہوتا ہے کسی نہ کسی حد تک۔ ہمیں اپنی عبادتوں سے بڑی محبت ہوتی ہے، لیکن پھر اچانک سے کوئی واقعہ پیش آتا ہے

، اور ہم دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ کھو دیتے ہیں۔ نہ محبت باقی رہتی ہے، نہ عبادتیں۔ بعض بدصورت لمحوں میں تو اپنے آپ پر ہنسی بھی آتی ہے، کہ کیا کرتے رہے۔ لیکن اکثر یہ جدائی کا دور بڑا اذیت ناک ثابت ہوتا ہے۔ بندہ ذرا ذرا سی بات پر تڑپنے لگتا ہے۔ اسے اپنی کوئی نہ کوئی نماز، کوئی نہ کوئی تلاوت یاد آتی رہتی ہے، اور وہ روتا رہتا ہے۔

جدائیاں ساری ہی تکلیف دہ ہوتی ہیں، لیکن عبادتوں کی جدائی بھی کچھ کم تکلیف دہ نہیں ہوتی۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو یہ سب سے تکلیف دہ جدائی ثابت ہوتی ہے۔
کیسی بے بسی اور اذیت کا دور ہوتا ہے یہ دور بھی۔ بندہ مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک سرد آہ بھرتا ہے، اور سوچتا ہے کبھی وہ بھی ان نمازیوں میں شامل تھا، کبھی وہ بھی ایسے ہی رکوع و سجود میں مشغول تھا۔ بندہ کسی نماز کی اذان سنتا ہے، اور سوچتا ہے کتنے خوش بختی سے بھرے ہوئے دن تھے، جب وہ اذان سنتے ہی مسجد کی طرف چلا جاتا تھا، اذان سنتے ہی نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا تھا۔ بندہ اپنی بک شیلف میں رکھے ہوئے قرآن پاک کو دیکھتا ہے اور اس کا دل رونے لگتا ہے۔ کیا اب وہ کبھی بھی قرآن پاک نہیں پڑھے گا، کیا کبھی بھی وہ دن نہیں آئیں گے، جب اسے قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی فرصت ملے گی۔
بس یہ دور ایسے ہی گزرتا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی اس دور کا کسی نہ کسی حد تک تجربہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو، ہر عبادت گزار دل کو اس دور سے، اس جدائی سے محفوظ رکھے، آمین۔

لیکن اس جدائی کی وجوہات کیا ہوتی ہیں، کیا ان وجوہات کا علم ہمیں اس جدائی سے بچنے، یا اس سے نکلنے میں کوئی مدد پہنچا سکتا ہے۔ بس یہی سوچ کر کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
ایک بندے سے میری ملاقات رہی ہے کچھ عرصے تک۔ وہ بندہ اس جدائی میں مبتلا تھا۔ وہ اکثر تاسف سے ہاتھ ملتا، اور کہتا بس ایک جملہ نکل گیا تھا منہ سے۔ سب کچھ بدل گیا پھر اس کے بعد۔ بیچارہ اپنے گھٹنے پر ہاتھ مارتا، اور بے بسی سے ادھر ادھر دیکھنے لگتا۔

”بس وہ جملہ منہ سے نکلنے کی دیر تھی، کہ دل سخت ہو گیا“ وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا۔
اس کے دل کی حالت کا تو علم اللہ تعالیٰ کو ہی بہتر ہو گا، کہ وہ پہلے کیسا تھا اور بعد میں کیسا تھا، لیکن میں بہرحال بڑا کانپ اٹھتا۔ وہ بندہ اسے رجعت کہتا تھا۔ بڑا تڑپا وہ بندہ، بڑا پھرا، کہ کسی طرح کوئی اس کا علاج کر دے، لیکن افسوس۔
بہرحال، اس بندے کے معاملے میں تو منہ سے کوئی غلط جملہ نکلنا ہی وجہ بنا ہو گا، لیکن میرا خیال ہے، کہ عبادتوں سے جدائی، بندے کی ترجیحات بدلنے سے بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ عبادتوں میں استقامت، اور خضوع و خشوع، اور لذت اور حلاوت، بہرحال اتنے آسان نہیں لینے چاہئیں، کہ جب چاہے پیدا ہو جائیں گے، اور جس مرضی حال میں آپ چلے جائیں، جب واپس آئیں گے، تو پھر وہی سب کچھ ملنے لگے گا، ایسا نہیں بھی ہو سکتا، بلکہ شائد اکثر ایسا نہیں ہی ہوتا۔ عبادتوں کی لذت اور استقامت ایک ایسی چیز ہے جو ترجیحات بدلنے سے ختم ہو جاتی ہے۔

ایک بندہ ہے اس کی مصروفیت بدل گئی ہے، اس نے چیزوں کو اہمیت دینا بدل لیا ہے، تو یقیناً اس کی عبادتیں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ ضروری یہی ہوتا ہے، کہ جب عبادتوں میں چاشنی محسوس ہونی شروع ہو جائے، اور ان کا انتظار رہنے لگے، تو پھر سمجھ لے، کہ پودا لگ گیا ہے، اور اب اسے اکھاڑنا یا اپنی مرضی کی جگہ پر لگانے کی کوشش کرنا، اسے ضائع بھی کر سکتا ہے۔ عقلمندی اسی میں ہوتی ہے، کہ اب جہاں جو جیسا ہو گیا ہے، اسے ویسے ہی رہنے دے، پرفیکشن کی خواہش یا اپنی مرضی کو ایک طرف رکھ دے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نمازوں اور تلاوتوں کی جدائی سے محفوظ فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *