زندگی کو آخرت کے تصور میں گزارنے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے

زندگی کو آخرت کے تصور میں گزارنے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے، کہ بندہ بہت سی آلائشات سے پاک رہتا ہے، وہ نفس اور معاشرے، اور شیطان کے بہت سے حربوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا رہتا ہے، کہ کون سی چیز غیر ضروری ہے، کون سی چیز کو چھوڑ دینے، دے دینے، پھینک دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ شائد بہتری ہو گی۔ اسے محسوس ہوتا رہتا ہے، کہ اس نے ایثار، قربانی، عفو و درگزر سے اپنے بہت سے فضول اور قبیح جذبات کو نکالتے رہنا ہے، اور طبیعت کے بہت سے امراض و فسادات کو ٹھیک کرتے رہنا ہے۔

ہمارے گھروں میں تین تہائی سے بھی زیادہ سامان بیکار ہوتا ہے، جس کی کسی بھی حوالے سے کوئی ضرورت نہیں پڑی ہوتی کبھی، جس کی ضرورت فضولیات سے بھی باہر ہوتی ہے، جو سیدھا سیدھا فساد اور خطوات شیطان کی اتباع ہوتا ہے۔ وہ فضول سامان، ہمارے اندر فضول سوچیں، فضول جذبات، فضول احساسات، فضول تصورات، فضول رویے، اور دیگر بے شمار فضول چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ ہمارے وقت اور ہماری توانائیوں کا ایک بہت بڑا حصہ فضول خرچ ہوتا رہتا ہے، اور ہمارے تعلقات بے بنیاد اور بیکار باتوں پر استوار ہوتے رہتے ہیں۔
ضرورت ہوتی ہے، اپنا فوکس آخرت پر قائم کرنے کی۔

ہم نے ہر چیز آخرت کے تناظر میں دیکھنی ہوتی ہے، کہ آخرت میں کون سی چیز فائدہ دے گی، کون سی چیز نقصان دے گی۔ آخرت کس طریقے سے بہتر ہو گی۔
اپنے گھروں کو صاف ستھرا اور سادہ رکھیں، اور ان پر مطمئن رہیں، آپ کی آخرت سنور جائے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں غیر ضروری چیزوں کے مضر اثرات کا احساس، اور ان سے اجتناب کرنے کی ہمت عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *