کون سی چیزوں کو پیسے سے اوپر رہنا چاہئے

پیسہ بہت ضروری سہی، اس کی بہت اہمیت سہی، لیکن ایمان سے زیادہ تو نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ چیزوں کو بہرحال پیسے سے اوپر رہنا چاہئے۔
کون سی چیزوں کو پیسے سے اوپر رہنا چاہئے، اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے، اور شائد آپ کا فیصلہ ہی ثابت کرے گا، کہ آپ کو دین، ایمان، آخرت، اللہ تعالیٰ کی رضا و قربت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت و شفاعت عزیز ہے یا پیسہ۔
کل میں حسن کے ساتھ بازار گیا ہوا تھا۔

واپسی پر ہم نے کھانا لینے کا سوچا۔ سوئی گیس نہ آنے کی وجہ سے زندگی کا نظام درہم برہم ہوا ہوا ہے۔ گیس کے چولہے کا ہمیں تجربہ نہیں ہے، اور ہیٹر پر ہمیں بجلی زیادہ خرچ ہونے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ جب کبھی تھوڑی سی گیس آتی ہے کسی وقت، میری بیوی کچی پکی ہنڈیا بنا لیتی ہے، اور پھر سارا دن وہی چلتی رہتی ہے۔ جب وہ بھی نہ ہو تو باہر سے روٹی لانی پڑتی ہے۔ شائد ہر جگہ پر ایسی ہی صورتحال ہے۔
گیارہ بارہ بجے کا ٹائم تھا۔ کھانے پینے والی دکانوں پر صبح کا ناشتہ تقریباً آخری دموں پر تھا۔

ہم ایک نان چنے والے کے پاس رک گئے۔ بڑی اونچی سی دکان تھی۔ کچھ سمجھ نہیں لگ رہی تھی، چنے کس طرح کے ہوں گے، شوربہ کیسا ہو گا۔ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں بڑا اکتاہٹ اور بیزاری سے کھڑا تھا۔
اتنے میں، میں نے دیکھا کوئی ستر سالہ بوڑھا، ایک سٹول کے پاس کھڑا چنے سے نان کھا رہا ہے۔ سٹول اس کے قد سے بہت چھوٹا تھا، اور بیٹھنے کے لئے کوئی دوسرا سٹول بھی نہیں تھا، وہ بہت مشکل سے جھکتے ہوئے نوالہ لگا رہا تھا۔ پھٹا پرانا سا، خاک آلودہ کوٹ اور داغدار اور میلا کچیلا لباس، وہ بوڑھا مزدور نہیں، کوئی اولاد یا حالات کا ستایا ہوا باپ یا گھر کا سربراہ لگ رہا تھا۔ مجھے ترس تو بہت آیا، لیکن میں اس کام میں انوالو نہیں ہونا چاہتا تھا۔ ایسے کاموں میں بولنے کا سیدھا سا مطلب کچھ ایکسٹرا پیسے خرچ کرنا ہی ہوتا ہے۔ اور پتہ نہیں اس کی ضرورت کتنی نکل آئے۔
اور پتہ نہیں وہ سفید پوش ہو، اور مدد نہ لیتا ہو۔

بہرحال اس ساری سچوایشن میں اس ضعیف آدمی نے، کوئی دو تین بار، یا اس سے بھی زیادہ بار، بڑی بیچارگی اور مسکنت سے میری طرف دیکھا۔ میں نے ایک دو بار تو نظریں چرائیں، لیکن ایک دو بار ایسا نہ کر سکا۔
میں اس کی پلیٹ میں بے رونق سے شوربے اور چند ایک تیرتے ہوئے چنوں کو دیکھ رہا تھا، اور اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے نان کو۔ بڑھی ہوئی شیو، اور آٹھ دس دن پرانے نہائے ہوئے بالوں کے پیچھے، اس معمر آدمی کے خدوخال بتا رہے تھے، کہ وہ پیدائشی طور پر غریب اور مسکین نہیں تھا، اس نے زندگی میں بہت سے اچھے دن دیکھے ہوئے تھے۔
اب جب اس نے میری طرف دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا۔

”پیسے میں دے دوں؟“ میں نے قریب ہو کر پوچھا۔
”دے دو تو بڑی مہربانی ہے“ اس نے جیب میں ڈالا ہوا لاغر سا ہاتھ باہر نکال لیا۔
”کتنے پیسے ہیں؟“
”پچاس روپے“۔
میں نے جیب سے نکال کر پچاس روپے دے دیے۔ اس نے وہ پچاس روپے دکاندار کو دیے، اور مجھے دعائیں دینے لگا۔
”اور پیسے لینے ہیں کچھ؟“ میں نے اس کی دعائیں سنی ان سنی کرتے ہوئے مزید پوچھا۔
”دے دو“۔
میں نے ایک سو روپیہ اور دے دیا۔
”اللہ تمہیں اور دے، اور زیادہ دے۔ اللہ کسی چیز کی کمی نہ رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔“۔
سچ تو یہ ہے کہ اس نے جتنی دعائیں دیں، میں انہیں توجہ سے سن نہیں سکا۔ لیکن مجھے لگا میرے دل کو اچھا لگا ہے، مجھے سکون ملا ہے۔

لیکن سکون شائد مجھے اس علم سے حاصل ہوا تھا جو اس کی دعائیں میرے اندر اجاگر کر گئیں۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا، کہ میں نے جو اس کی دعاؤں کو توجہ سے نہیں سنا، وہ اس معاشرتی رویے کی وجہ سے ہے، جو ہم جانے انجانے میں سیکھ لیتے ہیں، اور کبھی غور ہی نہیں کرتے، کہ ہم نے صحیح سیکھا ہے یا غلط۔ میں نے لوگوں کو دعائیں سن کر ایسے ہی بے اعتنائی برتتے ہوئے دیکھا تھا، اور میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ جیسے مجھے اس کی دعاؤں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جیسے اس کا دعائیں دینا یا نہ دینا میرے لئے برابر ہے۔

مجھے ایک دم محسوس ہوا میرا یہ بے اعتنائی برتنے والا رویہ بہت غلط تھا۔ مجھے اس کی دعاؤں کو توجہ سے سننا چاہئے تھا، اور اس کا ممنون ہونا چاہئے تھا۔ مجھے ڈیڑھ سو روپے کے عوض جو چیز مل رہی تھی، وہ بے مثل تھی، انمول تھی۔ اس کی قیمت شائد کروڑوں، اربوں کھربوں سے بھی زیادہ ہو۔ میرا ڈیڑھ سو روپیہ اس بوڑھے مسکین کی دعاؤں کا عشر عشیر بھی نہیں تھا۔

میرا دل چاہا میں رک جاؤں، میں کھڑا ہو جاؤں۔ مجھے کوئی بہت ہی قیمتی علم سے نوازا جا رہا تھا۔ لیکن مجھے حسن کے ساتھ باتیں بھی کرنی تھیں، اور ناشتہ لے کر گھر بھی آنا تھا۔ لیکن میرا دماغ اس علم کو بھی واضح کر رہا تھا، جو پوری طرح نہیں، تو ایک جھلک کی سی صورت میں مجھ پر آشکار ہوا تھا، اور اب چھپ رہا تھا۔
”اگر تم ڈیڑھ سو روپے کو، اس مسکین کی دعاؤں سے زیادہ قیمتی سمجھتے ہو، تو تیرے دل میں ایمان دولت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ تو دولت کو ایمان پر ترجیح دے رہا ہے۔ اگر تیرے دل میں ایمان اور آخرت کی قیمت، دنیا کی دولت سے زیادہ ہوتی، تو اس کی دعاؤں کو توجہ سے سنتا۔ تو انہیں اہمیت دیتا، اور ان پر اس کا مشکور ہوتا“۔
مجھے علم سکھانے والے کا طریقہ کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ مجھے اسی طرح سکھایا کرتا ہے۔ میں اسے جانتا ہوں۔ ظاہر ہے یہ ایک ہلکی پھلکی اور پیار بھری ڈانٹ تھی، اور اس کا مطلب صرف یہی تھا، کہ آئندہ ایسا نہیں کرنا، اور جہاں کہیں بھی دعائیں مل رہی ہوں، ان کو اہمیت دینی ہے، اور ان کی قدر کرنی ہے۔

ظاہر ہے اعمال کی رغبت، دعاؤں کی اہمیت سے جڑی ہوئی ہے۔ دعاؤں کی اہمیت کا احساس نہیں ہو گا، تو رغبت کہاں سے آئے گی۔
مجھے لگا ہم دعاؤں کو اہمیت نہ دے کر بہت غلطی کرتے ہیں۔ اگر آخرت کو ان دعاؤں کی ضرورت پڑ گئی تو کہاں سے ملیں گی یہ دعائیں۔
مجھے یاد آیا ہم کسی کی مدد کرتے ہیں، تو سمجھتے ہیں ہم نے جو کر دیا ہے، یہ آدمی جو مرضی کر لے، یہ ہمارے احسان کو اتار نہیں سکتا۔ وہ دعائیں دے، عاجزی کرے، احسان واپس چکا دے، ہم سمجھتے ہیں جو فوقیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے اس پر، وہ کم نہیں ہو سکتی، ختم نہیں ہو سکتی۔ ہم اس انسان کے ممنون اور مشکور ہونے کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتے، اس کے عاجزی اور احسانمدی میں جھکے ہوئے سر کو بھی کوئی عزت نہیں دیتے، اس کی دعاؤں کو تو سننا بھی گوارا نہیں کرتے، اسے دعائیں کرنے سے ہی روک دیتے ہیں، ہم کہتے ہیں ہمیں اس کی دعاؤں کی ضرورت نہیں ہے، ہم اس آدمی کا ہر حوصلہ، ہر امید، ہر کوشش چھین لیتے ہیں، ہم اسے اپنے احسان سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں دیتے۔

اگر ہم اس کی دعاؤں کو، اپنی مدد یا اپنے پیسے سے زیادہ قیمتی سمجھنے لگیں، جو کہ قیمتی ہیں، تو ہم اسے ممنون اور مشکور ہونے پر مجبور کرنے کی بجائے، خود اس کے ممنون اور مشکور محسوس کریں۔
میں حسن سے پتہ نہیں کون سی باتیں کرتا ہوا گھر آ گیا، لیکن میرے دل و دماغ میں کوئی اور ہی دروازہ کھل رہا تھا۔
”اگر اس مسکین کی دعاؤں کی کوئی اہمیت ہو گی، تو وہ ڈیڑھ سو روپے سے یقیناً بہت زیادہ ہو گی۔ احسان تو پھر اس مسکین نے مجھ پر کیا ہے“ میں نے موٹر سائیکل اندر کرتے ہوئے، آخری نتیجہ نکالا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *