زندگی جس طرح گزر رہی تھی، گزارتے جائیں، لیکن اپنے دل میں اس محبت کی آبیاری کرنے لگیں۔

اگر آپ کے خیال میں آپ کو اپنی زندگی کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوا، کوئی مصرف نہیں ملا، اگر آپ کے خیال میں آپ کی زندگی ضائع ہو چکی ہے، اور آپ کو کسی کام میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اگر آپ کے خیال میں آپ کو کوئی محبت نہیں ملی، کوئی مخلص نہیں ملا، کوئی وفادار نہیں ملا، بس دھوکا ہی دھوکا ہوا ہے، تو آئیے میں آپ کو ایک کام بتاتا ہوں، ایک مقصد دیتا ہوں، ایک آسرا دیتا ہوں۔

آپ اللہ تعالیٰ سے محبت ڈال لیں،
اگر آپ کو لگتا ہے آپ اس کے لائق نہیں ہیں، تو یہ اور بھی اچھی بات ہے،
اگر آپ کو لگتا ہے آپ کو کوئی رسپونس نہیں ملے گا، تو پھر تو ضرور ڈالیں،
اگر آپ کو لگتا ہے آپ مخلص نہیں ہیں، تو لازمی ڈالیں،

اللہ تعالیٰ سے محبت ڈال لیں، بس ایسے ہی،
آپ سب کچھ تو پہلے ہی ہار چکے ہیں، دنیا سے آپ کو نہ کچھ ملا ہے، اور شائد نہ ہی کچھ ملنے والا ہے،

اللہ تعالیٰ سے محبت ڈال لیں،
اسے بتا دیں کہ آپ اس سے سچی محبت نہیں کر سکتے،

اسے اپنی ساری خامیاں بتا دیں،
اسے بتا دیں کہ آپ پرفیکٹ نہیں ہیں، اسے بتا دیں کہ آپ بس ایسے ہی ہیں،
بس جو جو کچھ بھی آپ کے دل میں ہے، جو جو کچھ بھی آپ کے تحفظات ہیں، اسے سب بتا دیں۔ وہ آپ سے کتنی توقع رکھے، آپ اس کے لئے کیا کچھ کر سکتے ہیں، کر سکتے بھی ہیں یا نہیں، کرنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ سب کچھ سچ سچ بتا دیں۔ بالکل نہ شرمائیں، بالکل نہ گھبرائیں۔ اسے کہیں آپ کو کوئی زندگی کا مقصد اور آسرا چاہئے، اس لئے آپ اس سے محبت کرنا چاہتے ہیں، بس اور کچھ نہیں۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ اسے کہیں وہ آپ کو محبت کرنے کی تھوڑی سی مہلت دے دے۔ اگر رسپانس نہیں دینا چاہتا تو نہ دے، لیکن آپ کو محبت کرنے دے۔

ایک دو دنوں میں، اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کو اجازت مل گئی ہے، تو عاشقوں والے چھوٹے موٹے کام شروع کر دیں۔ خوبصورت مسجدوں، نمازیں پڑھتے مسلمانوں، اور مختلف زمانوں میں لکھے ہوئے، اور مختلف پبلشرز کے چھپے ہوئے قرآن پاک کے نسخوں کی تصویریں دیکھنے لگیں، اگر دل کرے تو مسجدوں میں چلے جائیں، قرآن پاک کا کوئی صفحہ کھول کر پڑھ لیں، ورنہ تصور ہی تصور میں عاشقوں والی دو چار باتیں کریں، اور سو جائیں۔

محبوب کو متاثر کرنے کے لئے جو بھی بچگانہ اور بیوقوفانہ حرکتیں، آپ اوائل عمری میں، اپنی مجازی محبت میں کیا کرتے تھے، اس حقیقی محبت میں بھی کرنے لگیں۔ وہی شعر پڑھیں، وہی تصور کریں، اور ویسے ہی ڈائیلاگ بولیں۔ کبھی کپڑے پہن کر توجہ لینے کی کوشش کریں، اور کبھی پرفیوم لگا کر۔

زندگی جس طرح گزر رہی تھی، گزارتے جائیں، لیکن اپنے دل میں اس محبت کی آبیاری کرنے لگیں۔ بس اور کچھ نہیں۔ زندگی کا مقصد بھی مل جائے گا، اور زندگی خوبصورت بھی لگنے لگے گی۔ آپ خوش رہنے لگیں گے، اور آپ کا دل کرے گا آپ زندہ رہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے شب و روز اپنی محبت کے احساس میں گزارنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *