اگر کوئی اپنے آپ کو گنہگار سمجھتا ہے

اگر کوئی اپنے آپ کو گنہگار سمجھتا ہے، لیکن اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرتا، تو اس کا اپنے آپ کو گنہگار سمجھنا معاشرے کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
کئی بار تو لوگ اپنے آپ کو گنہگار کہہ کر گناہ کرنے کا بہانہ تلاش کر لیتے ہیں، یہ بیچارے دل کے کھوٹے ہوتے ہیں، اور شائد بے خبر بھی۔

اپنے آپ کو گنہگار کہنے والے، بھولپن میں ہی سہی، لوگوں کی نیکیوں پر تنقید کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ لوگوں کو نیک کاموں سے روکنے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے میں انہیں کوئی باک محسوس نہیں ہوتا۔
یہ لوگ نہ صرف خود قرآن پاک کو ہاتھ لگانے سے ڈرتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی ڈراتے ہیں۔ ان کی نیت صاف ہوتی ہے۔ بس یہ سمجھتے ہیں یہ قرآن پاک کو چھونے کے مستحق ہی نہیں ہیں، لائق ہی نہیں ہیں۔ یہ دوسروں کو بھی یہی بتاتے ہیں، کہ وہ بھلا اللہ تعالیٰ کے کلام کو چھونے اور اسے سمجھنے کے لائق کس طرح سے ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح ان کا خیال ہوتا ہے، کہ ان کے گنہگار ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے، اور انہیں نماز پڑھنے کی توفیق نہیں دے رہا۔ یہ توفیق کو سونے جاگنے کا سا عمل سمجھتے ہیں، جو قدرتی طور پر ہو جانا چاہئے۔ یہ بیچارے رات دن اسی فکر میں گھلے جاتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے، اور پتہ نہیں کس طرح سے مانے گا۔ ان لوگوں کو نماز قبول نہ ہونے کی بہت سی علامتیں معلوم ہوتی ہیں، اور یہ دوسروں کی نماز قبول نہ ہونے کی علامتوں سے بھی واقف ہوتے ہیں۔

ان بیچاروں کو سب سے بڑا خوف ریاکاری کا ہوتا ہے، اور یہ اپنے کسی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو ریاکاری سے بچانے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولتے جائیں گے۔
یہ کسی بھی حال میں اپنے آپ کو اچھا انسان سمجھنے سے ڈرتے ہیں۔
ان کے خیال میں اپنے آپ کو اچھا انسان سمجھنا غرور اور تکبر میں شامل ہے۔
یہ دوسروں کی تکلیفوں کو ان کے غرور اور تکبر کی سزا سمجھتے ہیں، اور بعض دفعہ انہیں بتا بھی دیتے ہیں، کہ انہیں ان کے کسی گناہ، یا کسی متکبرانہ بول کی سزا ملی ہے جو ان پر یہ تکلیف آئی ہے، ورنہ تو کوئی وجہ نہیں تھی اس تکلیف کے آنے کی۔
انہیں کوئی اچھی بات منہ سے نکالتے ہوئے خوف آتا ہے کہ وہ پوری نہیں ہو گی۔ انہیں خوشبو لگانے سے ڈر لگتا ہے کہ جن چمٹ جائیں گے، انہیں نظر بد لگنے کا ڈر ہوتا ہے، انہیں کالے جادو کا ڈر رہتا ہے ہر وقت، انہیں اپنے ارد گرد بسنے والے تمام لوگ اپنے دشمن نظر آتے ہیں، اور یہ کبھی نماز پڑھ لیں، تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو دشمن سمجھ کر ان سے پناہ مانگنے میں لگے رہتے ہیں۔
ان کے خیال میں لوگ دین سے نکل چکے ہیں، اور دنیا میں اسلام کا نفاذ پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

ان کے خیال میں ان کے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، کہ آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ان کی شفاعت فرما دیں۔

عام طور پر تو ان بیچاروں کو کوئی نیک انسان نظر ہی نہیں آتا، لیکن اگر کوئی آ بھی جائے، تو یہ کہتے ہیں، وہ تو نیک انسان ہے، اللہ کا برگزیدہ اور دوست ہے، وہ تو نیکی کر سکتا ہے، لیکن یہ بھی اس کے جیسے کیسے ہو سکتے ہیں، یہ بھلا اس کے جیسی نیکی کس طرح کر سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں مسجد میں نماز پڑھنے والے چند لوگ، اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں، اور ان کی طرح کے گنہگار نہیں ہیں۔ اگر یہ بھی گنہگار نہ ہوتے، یا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہوتی، تو یہ بھی ان کی طرح سے نماز پڑھ رہے ہوتے۔

یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کسی سنت یا اسوہ حسنہ پر عمل کرنے سے بھی یہ سوچ کر باز رہتے ہیں، کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے، یہ بھلا ان کے جیسے کیسے ہو سکتے ہیں، کہ ان کا کوئی عمل دہرا سکیں۔

ایسے لوگوں پر ترس تو بہت آتا ہے، یہ ہوتے بڑے معصوم سے ہیں، لیکن سمجھ نہیں آتی ان کے لئے کیا کیا جائے۔ یہ کسی صورت بھی اپنے آپ کو اچھا انسان سمجھنے پر تیار نہیں ہوتے، اور نہ ہی اپنے آپ کو بہتر بنانے کا لائق اور حقدار سمجھنے پر راضی ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت کے ان سادہ لوح مسلمانوں کے دل عمل اور مجاہدے کی طرف مائل کرے، اور بہتری کی کوشش پر اکسائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *