بندے کے قیمتی احساسات میں سے ایک اس کا نیک ہونے کا احساس بھی ہے۔

بندے کے قیمتی احساسات میں سے ایک اس کا نیک ہونے کا احساس بھی ہے۔ اپنی نیکی محسوس کرنے، یا اپنے آپ کو نیک محسوس کرنے کا احساس ایک خوبصورت احساس ہے۔ بندہ نہا دھو کر کپڑے پہنے، خوشبو لگائے، اور سر پر ٹوپی رکھے، جمعہ پڑھنے جائے، اور واپسی پر اپنے آپ کو اچھا اچھا سا محسوس کرے، یہ کوئی معمولی احساس نہیں ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عنائت ہے۔ بس یہی احساس ہے جو اسے گندگی، خباثت، نجس، رجس، پلیدی، خرابی، یبوست، کراہت، گھن، اور ایسے ہی دوسرے احساسات کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔ بندے کو اچھے اور برے احساسات کا، اچھائی اور برائی کا، پاکیزگی اور پلیدی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ بندے کو پارسائی اور گناہوں کا احساس ہونے لگتا ہے، تقویٰ اور فجور کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اگر کسی کو نیکی کے اچھے احساس اور برائی کے برے احساس کی پہچان نہیں ہوتی، تو وہ نیکی کی طرف مائل اور برائی سے گریز کرنے والا بھی نہیں بن پاتا۔
نیک بننا انسان کا اصل مقصد ہے، ایک ایسا مقصد جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موصول ہوا ہے، لیکن انسان اس مقصد کا اظہار نہیں کرتا، اسے اپنا مقصد بتاتے ہوئے شرماتا ہے۔

ایک دن میں نے اپنے ایک دوست سے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں، میں ایک نیک انسان بن جاؤں، نیک سے نیک، اور نیک، اور نیک، بس نیکی میں ترقی کرتا جاؤں، تو وہ حیرانی سے دیکھنے لگا۔ میں نے کہا آخر اتنے اچھے مقصد کا اظہار کرنا اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔ کیا نیک بننا کسی کی زندگی کا مقصد نہیں ہو سکتا، کیا سیرت مطہرہ پر عمل پیرا ہونا کسی کی زندگی کا لائحہ عمل نہیں ہو سکتا۔ کیا تلاوتوں سے لطف اندوز ہونا کسی کا شوق نہیں ہو سکتا۔
یہ باتیں میں نے کی بھی، اور کرنے کی کوشش بھی کی۔
میں انہیں سوچنے بھی لگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی اور پرہیزگاری کو بھی زندگی کے مقاصد میں شامل کرنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *